خبردار! پولس انتظامیہ کی شہریان سے اپیل،خلاف ورزی پر چھ ماہ سے ایک سال کی سزا کا اطلاق ہوگا
اخبارات،یوٹیوب،انسٹاگرام، واٹس ایپ سمیت سوشل میڈیا پر متاثرہ بچوں کی تصاویر، ویڈیوز، نام، پتہ، یا ذاتی معلومات کو شیئر کرنا قابلِ جرم
مالیگاؤں : 4 دسمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) ناسک دیہی پولس محکمہ کی جانب سے عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ کے قانون، 2012 کے سیکشن 23 کے مطابق جرم کا شکار ہونے والے بچوں کی تصاویر، ویڈیوز، نام، پتہ، اسکول یا کسی بھی قسم کی ذاتی معلومات کو پھیلانا یا شیئر کرنا قابل سزا جرم ہے، چاہے وہ پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک نیوز، سوشل میڈیا یا کسی اور طرح سے، ان کی شناخت کے کو ظاہر کیا جائے گا تو وہ جرم مانا جائے گا۔اگر کسی بھی نیوز چینل، اخبار، واٹس ایپ، انسٹاگرام، فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب وغیرہ پر اس طرح سے کوئی بھی معلومات پھیلائی گئی جس سے متاثرہ بچی کا چہرہ یا شناخت ظاہر ہو تو ملزم کے خلاف مذکورہ ایکٹ کے مطابق قانونی کارروائی کی جائے گی۔کوئی بھی شخص جو جان بوجھ کر یا لاپرواہی سے ایسی معلومات پھیلاتا ہے جس سے متاثرہ بچی کی شناخت ظاہر ہوتی ہے اسے 6 ماہ سے 1 سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔اس کی واضح اجازت کے بغیر اس طرح کے نام، فوٹو، پتہ یاس کسی بھی ملتے جلتے مواد کی اشاعت یا شیئر کرنا غیر قانونی ہے۔سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہولڈرز، پیج ایڈمنز، اور واٹس ایپ گروپ ایڈمنز جو ایسی پوسٹس، فوٹو، ویڈیوز کو شیئر یا فارورڈ کرتے ہیں انہیں بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ تمام صحافیوں، ڈیجیٹل مواد کے پبلشرز، سوشل میڈیا صارفین، اور گروپ ایڈمنز کو باخبر کیا جاتا ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال کے بارے میں خبریں یا معلومات پھیلاتے وقت بچوں کی پرائیویسی اور شناخت کا تحفظ کرنا ضروری ہے۔بچوں کی حفاظت، عزت اور پرائیویسی کی حفاظت کرنا ہمارا اجتماعی فرض ہے..!خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی ۔اس طرح کی اپیل ایک پریس ریلیز میں ناسک دیہی پولس محکمہ کی جانب سے مالیگاؤں پولس انتظامیہ کے توسط سے جاری کی گئی ہے ۔عوام اسے نوٹ کرلیں ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com