ہڑتال جاری رہیگی جمعیت القریش کا فیصلہ، بدھ کو اورنگ آباد میں ریاست گیر مورچہ، پریس کانفرنس سے مخاطبت



ہڑتال جاری رہیگی جمعیت القریش کا فیصلہ، بدھ کو اورنگ آباد میں ریاست گیر مورچہ، پریس کانفرنس سے مخاطبت 




کسی کے اشارے پر خاندیشی قریشی ، ملکی قریشی اور کچھ غیر قریشیوں کی ہڑتال کو ڈائنامائٹ کرنے کی سازش، پھر بھی اتحاد کی اپیل 



عوام مہنگے داموں گوشت بالکل نہ خریدیں، ہڑتال کی کامیابی کے بعد میں گوشت 180 روپیہ کلو فروخت کرونگا :فارق فیض اللہ 



مالیگاؤں : 3 اگست (بیباک نیوز اپڈیٹ) جمیعت القریش میں ابھی بھی اتحاد قائم ہے ۔اتحاد میں برکت ہے ۔اللہ تعالیٰ اتحاد میں کامیابی عطا فرماتا ہے، ہماری ہڑتال کو آصف شیخ کی بھی حمایت ہے وہ ہماری رہنمائی کررہے ہیں ۔جو کمپنی جاری ہوئی ہے وہ بھی بند ہوجائے گی ۔اسی طرح اطراف میں دیہات کے بیوپاری اور کسانوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ مالیگاؤں میں جانوروں کی فروخت روک دیں ۔جلد ہی ہماری ہڑتال کو کامیابی ملیگی ۔اس طرح کے جملوں کا اظہار قریش برادری کے صدر قریشی افضل ماسٹر نے کیا۔موصوف سابق کارپوریٹر فاروق فیض اللہ کے مکان پر جمیعت القریش کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔موصوف نے کہا کہ ہم مہاراشٹر سطح پر اورنگ آباد میں ایک مورچہ آل مہاراشٹر جمیعت القریش کی جانب سے نکال رہے ہیں ۔ان شاءاللہ اس کی کامیابی کے بعد ہڑتال کے تعلق سے فیصلہ کیا جائے گا ۔اس پریس کانفرنس میں عمر قریشی سر نے کہا کہ جمیعت القریش مالیگاؤں آل مہاراشٹر جمعیت القریش کے ساتھ ہڑتال میں شامل ہے ۔مہاراشٹر جمیعت القریش کی اورنگ آباد میں ایک ریلی نکالی جارہی ہے وہاں کوئی فیصلہ پورے مہاراشٹر میں کیا جائے گا ۔بدھ کو اورنگ آباد میں دھرنا مورچہ اور ریلی کے بعد فیصہ کیا جائے گا کہ آئندہ ہڑتال جاری رہیگی یا کاروبار شروع کیا جائے گا اسکا خلاصہ کیا جائے گا ۔

اس موقع پر سابق کارپوریٹر فارق فیض اللہ نے کہا کہ جو لوگ 400 روپیہ کلو گرام شت فروخت کررہے ہیں ہم انکے ساتھ نہیں ہے ۔پورے شہر میں یہ لوگ مہنگے دام گوشت فروخت کر قریش برادری کو بدنام کررہے ہیں ہم ایسے لوگوں کی مذمت کرتے ہیں ،ہم تحریک چلا رہے ہیں اور جو لوگ ہم سے الگ ہوکر کاروبار شروع کر مہنگے داموں گوشت فروخت کررہے ہیں عوام انکا بائیکاٹ کریں ۔فاروق فیض اللہ نے کہا کہ جب ہماری تحریک کامیابی ہوگی تو ہم بھینس کا گوشت 180 روپیہ کلو فروخت کرینگے ۔ہم غلط کام کرنے والوں کیساتھ نہیں ہے ۔عوام نوٹ کریں اور جو لوگ 300 یا 400 روپیہ کلو فروخت کررہے ہیں ان سے گوشت نہ خریدیں ۔پورے مہاراشٹر میں جاری قریش برادری کی تحریک کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے ۔ہم نے خاندیشی اور ملکی قریشی کے درمیان بات چیت کی ہے ۔فارق فیض اللہ نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ بول رہے ہیں کہ ہم تحریک کیساتھ ہیں اور گوشت بھی فروخت کررہے ہیں جو ایسا ہے کہ 'بھیا ہم پاگل نہیں ہمارا دماغ خراب ہے' ۔اس طرح کی باتیں کرنا کہاں تک مناسب ہے انہیں سوچنے کی ضرورت ہے ۔


اس موقع پر سابق معاون کارپوریٹر شفیق قریشی نے کہا کہ ملکی اور خاندیشی قریشی آپس میں بھائی بھائی ہیں، ہمارے کچھ لوگ بدگمانی کی وجہ سے گوشت فروخت کررہے ہیں ۔ہم ان سے بات چیت کررہے ہیں ۔ہم ہڑتال کے مطالبات سرکار سے کر کر منوا رہے ہیں لہذا ہمیں آپس میں لڑنے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے ۔دونوں برادری ایک ساتھ ہڑتال میں شامل ہیں۔اس پریس کانفرنس سے وکیل قریشی نے کہا کہ گئو رکشکوں کی دادا گیری بند ہونا چاہیے، پولس ڈپارٹمنٹ کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے، عمر دراز جانوروں کی فروخت کیلئے سرکار کو قانون بنانا چاہیے تاکہ کسانوں اور غریب مزدوروں کو کچھ حد تک راحت مل سکے ۔اسی طرح اس پریس کانفرنس سے حاجی رفیق ٹاٹا نے کہا کہ جو لوگ تحریک کو ڈائنامائٹ کررہے ہیں اور گوشت فروخت کرنے لگے ہیں انہیں کہیں نہ کہیں چاکیلٹ دیا گیا ہوگا ۔وہ اپنے مفاد کیلئے تحریک کو ڈائنامائٹ کررہے ہیں ۔اس موقع پر حاجی نعیم قریشی، قریشی محمود حاجی سمیت قریشی برداری کے ذمہ داران موجود تھے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے