وزیر تعلیم کے اختیارات میں کٹوتی کے فیصلے پر دادا بھسے کا بڑا بیان



وزیر تعلیم کے اختیارات میں کٹوتی کے فیصلے پر دادا بھسے کا بڑا بیان


ممبئی : 5 اگست (بیباک نیوز اپڈیٹ) مہاراشٹر کے محکمۂ اسکولی تعلیم میں انتظامی سطح پر ایک اہم تبدیلی سامنے آئی ہے۔ خود امدادی (Self-Financed) اسکولوں سے متعلق بعض اہم فیصلوں کے اختیارات وزیرِ تعلیم کی سطح سے ہٹا کر محکمہ کے افسران، خصوصاً سیکریٹری اور محکمۂ تعلیم کے کمشنر کو سونپے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، خود امدادی اسکولوں میں اضافی کلاسوں اور نئی شاخوں کو منظوری دینے، اسی طرح CBSE، ICSE اور دیگر تعلیمی بورڈز کے نصاب کے لیے این او سی جاری کرنے جیسے معاملات اب وزیر کے بجائے افسران کی سطح پر نمٹائے جائیں گے۔ 

ددا بھوسے نے کہا: فیصلہ میرا اپنا ہے

اس معاملے پر وزیرِ اسکولی تعلیم ددا بھوسے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اختیارات منتقل کرنے کا فیصلہ انہوں نے خود کیا ہے۔ ان کے مطابق وزیر کے پاس کاموں کا بوجھ زیادہ ہونے کے باعث فائلوں اور فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے، اس لیے انتظامی کاموں میں سہولت اور تیزی لانے کے مقصد سے یہ تبدیلی کی گئی ہے۔ وزیر کے مطابق، ریاست میں غیر امدادی اور انگریزی میڈیم اسکولوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ شہری آبادی اور طلبہ کی تعداد میں اضافے کے ساتھ اسکولوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے، جس کے باعث متعلقہ معاملات کو افسران کی سطح پر نمٹانا زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے ۔محکمۂ تعلیم میں ہونے والی اس تبدیلی کو سیاسی اور انتظامی دونوں زاویوں سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اگرچہ سرکاری طور پر اسے کام کا بوجھ کم کرنے اور فیصلوں کو تیز کرنے کی کوشش قرار دیا گیا ہے، تاہم وزیرِ تعلیم کے اہم اختیارات افسران کو منتقل کیے جانے کے باعث اس فیصلے پر بحث بھی شروع ہوگئی ہے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے