عین الیکشن سے قبل والدین کے ادھار کارڈ کیوں جمع کئے جارہے ہیں؟ ، کمشنر خلاصہ کریں
کیا ادھار کارڈ کا مس یوز نہیں ہوگا؟آشا ورکرس اور پرائمری و پرائیوٹ اسکولوں سے آصف شیخ کا سوال
مالیگاؤں : 13 جنوری (بیباک نیوز اپڈیٹ) عین الیکشن سے قبل مالیگاؤں شہر کی پرائمری و پرائیوٹ اسکولوں کے ذمہ داران اسکول کے کلاس گروپ میں میسج کرکے والدین کے ادھاد کارڈ منگوا رہے ہیں، ابھی الیکشن کو دو روز باقی ہے اور شہریان سے ادھار کارڈ جمع کرنا کیوں ضروری ہے؟ اس طرح کے سوالات کے ساتھ آصف شیخ رشید نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ مالیگاؤں شہر کے کمشنر و چیف الیکشن آفیسر اس بات کا خلاصہ کریں ۔آصف شیخ نے مزید کہا کہ شہر کی پرائیوٹ اسکول کے بچوں سے ادھار کارڈ منگوایا جارہا ہے ۔عین الیکشن کے وقت والدین کے ادھار کارڈ کیوں منگوائے جارہے ہیں؟ کارپوریشن کمشنر اس جانب توجہ دیں۔اسی طرح آشا ورکر بھی شہر میں گھوم گھوم کر ادھار کارڈ جمع کررہے ہیں۔الیکشن آفیسر و کمشنر کو اس بات کا خلاصہ کرنا چاہیے اور ساتھ میں اسکول کے ذمہ داران کو بھی اس بات کا خلاصہ کرنا چاہیے کہ کیوں ادھاد کارڈ جمع کئے جارہے ہیں کیا والدین کے ادھار کارڈ کا مس یوز نہیں ہوگا؟ آصف شیخ نے کہا کہ اسمبلی الیکشن میں بھی اس سی طرح سے ادھار کارڈ جمع کیا گیا تھا ۔کہیں یہ کوئی سازش تو نہیں ہو رہی ہے ۔کیا ادھار کارڈ کا غلط استعمال نہیں ہوگا اسکا بھی خلاصہ کیا جائے؟ ۔پرائیوٹ اسکول کے علاوہ پرائمری اسکولوں میں بھی والدین کے ادھار کارڈ منگوائے جارہے ہیں ۔اسکول انتظامیہ کیوں ادھار کارڈ منگوا رہے ہیں؟ کمشنر اسکا خلاصہ کریں۔اس طرح کے سوالات کے ساتھ آصف شیخ نے مذکورہ بیان باغبان جماعت خانہ میں میڈیا نمائندوں کو دیا ۔آصف شیخ نے کہا کہ کچھ سوال کرو یا باز پرس کرو تو اسکولوں کو برا لگتا ہے ۔اگر یہ کسی اہم کام کیلئے ہی جمع کیا گیا ہے تو پھر عین الیکشن کے وقت ہی کیوں جمع کیا جارہا ہے؟آج 13 جنوری کی شام کو بھی اسکول کے واٹس ایپ گروپ میں میسج سینڈ کیا گیا ہے، کیا اس کام کو دو دن بعد نہیں کیا جاسکتا تھا؟
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com