غیر معیاری مڈڈے میل کی شکایت ، ڈھائی سو بچوں کیلئے صرف پانچ کلو کھچڑی ، میونسپل پرائمری اسکول پر بدعنوانی کا الزام



غیر معیاری مڈڈے میل کی شکایت ، ڈھائی سو بچوں کیلئے صرف پانچ کلو کھچڑی ، میونسپل پرائمری اسکول پر بدعنوانی کا الزام


طلباء کو بہتر مڈڈے میل کی فراہمی اور انکوائری کرنے کارپوریٹرس کا مطالبہ 


مالیگاؤں : 14 فروری (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے تحت جاری میونسپل اسکولوں میں جہاں تعلیمی نظام اور طلباء کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کا اعلان گزشتہ روز نو منتخب میئر و ڈپٹی میئر نے کیا ہے وہیں ابھی اس بیان کو چند دن ہی گزرے تھے کہ میئر نسرین شیخ کے وارڈ میں واقع مولانا طاہر خان نادیڑی میونسپل اسکول میں جاری تین اسکولوں میں تقریباً 750 سے زائد طلباء تعلیم حاصل کررہے ہیں کسی اسکول میں ڈھائی سو بچے تو کسی اسکول میں 287 اور کسی اسکول میں 217 بچے زیر تعلیم ہیں اور انہیں معیاری مڈڈے میل فراہم نہیں ہورہی ہے جس کے خلاف آج وارڈ کے کارپوریٹرس رفیق بھوریہ اور آمین خان وغیرہ نے میڈیا کو طلب کر تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ڈھائی پونے تین سو بچوں کیلئے صرف پانچ کلو مڈڈے میل کھانے میں کھچڑی دی جارہی ہے انہوں نے الزام لگایا کہ یہ کھچڑی غیر معیاری پکا کر کھلائی جارہی ہے ۔طلباء بھی اس مڈڈے میل سے مطمئن نہیں ہیں ۔کارپوریٹرس نے کہا کہ ہفتہ بھر کا شیڈول سرکاری طور پر ٹھیکہ دار کو دیا گیا ہے لیکن اس شیڈول کے مطابق بچوں کو کھچڑی نہیں دی جارہی ہے جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس مڈڈے میل میں بدعنوانی ہورہی ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر کارپوریشن کمشنر نے بروقت کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا تو پھر وزیر تعلیم سے اس ضمن میں شکایت کی جائے گی اور کارروائی کا مطالبہ کیا جائے گا ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا میئر و ڈپٹی میئر اور کارپوریشن کمشنر اس جانب توجہ دیکر طلبا کو معیاری کھانے فراہم کروانے کی کوشش کرتے ہیں؟ کیا ٹھیکہ دار پر قانونی کارروائی کی جائے گی؟ کیا کارپوریٹرس اس معاملے کو حل کرتے ہوئے طلبا کو بہتر غذا فراہم کروانے کی صحیح معنوں میں کوشش کرنے میں کامیاب ہوتے یا پھر سابقہ تجربات کی طرح یہ بھی صرف ایک خبر بن کر رہ جائے گی؟ ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے