مالیگاؤں:میونسپل اسکول کے ٹیچر کی اچانک موت، سٹی پولیس اسٹیشن پہنچے اساتذہ، کیا احتجاج !



مالیگاؤں:میونسپل اسکول کے ٹیچر کی اسکول میں ہی ہوئی اچانک موت، سٹی پولیس اسٹیشن پہنچے اساتذہ!، کیا احتجاج 



ناسک کی ٹیموں کی بار بار تفتیش اور مبینہ ہراسانی پر سنگین سوالات،ایف آئی آر درج نہ ہوئی تو میت وزیرِ تعلیم کے دفتر لے جانے کی دھمکی




مالیگاؤں: 8 ستمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں شہر کی تعلیمی فضاؤں میں اس وقت شدید غم و غصہ پھیل گیا، جب اے ٹی ٹی ہائی اسکول کے عقب میں آگرہ روڈ پر واقع میونسپل ہائی اسکول و جونیئر کالج کے لیکچرار سوپان کھنڈے راؤ بورسے سر کی دورانِ ڈیوٹی اچانک موت ہوگئی۔واقعے کے بعد اساتذہ، ساتھی ملازمین، سماجی کارکنان اور مقامی سیاسی رہنماؤں نے سٹی پولیس اسٹیشن پہنچ کر شدید احتجاج کیا اور واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔


دو سال سے تفتیش اور دباؤ ،اسکول عملے کا سنگین الزام

اسکول کے سینئر کلرک بھگوان پان پاٹیل نے واقعے سے متعلق تفصیلات بیان کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ گزشتہ تقریباً دو سال سے اسکول اور ادارے کو بار بار تفتیش کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ان کے مطابق مختلف محکموں کے افسران کی جانب سے متعدد مرتبہ بڑی تعداد میں تفتیشی ٹیمیں اسکول پہنچتی رہیں، جس کے باعث اساتذہ اور دیگر عملے پر مسلسل ذہنی دباؤ رہا۔کلرک کے مطابق جب ان تفتیشی کارروائیوں کی وجوہات کے بارے میں سوال کیا جاتا تو مبینہ طور پر افسران کی جانب سے ’’اوپر سے سیاسی دباؤ‘‘ ہونے کی بات کہی جاتی تھی۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

حادثے کے وقت اسکول میں تفتیشی ٹیم کی موجودگی کا دعویٰ

اسکول عملے کے مطابق منگل کی صبح ناسک اور پنچایت کمیٹی کے گٹ شکشن ادھیکاری (BEO) پاٹولے کی قیادت میں ایک اور تفتیشی ٹیم اسکول پہنچی۔ اس وقت گیارہویں جماعت کے امتحانات جاری تھے جبکہ بارہویں جماعت کا پرچہ شروع ہونے والا تھا۔اسکول عملے کا دعویٰ ہے کہ تفتیشی کارروائی کے دوران اساتذہ پر ذہنی دباؤ پیدا ہوا۔اسی دوران بارہویں جماعت کے امتحانی ہال کی جانب جاتے ہوئے لیکچرار سوپان بورسے کا پیر پھسل گیا اور وہ دیوار سے جا ٹکرائے۔ واقعے کے فوراً بعد ان کی حالت بگڑ گئی اور ان کا انتقال ہوگیا۔ان کی موت کی حتمی طبی وجہ پوسٹ مارٹم اور متعلقہ تفتیش کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔

’یہ محض اتفاق نہیں‘، اساتذہ اور رہنماؤں کا موقف

واقعے کے بعد سٹی پولس اسٹیشن کے باہر اساتذہ اور مختلف سماجی و سیاسی شخصیات جمع ہوگئیں۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ مسلسل تفتیش اور مبینہ ذہنی ہراسانی نے اسکول کے ماحول کو انتہائی دباؤ کا شکار بنا دیا تھا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ لیکچرار کی موت کے حالات کی غیرجانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی فرد یا افسر کی مبینہ کارروائی کا موت سے تعلق ثابت ہوتا ہے تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔مظاہرین نے اسکول انتظامیہ، متعلقہ تعلیمی افسران اور تفتیشی کارروائی میں شامل افسران کے کردار کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی قسم کی سیاسی مداخلت یا غیرضروری دباؤ ثابت ہوتا ہے تو ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔


ایف آئی آر کے مطالبے پر احتجاج سخت، میت وزیرِ تعلیم کے دفتر لے جانے کی دھمکی

اساتذہ تنظیموں اور مظاہرین نے پولس انتظامیہ کے سامنے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ واقعے میں مبینہ طور پر ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر کارروائی نہیں کی گئی تو احتجاج کو مزید شدت دی جائے گی۔مظاہرین کی جانب سے یہ بھی انتباہ دیا گیا کہ اگر ایف آئی آر درج نہیں کی گئی تو لیکچرار سوپان بورسی کی میت کو وزیرِ تعلیم کے دفتر لے جاکر احتجاج کیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد معاملہ مزید سنگین ہوگیا ہے اور انتظامیہ کی جانب سے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

اسکول میں موت یا مبینہ ہراسانی کا نتیجہ؟ تحقیقات سے ہوگا فیصلہ

لیکچرار سوپان بورسے کی اچانک موت نے متعدد سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ کیا یہ ایک اچانک طبی حادثہ تھا، یا واقعی تفتیشی کارروائی کے دوران پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ کا اس واقعے سے کوئی تعلق تھا؟ ان سوالات کا حتمی جواب پوسٹ مارٹم رپورٹ، طبی شواہد اور پولیس کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کے بعد ہی سامنے آسکے گا۔فی الحال اساتذہ اور مظاہرین اپنے مطالبات پر قائم ہیں، جبکہ واقعے نے مالیگاؤں کے تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کردی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے