بلدیاتی انتخابات میں دو بچوں کی شرط غیر معقول اور بیکار" سپریم کورٹ کے تاریخی تبصرے سے سیاست میں ہلچل

 "بلدیاتی انتخابات میں دو بچوں کی شرط غیر معقول اور بیکار" سپریم کورٹ کے تاریخی تبصرے سے سیاست میں ہلچل




 عدالت کا قانون کے جواز پر سوالیہ نشان،​"اب دو بچوں کی شرط کی کیا ضرورت؟ ملک میں شرحِ پیدائش اب پہلے جیسی نہیں رہی: سپریم کورٹ"


بلدیاتی  انتخابات میں دو بچوں کی شرط غیر معقول اور بیکار" سپریم کورٹ



نئی دہلی : 16 جولائی (بیباک نیوز اپڈیٹ) سپریم کورٹ نے پنچایت انتخابات میں امیدواروں کی اہلیت کے لیے نافذ 'دو بچوں کی شرط' پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر معقول قرار دے دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے طویل عرصے سے چلے آ رہے اس قانون پر پہلی بار سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک کی موجودہ آبادیاتی صورتحال (Demographic Scenario) میں اب اس پالیسی کا برقرار رہنا بالکل بھی مناسب نہیں ہے۔​یہ اہم تبصرہ سپریم کورٹ کے جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک ارادھے پر مشتمل بنچ نے مہاراشٹر سے وابستہ ایک کیس کی سماعت کے دوران کیا۔ مذکورہ کیس کاکڑا گرام پنچایت کی سابق سرپنچ منگلا انگلے سے متعلق ہے، جنہیں تیسری اولاد کی پیدائش کے باعث مہاراشٹر گرام پنچایت ایکٹ کے تحت رکنیت سے نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ ممبئی ہائی کورٹ نے قانون کے مطابق ان کی نااہلی کو برقرار رکھا تھا، جس کے بعد انہوں نے انصاف کے لیے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔




سپریم کورٹ میں ​سماعت کے دوران بنچ نے ملکی سطح پر گرتی ہوئی شرحِ پیدائش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "دو بچوں کی شرط اب اپنی افادیت کھو چکی ہے اور بیکار ہو گئی ہے۔ بھارت میں آبادی بڑھنے کی شرح میں نمایاں کمی آ چکی ہے، ایسی صورتحال میں یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ کیا اب بھی اس شرط کی کوئی ضرورت باقی رہ گئی ہے؟" عدالت نے مزید کہا کہ بدلتے ہوئے حالات میں ایسے قوانین کا ازسرنو جائزہ لیا جانا وقت کا اہم تقاضا ہے۔​عدالتِ عظمیٰ نے اس قانون کے منفی سماجی و سیاسی اثرات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ 



بنچ نے نوٹ کیا کہ مہاراشٹر سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں یہ قانون اب عوامی فلاح یا آبادی پر قابو پانے کے بجائے سیاسی انتقام کا ایک خطرناک ہتھیار بن چکا ہے۔ مقامی سطح پر کئی باصلاحیت اور مقبول امیدواروں کو سیاسی طور پر نشانہ بنانے اور انہیں انتخابی دوڑ سے باہر کرنے کے لیے اس قانون کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔​سپریم کورٹ نے اس معاملے کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر مزید تفصیلی غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عدالت اس شرط کو مستقل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کرتی ہے،تو یہ انتخابی سطح پر خواتین اور دیگر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا،جو اکثر اس سخت خاندانی پالیسی کی زد میں آ کر اپنی قیادت کے حق سے محروم ہو جاتے ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے