مالیگاؤں میں کانگریس کو چراغ جلانے والا بھی نہیں ملے گا:اعجاز بیگ

 ​مالیگاؤں میں کانگریس کو چراغ جلانے والا بھی نہیں ملے گا،ایم پی شوبھا تائی بچھاؤ پر توڑی بازی کا الزام


 دباؤ کے چلتے مجھکو کانگریس کی صدارت سے ہٹایا گیا:اعجاز بیگ


عمران انجینئر اور یوسف نیشنل پر شدید تنقید،صرف ایم پی کی جی حضوری میں صدارت ملی 




مالیگاؤں کانگریس پارٹی کے صدر کا عہدہ تبدیل!


​مالیگاؤں : 17 جولائی (بیباک نیوز اپڈیٹ)مالیگاؤں کانگریس میں سیاسی ہلچل اس وقت شدت اختیار کر گئی جب کانگریس کے مقامی صدر اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین اعجاز بیگ نے سوشل میڈیا پر چلنے والی ان افواہوں کی تصدیق کر دی جس میں عمران انجینئر کو نیا شہر صدر بنائے جانے کا تذکرہ تھا۔ اعجاز بیگ نے موجودہ رکن پارلیمنٹ (ایم پی) شوبھا تائی بچھاؤ، مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال اور دیگر مقامی رہنماؤں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کئی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ 


 میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعجاز بیگ نے الزام لگایا کہ مالیگاؤں کی ایم پی شوبھا تائی بچھاؤ کافی دنوں سے انہیں صدارت کے عہدے سے ہٹانے کی کوششوں میں مصروف تھیں اور بالاخر وہ اس میں کامیاب ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ شوبھا تائی نے مسلمانوں کے ووٹ لے کر کامیابی تو حاصل کی، لیکن ڈھائی سال کے عرصے میں انہوں نے مالیگاؤں کے مسلمانوں کے لیے کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا۔  اعجاز بیگ نے مزید الزام لگایا کہ ایم پی جب بھی مالیگاؤں آتی ہیں، وہ صرف سرکاری ریسٹ ہاؤس میں بیٹھتی ہیں اور افسران کو بلا کر دھمکیاں دیتی ہیں اور مبینہ طور پر مالی فائدے و توڑی بازی کے لیے کام کرتی ہیں۔ انہوں نے کریشر سیل کرنے اور ٹھیکیداروں کو پریشان کرنے جیسے معاملات کا بھی حوالہ دیا۔ ​اعجاز بیگ نے مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ شاید مہاراشٹر میں کانگریس کو ڈبونے کے لیے صدر بنے ہیں، کیونکہ انہوں نے عوامی آواز کے برعکس ایم پی کے دباؤ میں آکر فیصلہ کیا۔ انہوں نے عمران انجینئر اور یوسف نیشنل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ صرف ایم پی کی جی حضوری (چپل اٹھانے) کی وجہ سے صدارت پانے میں کامیاب ہوئے ہیں، جبکہ ان کی اپنی عوامی مقبولیت اتنی بھی نہیں کہ وہ 10 لوگ جمع کر سکیں۔ 


جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کانگریس چھوڑ رہے ہیں، تو اعجاز بیگ نے کہا کہ وہ کسی کی ماتحتی میں کام نہیں کر سکتے۔ وہ جلد ہی اپنے حامیوں اور گزشتہ 4 سالوں سے ان کا ساتھ دینے والے کارکنان کی ایک میٹنگ بلائیں گے اور ان کی رائے کے بعد کانگریس میں رہنے یا نہ رہنے کا حتمی فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ خود اپنے دم پر الیکشن جیت کر آئے ہیں اور اس وقت اسٹینڈنگ کمیٹی کے چوتھی بار چیئرمین ہیں، اس لیے صدارت جانے سے ان کی سیاسی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔​جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر وہ پارٹی چھوڑتے ہیں تو ان کے گھر کے تین کارپوریٹرز کے خلاف پارٹی کیا ایکشن لے گی؟ تو انہوں نے چیلنجنگ انداز میں کہا کہ "ان کا باپ بھی کوئی ایکشن نہیں لے سکتا، کیونکہ وہ تینوں کارپوریٹرز میرے اپنے گھر کے لوگ ہیں"۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس فیصلے کے بعد مالیگاؤں میں کانگریس کا نام و نشان مٹ جائے گا اور یہاں پارٹی کا چراغ جلانے والا بھی کوئی نہیں بچے گا۔اعجاز بیگ نے مالیگاؤں کے مسلمانوں کی موجودہ حالتِ زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے کئی لوگ مہینوں سے جیلوں میں بند ہیں، لیکن ایم پی نے کبھی وزیر اعلیٰ کے پاس جا کر ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے ایم پی شوبھا تائی بچھاؤ کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ وہ مالیگاؤں میں کارپوریٹر کا الیکشن لڑ کر دکھائیں، وہ اپنی اہلیہ کو ان کے مدِ مقابل کھڑا کریں گے اور انہیں شکست دے کر دکھائیں گے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے