رشوت لینے والے زمین ریکارڈ آفیسر کو 3 سال قید کی سزا و جرمانہ، ناسک عدات کا فیصلہ


رشوت لینے والے زمین ریکارڈ آفیسر کو 3 سال قید کی سزا و جرمانہ، ناسک عدات کا فیصلہ 




ناسک : 8 ستمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) دیولہ کے محکمۂ اراضی ریکارڈ کے سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سریش ویتال کو رشوت کے ایک مقدمے میں ضلع و سیشن عدالت نے قصوروار قرار دیتے ہوئے تین سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ رشوت ستانی کے خلاف کارروائی میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔مقدمے کے مطابق شکایت کنندہ کے چنچوے گاؤں میں واقع زرعی اراضی کے گروپ کی یکجائی اسکیم کے نقشے میں غلط اندراج ہو گیا تھا۔ اس اندراج کو درست کرکے معاملہ مزید کارروائی کے لیے بھیجنے کے عوض دیولہ کے محکمۂ اراضی ریکارڈ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سریش ویتال نے مبینہ طور پر 4 ہزار روپے رشوت طلب کی تھی۔شکایت کی بنیاد پر اینٹی کرپشن بیورو نے کارروائی کی۔ سریش ویتال کو محکمۂ اراضی ریکارڈ کے دفتر میں شکایت کنندہ سے 4 ہزار روپے کی رشوت قبول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں 30 مارچ 2012 کو دیولہ پولیس اسٹیشن میں انسدادِ بدعنوانی قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

تفتیش مکمل ہونے کے بعد 14 مارچ 2014 کو عدالت میں چارج شیٹ داخل کی گئی۔طویل قانونی کارروائی کے بعد ضلع و سیشن جج وی۔ وی۔ کاتھورے کی عدالت نے سریش ویتال کو قصوروار قرار دیا۔عدالت نے انسدادِ بدعنوانی قانون 1988 کی دفعہ 7 کے تحت دو سال قید اور 2 ہزار روپے جرمانہ سنایا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید ایک ماہ کی سادہ قید کا حکم دیا گیا۔ اسی طرح دفعہ 13(2) کے تحت تین سال قید اور 3 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے پر مزید تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔اس مقدمے میں سرکاری وکیل وجے گائیکواڑ اور شریش کڈوے نے سرکاری فریق کی نمائندگی کی۔اینٹی کرپشن بیورو کے ناسک ڈویژن کے افسران کی نگرانی میں پولیس انسپکٹر راہل کمار نائک اور دیگر اہلکاروں نے مقدمے کی پیروی میں تعاون کیا۔اینٹی کرپشن بیورو نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی سرکاری دفتر میں کوئی افسر، ملازم یا اس کی جانب سے کوئی نجی شخص رشوت کا مطالبہ کرے تو فوری طور پر اینٹی کرپشن بیورو سے رابطہ کریں۔ محکمہ نے ٹول فری نمبر 1064 سمیت دیگر رابطہ ذرائع بھی جاری کیے ہیں۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے