سماجوادی ورکر تحریکی ہیں، جھگڑالو نہیں، حملہ تشویش ناک ، کانگریس اور سماجوادی تنازعہ طول پکڑا



سماجوادی ورکر تحریکی ہیں، جھگڑالو نہیں، حملہ تشویش ناک ، کانگریس اور سماجوادی تنازعہ طول پکڑا



مستقیم ڈگنیٹی کا بیان ، آصف شیخ بھی ہاسپٹل پہنچے، کہا مکمل جانچ پڑتال کی جائے


مالیگاؤں : 4 اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) چار اکتوبر کی شام چھ بجے کے درمیان امن چوک میں واقع مکہ مسجد کے پاس کانگریس صدر اعجاز بیگ کی آفس کے سامنے سماجوادی ورکروں پر حملہ کیا گیا ۔اس حملے میں چار لوگ زخمی ہوئے ہیں اور دو لوگوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے ۔اس طرح کی تفصیلات سماجوادی لیڈر مستقیم ڈگنیٹی نے دی ۔انہوں نے بتایا کہ سماجوادی پارٹی کے ورکر نہالی وکرر ہیں اور یہ ورکر تحریکی ہیں جھگڑالو نہیں ہے ۔ان پر حملہ کیا گیا ہے اس معاملے میں پولس جانچ صحیح سمت میں جاری ہے ۔مستقیم ڈگنیٹی نے بتایا کہ حملے میں زخمی ہونے والوں کی حالت تشویشناک ہے انہیں پہلے سول اسپتال پھر بعد میں فاران ہاسپٹل میں بغرض علاج داخل کیا گیا ہے ۔ادھر پولس ایف آئی آر درج کرنے کی کارروائی کررہی ہے، وہیں اس معاملے میں سابق ایم ایل اے آصف شیخ نے بھی سول اسپتال اور فاران ہاسپٹل پہنچ کر عیادت کی اور کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حملہ منصوبہ بند تھا ۔پہلے سے تیاری تھی ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی بحث پریس کانفرنس کے ذریعے چل رہی تھی لیکن شدت اس وقت پیدا ہوئی کہ سماجوادی کے ترجمان انیس مستری کو جونے فاران کے پاس گالی گلوچ اور دھکا مکی اور دھمکی دی گئی یہاں سے معاملہ کی نوعیت بدل گئی تھی۔اب اس معاملے کو شدت کا رخ کس نے دیا اور باتوں باتوں کی بحث کو جھگڑے کا رخ کس نے دیا اور کیا یہ سب پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے اس کی مکمل جانچ پولس نے کرنی چاہیے ۔آصف شیخ نے کہا کہ اس حملے کی مذمت کرتا ہوں اور پولس ڈپارٹمنٹ سے اپیل کرتا ہوں کہ غنڈہ گردی کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے ۔


ادھر کانگریس صدر کے بھائی ریاض بیگ عرف راجو اپا، وسیم بیگ بھی زخمی بتائے گئے ہیں ۔کانگریس پارٹی کے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سماجوادی ورکروں نے کانگریس صدر اعجاز بیگ کو گوبر مارنے کے اس ارادے سے امن چوک کا رخ کیا تھا اور بات یہی سے طول پکڑ گئی اور دونوں پارٹیوں کے ورکروں کے درمیان جھگڑا ہوگیا جس میں دونوں سمت کے تقریباً چار سے پانچ لوگ زخمی بتائے گئے ہیں ۔وہیں آزاد نگر پولس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرنے کی کارروائی جاری ہے، جھگڑے کی اطلاع ملتے ہی پولس کی بھاری ٹیم امن چوک میں پہنچ گئی تھی اور اب حالات معمول پر بتائے جارہے ہیں ۔ادھر کانگریس پارٹی کی جانب سے آفیشل بیان سامنے نہیں آیا ہے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے