مسلم ریزرویشن منسوخ کرنے پر بی جے پی سرکار کی مذمت،سپریم کورٹ میں سرکار کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان
مہاراشٹر کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنے کی ضرورت، عید بعد I.S.L.A.M پارٹی کی ریاست گیر تحریک: آصف شیخ
مسلمانوں کی ووٹ لینے والی پارٹیوں اور مسلم ایم ایل ایز کا امتحان شروع، اسمبلی میں مسلم نمائندگی کا حق ادا کریں
مالیگاؤں : 19 فروری (بیباک نیوز اپڈیٹ) مہاراشٹر کے مسلمانوں کو سرکاری نوکری اور تعلیم میں پانچ فیصد ریزرویشن کے فیصلے کو آج مہاراشٹر حکومت نے منسوخ کردیا ہے جو کہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے، ہم مہاراشٹر کے مسلمانوں کی جانب سے سرکار کی مذمت کرتے ہیں ۔اس طرح کے جملوں کا اظہار سابق رکن اسمبلی و اسلام پارٹی کے بانی آصف شیخ نے کیا ۔موصوف نے کہا کہ 2013 میں ہم نے مسلم ریزرویشن فیڈریشن کے ذریعے کانگریس و این سی پی کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا جس کے بعد اس سرکار نے اسمبلی چناؤ 2014 سے قبل مراٹھا سماج کو 16 فیصد اور مسلم سماج کو پسماندگی کی بنیاد پر پانچ فیصد ریزرویشن دیا تھا لیکن اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چلینج کیا گیا جس کے بعد مراٹھا سماج کے ریزرویشن کو منسوخ کردیا گیا تھا لیکن مسلم ریزرویشن پر کورٹ نے اسٹے دیا تھا اور 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار مہاراشٹر میں برسر اقتدار آئی اور انہوں نے اس مسلم ریزرویشن کو ایوان میں پیش نہیں کیا اس سے قبل کانگریس و این سی پی کی سرکار نے بھی بل کو قانونی شکل نہیں دیا تھا جسکی وجہ سے آج مہاراشٹر کی بی جے پی حکومت نے مسلم ریزرویشن کو منسوخ کردیا ہے ۔اس ضمن میں آصف شیخ نے کہا کہ مسلم ریزرویشن کی منسوخی کی جتنی ذمہ دار کانگریس و این سی پی سرکار رہی ہے اتنی ہی بی جے پی بھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی تو صرف نعرہ لگاتی ہے کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس، لیکن اس نعرے کے برعکس سرکار مسلمانوں کو آنکھ پونچھ کر نشانہ بنا رہی ہے ۔آصف شیخ نے کہا کہ مالیگاؤں،ممبئی ،ناسک، اورنگ آباد، سلوڑ، امراوتی، نندوربار سمیت پورے مہاراشٹر میں مسلم سماج کو روہنگیائی بنگلہ دیشی کے نام پر حراساں کررہی ہے اور اب مسلم ریزرویشن کو منسوخ کرکے بی جے پی نے کھلی مسلم دشمنی کا ثبوت دیا ہے ۔آصف شیخ نے کہا کہ بی جے پی نہیں چاہتی کہ مسلم سماج کے بچے تعلیم و سرکاری نوکری میں اپنا حصہ لیں ۔مسلمانوں کو پسماندہ ہی رکھنا بی جے پی کا منصوبہ ہے اور اس پر وہ کام کررہی ہے ۔اب ایسے حالات میں مسلم ایم ایل ایز کی ذمہ داری ہے کہ وہ بڑے بڑے وعدے کرنے کی بجائے مسلمانوں کو انکے حقوق دلانے کی کوشش کریں ۔اب مسلم ایم ایل ایز کا امتحان ہے کہ وہ اسمبلی میں مسلم نمائندگی کو ثابت کرے ۔آصف شیخ نے کہا کہ میں مراٹھا سماج کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے بیداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرکار سے اپنا حق حاصل کیا اور اب مسلمانوں کو بھی اپنا حق لینے کیلئے بیدار ہونے کی ضرورت ہے ۔مہاراشٹر کے مسلمانوں سے اپیل کرتے ہوئے آصف شیخ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے حقوق کیلئے آگے آئیں، ایک بڑے پلیٹ فارم پر آکر مسلمانوں کی فلاح و بہبود کیلئے کوشش کریں ۔انہوں نے کہا اسلام پارٹی مہاراشٹر میں مسلم ریزرویشن کیلئے عید بعد سخت تحریک ریاست گیر سطح پر شروع کریگی اور ہم اس مسلم ریزرویشن منسوخ کرنے پر مہاراشٹر سرکار کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹائے گی ۔اس کیلئے ہم قانونی مشورہ کررہے ہیں ۔آصف شیخ نے کہا کہ اب مہاراشٹر کے مسلمانوں کو ہوش میں آنا ہوگا اور جذباتی سیاست کرنے والے مسلم لیڈران سے ہوشیار رہنا ہوگا ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com