اقلیتوں کی ہمہ جہت ترقی کیلئے سرکاری اسکیمیں مؤثر انداز میں نافذ کی جائیں،ضلع کلکٹریٹ میں پیارے خان کی حکام کیساتھ میٹنگ

 

اقلیتوں کی ہمہ جہت ترقی کیلئے سرکاری اسکیمیں مؤثر انداز میں نافذ کی جائیں،ضلع کلکٹریٹ میں پیارے خان کی حکام کیساتھ میٹنگ



اقلیتوں کی ہمہ جہت ترقی کیلئے سرکاری اسکیمیں مؤثر انداز میں نافذ کی جائیں،ضلع کلکٹریٹ میں پیارے خان کی حکام کیساتھ میٹنگ 


مدارس تجدید،اردو اسکولوں کے معیار اور طلبہ کو پیشہ ورانہ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کی ہدایت



 قبرستانوں کیلئے اراضی اور اقلیتی بستیوں کے کھلے پلاٹوں کی ترقی پر بھی توجہ دینے ریاستی مائناریٹی کمیشن کا حکم 






ناسک: 8 ستمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ)اقلیتی برادری کی تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی کو رفتار دینے کے لیے حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی مختلف فلاحی اسکیموں کے مؤثر نفاذ پر زور دیتے ہوئے مہاراشٹرا ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین پیارے ضیاء خان نے متعلقہ محکموں کو واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی ہمہ جہت ترقی کے لیے صرف اسکیمیں بنانا کافی نہیں بلکہ ان کا حقیقی فائدہ مستحق افراد تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ضلع کلکٹر آفس کے پلاننگ ہال میں منعقدہ اہم جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیارے خان نے تعلیم کو اولین ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے مدارس کی جدید کاری، اردو اسکولوں میں تعلیمی معیار بلند کرنے، طلبہ کو مختلف زبانوں اور پیشہ ورانہ کورسز کی تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ہونہار طلبہ کی تعلیمی مدد کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دی۔






انہوں نے کہا کہ اقلیتی طلبہ کے لیے دستیاب تعلیمی اسکیموں کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔ مدارس کی جدید کاری کے لیے اہل ادارے فوری طور پر ضروری تجاویز پیش کریں اور اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کا تین ماہ بعد باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔پیارے خان نے اردو اسکولوں میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی طلبہ کے لیے حکومت کی جانب سے فراہم کیے جانے والے تعلیمی مواقع اور اسکالرشپ سمیت دیگر سہولیات کا فائدہ حقیقی مستحقین تک پہنچنا چاہیے۔ طلبہ کو روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ اور ہنرمندانہ کورسز سے جوڑنے کی کوشش کی جائے۔



اس موقع پر اقلیتی برادری سے متعلق بنیادی مسائل بھی زیر بحث آئے۔ پیارے خان نے متعلقہ اداروں کو مسلمانوں کے قبرستانوں کے لیے ضروری جگہ فراہم کرنے کے سلسلے میں کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں اقلیتی کمیشن کی جانب سے بھی ضروری فالو اَپ کیا جائے گا۔


انہوں نے اقلیتی آبادی والے علاقوں میں موجود کھلے پلاٹوں کی ترقی اور انہیں عوامی مفاد میں استعمال کرنے کے لیے متعلقہ محکموں کو پہل کرنے کی بھی ہدایت دی، تاکہ اقلیتی بستیوں میں بنیادی سہولیات اور ترقیاتی سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا جاسکے۔پیارے خان نے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے جانے والے طلبہ کے لیے حکومت کی مختلف اسکیموں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے کہا کہ ان اسکیموں کی معلومات زیادہ سے زیادہ طلبہ تک پہنچانے کے لیے خصوصی بیداری مہم چلائی جائے، تاکہ مستحق اور باصلاحیت طلبہ حکومتی معاونت سے محروم نہ رہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے جذبے کے تحت اقلیتی برادری کو درپیش مختلف مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کیے جائیں گے اور حکومتی اسکیموں کا فائدہ آخری مستحق فرد تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔اس موقع پر ضلع کلکٹر آیوش پرساد نے ضلع میں اقلیتوں کے لیے جاری مختلف پروگراموں اور اسکیموں کے نفاذ سے متعلق تفصیلی معلومات پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ اقلیتی آبادی والے علاقوں میں تعلیمی مواقع میں اضافہ، ویکسینیشن، اضافی غذائیت اور مدارس کی جدید کاری سمیت مختلف سرگرمیاں جاری ہیں۔



ضلع کلکٹر نے بتایا کہ مدارس کی جدید کاری کے لیے جلد از جلد تجاویز پیش کرنے کی کارروائی کی جارہی ہے، جبکہ اردو تعلیم کے فروغ کے لیے بھی ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔اسکالرشپ کے ذریعے ہونہار طلبہ کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ انہوں نے عوامی نمائندوں سے بھی اپیل کی کہ وہ حکومتی اسکیموں کے بارے میں عوام میں مؤثر بیداری پیدا کرنے کے لیے فعال کردار ادا کریں۔میٹنگ میں اسسٹنٹ کمشنر میونسپل کونسل ایڈمنسٹریشن شیام گوساوی نے اقلیتی برادری کی ترقی کے لیے چلائی جانے والی مختلف اسکیموں کی تفصیلات پیش کیں۔ اس دوران سورنا جینتی شہری خود روزگار اسکیم سمیت دیگر فلاحی منصوبوں کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔اس میٹنگ میں ضلع کلکٹر آیوش پرساد، پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ڈی۔ ایس۔ سوامی، ڈسٹرکٹ پلاننگ آفیسر وجے شندے، ڈپٹی کمشنر آف پولیس کرن کمار چوہان، اقلیتی کمیشن کے ارکان وسیم برہان، حسین شیخ، احمد دیشمکھ، شیخ وسیم شیخ عظیم، ممبر سکریٹری مناج ملا سمیت مختلف محکموں کے افسران اور نمائندگان موجود تھے۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے