ملک بھر میں I.S.L.A.M پارٹی پر بحث ، بی جے پی نواز میڈیا کے پیٹ میں ہوا درد !



ملک بھر میں I.S.L.A.M پارٹی پر بحث ، بی جے پی نواز میڈیا کے پیٹ میں ہوا درد 



 آصف شیخ نینشنل میڈیا کے نشانے پر،کہیں تعریف تو کہیں تنقید،مسلمان اپنی سیاسی ساکھ کو بچانے میں کامیاب! 



مالیگاؤں : 19 جنوری (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن انتخابات میں آصف شیخ کی سرپرستی میں قائم نئی نویلی I.S.L.A.M پارٹی نے 35 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے جہاں مالیگاؤں کارپوریشن میں سب سے بڑی پارٹی کا اعزاز حاصل کیا ہے وہیں اسد الدین اویسی کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے 21 سیٹوں پر کامیابی درج کرائی ہے ۔حالانکہ ایم آئی ایم 2017 کے انتخابات میں 7 سیٹوں پر سمٹ گئی تھی لیکن اس بار 2026 کے چناؤ میں ایم آئی ایم نے 21 سیٹیں حاصل کی ہے جو کہ مجلس کی سیاسی ترقی ہے ۔آصف شیخ کی انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹرا پارٹی نے سماجوادی پارٹی سے اتحاد کرتے ہوئے مالیگاؤں سیکولر فرنٹ کا قیام کیا اور 35 سیٹیں اسلام اور 5 سیٹوں پر سماجوادی پارٹی کو کامیابی ملی ۔چناؤ کے نتائج آنے کے بعد سے آصف شیخ کی اسلام پارٹی مالیگاؤں ہی نہیں بلکہ پوری ریاست کے سیاسی گلیاروں میں ہنگامہ مچا رہی تھی کہ اب قومی سطح پر بھی آصف شیخ کا قد بلند ہوا ہے ۔ملک بھر میں نینشنل میڈیا اور علاقائی میڈیا اسلام پارٹی کی تاریخی جیت پر ششدر رہ گیا ہے۔این ڈی ٹی وی سے لیکر زی نیوز، آج تک، مہاراشٹر ٹائمز، کے علاوہ مہاراشٹر اور حیدرآباد، یوپی اور دہلی کی میڈیا نے اسلام پارٹی کی تاریخی جیت پر خبروں اور رزلٹ پر تبصرے نشر کئے ہیں یہاں تک کہ آر ایس ایس کے ترجمان سدرش نیوز چینل کے اینکر و چیف ایڈیٹر سریش چوہانکے نے ملک کے سیاسی لیڈران کو بالخصوص ہندو لیڈران کو اب بیدار ہونے کا پیغام دے دیا ہے ۔سدرشن نیوز نے مالیگاؤں کو اس سے پہلے پاکستان، افغانستان اور غزہ پٹی جیسے نام سے خبریں شائع کی تھی اور آج سدرشن نیوز کے ایڈیٹر کو آصف شیخ کی اسلام پارٹی سے پیٹ میں درد ہونے لگا ۔انہوں نے آصف شیخ کی انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹرا I.S.L.A.M پارٹی کو بینڈ کرنے کا بھی مطالبہ کردیا ہے ۔حالانکہ اسلام پارٹی الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے، آصف شیخ نے اپنی پارٹی کی پالیسی میں سیکولر ازم کو فوقیت دی ہے، اسی لیے انہوں نے پارٹی کے نام میں لفظ سیکولر کا استعمال کیا ہے ۔اسلام پارٹی سے 32 مسلمان تو تین ہندو کارپوریٹر بھی منتخب ہوئے ہیں لیکن اسلام پارٹی کی تاریخی جیت اور بی بی جے پی کی کراری شکست کے بعد نینشنل میڈیا اور بالخصوص بی جے پی نواز میڈیا کے پیٹ میں درد ہورہا ہے ۔ایک طرف ملک کے علاقائی میڈیا نے جہاں ایم آئی ایم کے اسد الدین اویسی کی پارٹی کو کم تر بتانے کی کوشش کی ہے وہیں انہوں نے اپنے تجزیہ میں یہ بھی بتایا ہے مسلمان اپنی سیاسی پارٹی بنا کر خود مختار سیاست کرنا پسند کررہے ہیں جو کہ بی جے پی سمیت کانگریس اور دیگر سیکولر پارٹیوں کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے ۔ریاستی و قومی ذرائع ابلاغ و نینشنل میڈیا نے مالیگاؤں پیٹرن کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے بتایا کہ اگر مستقبل میں مہاراشٹر سمیت ملک بھر میں مالیگاؤں پیٹرن کام کرگیا تو پھر ملک کا سیاسی منظر نامہ مختلف ہوگا ۔حیدرآباد کے اردو و تیلگو میڈیا نے ایک طرف مجلس کے بعد اسلام پارٹی کی تعریف کے پل باندھ دیئے ۔انہوں نے بتایا کہ سابق رکن اسمبلی آصف شیخ رشید نے 2024 کے مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات سے عین قبل نئی پارٹی انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹرا کا رجسٹریشن کروایا اور انہوں نے اسلام پارٹی سے امیدواری کرتے ہوئے تقریباً ایک لاکھ دس ہزار ووٹیں حاصل کی اور اب 2026 کے مالیگاؤں کارپوریشن عام انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے 35 سیٹوں پر کامیابی حاصل کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے ۔اسلام پارٹی آصف شیخ کی قیادت میں مسلمانوں کی نمائندگی کے نام پر چن کر آئی ہے ۔ایک طرف مجلس کا ایجنڈا بھی مسلمان ہیں تو دوسری طرف اسلام پارٹی کا ایجنڈا بھی فرقہ پرستوں سے لڑنا، جمہوریت کی حفاظت اور مظلوموں کی مدد و مسلمانوں کیساتھ ساتھ دیگر پسماندہ طبقات یعنی اقلیتوں کے حقوق کیلئے لڑنا ہے، اسی مشن کو لیکر آصف شیخ میدان سیاست میں کام کررہے ہیں، نینشنل میڈیا نے مزید بتایا کہ آصف شیخ کانگریس اور این سی پی میں بھی رہے لیکن مسلمانوں کا سیاسی استحصال کب تک؟ کب مسلمانوں کو برابری کے حقوق ملینگے؟ اسی تناظر میں انہوں نے اسلام پارٹی بنایا اور آج پورے ملک میں اسلام پارٹی اور آصف شیخ کے چرچے ہیں، بی جے پی نواز میڈیا اسلام پارٹی کو آنکھ پوچھ کر دیکھ رہا ہے، آر ایس ایس کے ترجمان نیوز چینل مطالبہ کررہا ہے کہ الیکشن کمیشن سویا ہوا ہے کیا؟ کیوں کارروائی نہیں ہورہی ہے؟ ۔اسلام پارٹی سے یہ تو بات تو سامنے آگئی ہے کہ اب ملک کا مسلمان اپنے حقوق کیلئے اپنی سیاسی ساکھ خود بنانا چاہتا ہے جسکی کامیاب مثال مالیگاؤں کی دی جاسکتی ہے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے