بیوٹی پروڈکٹس کا بڑھتا کاروبار، ایف ڈی اے کمشنر تکارام منڈے کی عوام سے اپیل


بیوٹی پروڈکٹس کا بڑھتا کاروبار، ایف ڈی اے کمشنر تکارام منڈے کی عوام سے اپیل


ممبئی: 7 ستمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) ریاست مہاراشٹر میں جلد کو گورا کرنے اور خوبصورتی نکھارنے کے دعوے کے ساتھ فروخت ہونے والی ناقص اور جعلی کاسمیٹکس مصنوعات کے خلاف شکایات میں اضافہ ہوا ہے۔ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کی کارروائیوں میں بھی متعدد جعلی بیوٹی پروڈکٹس سامنے آئے ہیں، جبکہ ممبئی کے بعض علاقوں میں ان کی کھلے عام فروخت کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ادویات و کاسمیٹکس قانون 1940 اور قواعد 1945 کے تحت کاسمیٹکس تیار کرنے کے لیے لائسنس ضروری ہے، تاہم ان مصنوعات کی فروخت کے لیے الگ لائسنس کی شرط نہیں ہے۔اسی قانونی خلا کے باعث ریاست سے باہر سے آنے والی یا آن لائن فروخت ہونے والی کاسمیٹکس مصنوعات پر FDA کا براہِ راست کنٹرول محدود ہوجاتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’میڈ اِن چائنا‘ کے ساتھ ساتھ ’میڈ اِن پاکستان‘، ’میڈ اِن نیپال‘ اور ’میڈ اِن دبئی‘ جیسے لیبل والی مشتبہ مصنوعات بھی مارکیٹ میں نظر آ رہی ہیں۔ ان میں جلد کو گورا کرنے والی کریمیں، ہیئر گروتھ آئل، سیرم، شیمپو، کنڈیشنر اور بلیچ کریمیں شامل ہیں۔ 

مہاراشٹر کے مختلف علاقوں، جن میں ممبئی، کھام گاؤں، پونہ اور شولاپور میں تقریباً 324 رجسٹرڈ کاسمیٹکس مینوفیکچررز موجود ہیں۔ ان کے تیار کردہ مصنوعات کے معیار کی جانچ کی جاتی ہے، تاہم ریاست سے باہر سے آنے والی مصنوعات کی فروخت پر براہِ راست نگرانی کا نظام محدود ہے۔ ماہرین کے مطابق ناقص یا جعلی کاسمیٹکس کے استعمال سے صرف جلد ہی متاثر نہیں ہوتی بلکہ بعض صورتوں میں جسم کے دیگر اعضا، حتیٰ کہ گردوں کے افعال پر بھی منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہوسکتا ہے۔ اسی لیے ایسی مصنوعات کے استعمال میں احتیاط ضروری ہے۔مہاراشٹر FDA کے کمشنر تکارام منڈے نے کہا کہ شکایات کی جانچ کے بعد جعلی کاسمیٹکس کے خلاف وقتاً فوقتاً کارروائی کی جاتی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ مشتبہ یا جعلی مصنوعات کی معلومات انتظامیہ تک پہنچائیں، تاکہ ان کے خلاف مؤثر کارروائی کی جاسکے۔رپورٹ کے مطابق ماضی میں کاسمیٹکس کی فروخت کے لیے بھی لائسنس لازمی بنانے کی تجویز پر غور کیا گیا تھا، لیکن FDA کے پاس پہلے ہی افرادی قوت کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ماہرین اور حکام کے مطابق ریاست سے باہر سے آنے والی مصنوعات اور آن لائن فروخت پر مؤثر نگرانی کے لیے مرکزی سطح پر واضح اور مضبوط ضابطہ ضروری ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے