ٹی ای ٹی پیپر لیک کیس:بھیونڈی پولس کی پریس کانفرنس، تین گرفتار ملزمین کا تعلق دہلی، بہار اور ہریانہ سے ،جانچ کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل
ایم ایل اے و ایم پی توڑنے والی سرکار کے دور میں پیپر لیک ، اپوزیشن کی حکومت پر تنقید، سخت کارروائی کا مطالبہ
بھیونڈی : 27 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ) مہاراشٹر میں ایک بار پھر امتحانی نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ٹی ای ڈی (TET) پیپر لیک معاملہ میں بھیونڈی پولیس نے اہم کارروائی کرتے ہوئے تین افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں بھیونڈی پولیس کی جانب سے ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں معاملہ سے متعلق کئی اہم انکشافات کیے گئے اور تفتیش کی پیش رفت سے میڈیا کو آگاہ کیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے ملزمین کا تعلق دہلی سے بتایا گیا ہے، جبکہ ان میں سے ایک شخص بہار کا رہنے والا اور بقیہ دو افراد ہریانہ کے ساکن بتائے گئے ہیں۔ ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمین امتحانی پرچہ غیر قانونی طریقہ سے حاصل کرکے اسے مخصوص امیدواروں تک پہنچانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔پولیس کے مطابق گرفتار شدگان کے قبضہ سے کئی اہم اشیاء برآمد ہوئی ہیں، جن میں موبائل فون، بیگ، سوالیہ پرچہ، ڈیبٹ کارڈ، کریڈٹ کارڈ اور دیگر ضروری لوازمات شامل ہیں۔ تمام برآمد شدہ اشیاء کو ضبط کرکے فارینسک اور تکنیکی جانچ کے لیے بھیجا جا رہا ہے تاکہ اس پورے معاملہ کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔
پریس کانفرنس کے دوران پولیس حکام نے بتایا کہ بھیونڈی کے ڈی سی پی پون بنسوڑ کو اس معاملہ سے متعلق خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی۔ اطلاع ملتے ہی ان کی ہدایت پر پولیس ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ افراد پر نظر رکھی اور بعد ازاں انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بروقت کارروائی کی وجہ سے اس معاملہ کے کئی اہم سراغ ہاتھ لگے ہیں۔پولیس نے مزید بتایا کہ TET پیپر لیک معاملہ کی مکمل اور گہرائی سے جانچ کی جائے گی اور اس سلسلہ میں ڈی سی پی پون بنسوڑ کی قیادت میں تین خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ یہ خصوصی ٹیمیں مختلف زاویوں سے تحقیقات کریں گی تاکہ اس پورے نیٹ ورک کے پس پردہ موجود افراد اور ممکنہ رابطوں تک پہنچا جا سکے۔
دوسری جانب اس معاملہ پر سیاسی حلقوں میں بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن لیڈران امبا داس دانوے اور روہت پوار نے مہاراشٹر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح موجودہ حکومت ایم ایل اے اور ایم پی توڑنے میں مصروف ہے، اسی طرح موجودہ دور حکومت میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات بھی مسلسل سامنے آ رہے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ شاید کبھی ختم نہ ہو۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس معاملہ کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور اس پورے ریکیٹ سے وابستہ افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ طلبہ کے مستقبل کے ساتھ ہونے والے کھلواڑ کو روکا جا سکے۔واضح رہے کہ اس واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد طلبہ اور والدین میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ عوامی سطح پر امتحانی نظام کو مزید شفاف اور محفوظ بنانے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com