میئر چناؤ: سماجوادی اور I.S.L.A.M پارٹی کو کانگریس و MIM کی حمایت کے اعلان پر عوام کا خیر مقدم لیکن
مالیگاؤں : 21 جنوری (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن انتخابات میں سماجوادی پارٹی اور I.S.L.A.M پارٹی کے سیکولر فرنٹ کو 40 سیٹوں پر کامیابی ملی اور اب میئر چناؤ کیلئے سیاسی گٹھ جوڑ شروع ہوگیا ہے ۔سیکولر فرنٹ کو جادوئی عدد کیلئے صرف تین سیٹوں کی ضرورت ہے وہیں ایک طرف جہاں کانگریس کے مقامی صدر اعجاز بیگ نے حمایت دینے کا اعلان کردیا ہے وہیں سیکولر فرنٹ کی جانب سے مجلس اتحاد المسلمین کے رکن اسمبلی مفتی اسمٰعیل سے سیکولر فرنٹ نے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ہمیں بلا شرط حمایت دے اور اس سلسلے میں سیکولر فرنٹ کے ایک وفد نے بھی مفتی اسمٰعیل سے ملاقات کی تھی ۔مفتی اسمٰعیل نے کہا کہ ہم حمایت دینے کے تعلق سے مثبت سوچ رکھتے ہیں لیکن ہماری بھی کچھ شرط ہوگی ۔میئر چناؤ کیلئے ہورہی سیاسی گٹھ جوڑ کی ان خبروں کے منظر عام پر آتے ہی شہریان کا بڑا طبقہ سیکولر فرنٹ میں شامل انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹرا I.S.L.A.M پارٹی اور سماجوادی کے مفتی اسمٰعیل اور کانگریس کے سیاسی اتحاد کا جہاں خیر مقدم کررہا ہے وہیں سیاسی تجزیہ نگاروں، تعلیم یافتہ طبقات اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والی عوام کا استدال ہے کہ ایک طرف مفتی اسمٰعیل، آصف شیخ و مستقیم ڈگنیٹی اور اعجاز بیگ کا کارپوریشن میں ون سائیڈ اقتدار ہونا ضروری ہے تاکہ شہر کی تعمیر و ترقی اور عوام کی حفاظت و خوشحالی کی جاسکے ۔آپس میں سیاسی حزب اختلاف جماعتوں کا اس طرح کارپوریشن کے میئر چناؤ میں ساتھ آنا یقیناً عوامی مفاد میں ہے لیکن عوام کا استدال یہ بھی ہے کہ شندے سینا کے مقامی ایم ایل اے و وزیر دادا بھسے مہاراشٹر کی سرکار میں اقتدار کے حصہ دار ہیں ۔اس لئے ریاستی سرکار سے کارپوریشن و شہر کی تعمیر و ترقی کیلئے خطیر فنڈ کی ضرورت ہوگی۔ایسے حالات میں اگر دادا بھسے مالیگاؤں کارپوریشن میں انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹرا I.S.L.A.M پارٹی اور سماجوادی کے سیکولر فرنٹ کو حمایت دیتے ہیں تو مالیگاؤں میں سرکاری فنڈ کثیر مقدار میں لایا جاسکتا ہے، عوام کا استدال ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ اگر فرقہ پرستی کا خاتمہ کرنا ضروری ہے تو پھر مسلم لیڈران کی ون سائیڈ اقتدار سازی کے فیصلے کو ترک کرتے ہوئے ٹو سائیڈ اقتدار سازی کو ترجیح دی جائے یعنی آصف شیخ اور مستقیم ڈگنیٹی اعجاز بیگ کو بھی ساتھ لیں اور مفتی اسمٰعیل و دادا بھسے کو بھی ساتھ لیکر کارپوریشن میں اپنا یعنی سیکولر فرنٹ کا میئر بنائے ۔اس سے ہندو مسلم ایکتا کا بھی پیغام پورے ملک میں جائے گا اور آج جو نینشنل میڈیا میں مالیگاؤں کو لیکر ہنگامہ بپا ہے کو ختم کیا جاسکے ۔سیاسی بصیرت رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ اگر صرف آصف شیخ و مستقیم ڈگنیٹی نے مفتی اسمٰعیل اور اعجاز بیگ کا ساتھ لیکر اقتدار سازی کی تو یہ مالیگاؤں کیلئے ایک سمت میں بہتر ہوگا لیکن تین سمت میں منفی اثرات مرتب ہونگے اس لئے سیکولر ازم اور ہندو مسلم اتحاد کو فوقیت دینا ہے اور شہر کی تعمیر و ترقی کرنا ہے، فرقہ پرستوں سے شہر کو بچانا ہے تو پھر مالیگاؤں کارپوریشن میں بی جے پی کو چھوڑ کر بقیہ تمام پارٹیوں کا ساتھ لینا سیکولر فرنٹ کیلئے اہمیت کا حامل ہوگا ۔ویسے سیکولر فرنٹ کے آصف شیخ و مستقیم ڈگنیٹی کیا چاہتے ہیں یہ تو آنے والے دنوں میں واضح ہوجائے گا لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں اور ماہرین کے مطابق مالیگاؤں کارپوریشن میں حزب اختلاف کا خاتمہ کرنا اور مسلم اکثریتی شہر کی شبیہ کو مزید سیکولر بنانا ہے تو پھر میئر چناؤ میں ایم آئی ایم ،کانگریس اور شندے سینا کا ساتھ لینا ضروری ہوگا ورنہ آج صرف مفتی اسمٰعیل اور اعجاز بیگ کا ساتھ لینا وقتی طور پر مالیگاؤں کیلئے سود مند ہوسکتا ہے لیکن مستقبل میں اسکے نتائج کیا ہونگے یہ عوام بھی جانتی ہیں اور سیاسی پارٹیوں کے قائد بھی جانتے ہیں ۔اس لئے شہر کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی و فرقہ پرستوں سے حفاظت کیلئے ہندو بھائیوں کو بھی ساتھ رکھنا چاہیے ۔بہر کیف عوام اس صورت حال پر بھی نظر لگائے ہوئے ہیں کہ انہوں نے جن چناؤی مدعوں پر سیکولر فرنٹ اور مجلس اتحاد المسلمین کو ووٹ دیا تھا ان مدعوں پر کام کرنا کتنا آسان ہوگا اور کتنا نہیں یہ آنے والا وقت بتائے گا، اب دیکھتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، کون میئر ہوگا اور کس کس کی حمایت ہوگی اور کون اپوزیشن میں بیٹھے گا؟
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com