ابو عاصم اعظمی کی جامنیر میں سلیمان کے اہلِ خانہ سے ملاقات اور پولس سے بات چیت
سرکار سے 25 لاکھ روپے کی امداد دینے ، سرکاری نوکری اور نفرت کے خلاف قانون کا مطالبہ
جامنیر : 18 اگست (پریس ریلیز) دوسری مذہب کی لڑکی سے بات کرنے پر شدت پسندوں کے ہاتھوں بے دردی سے قتل کیے گئے نوجوان سلیمان کے اہلِ خانہ سے سماجوادی پارٹی کے ریاستی صدر و رکنِ اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے ملاقات کی۔اعظمی نے غمزدہ گھر والوں کے ساتھ وقت گزارا۔ انہوں نے کہا:"ایک باپ کی آنکھوں میں اپنے جواں بیٹے کو نفرت کی آگ میں کھونے کا درد دیکھا اور ایک ماں کی سسکیوں میں بے بسی کو محسوس کیا۔ ایسے زخم کا کوئی مداوا ممکن نہیں، لیکن انصاف کے لیے ہم اس خاندان کے ساتھ ہیں۔"انہوں نے جلگاؤں پولیس سے ملاقات کی اور اہلِ خانہ کی جانب سے دیے گئے دو اہم ملزمان کی گرفتاری میں تاخیر پر سخت سوالات اُٹھائے۔
اعظمی نے وزیرِ اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ:
* سلیمان کے اہلِ خانہ کو کم از کم 25 لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے۔
* خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دی جائے۔
* اس معاملے میں SIT تشکیل دی جائے اور ملزمان کے خلاف MCOCA کے تحت کارروائی کی جائے تاکہ کوئی مجرم بچ نہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں اقتدار کے لیے پھیلائی جا رہی نفرت اب براہِ راست ہیٹ کرائم میں بدل رہی ہے۔
اعظمی نے واضح کیا:
"میں وزیرِ اعلیٰ دیویندر فڈنویس سے مطالبہ کرتا ہوں کہ نفرت کے خلاف سخت قانون بنایا جائے اور اُن وزراء کو مسلمانوں کے خلاف زہر اُگلنے سے روکا جائے۔ جب تک ہیٹ اسپیچ نہیں رکے گی، ہیٹ کرائم بھی نہیں رکے گا۔"
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com