مسلمانوں اور علماء کرام نے قربانیاں دیں تب یہ ملک آزاد ہوا، آزادی اور اسلام کا تحفظ علماء کرام کا دیا ہوا تحفہ ہے: مولانا سید ازہر مدنی



 مسلمانوں اور علماء کرام نے قربانیاں دیں تب یہ ملک آزاد ہوا، آزادی اور اسلام کا تحفظ علماء کرام کا دیا ہوا تحفہ ہے: مولانا سید ازہر مدنی



جمعیت علماء کا ہندوستان میں مسلمانوں پر بہت بڑا احسان ہے جلسہ یاد محبانِ وطن سے مفتی اسمٰعیل قاسمی کی مخاطبت


مالیگاؤں ( نامہ نگار ) مالیگاؤں کے لوگوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپکو وہ دل دیا ہے کہ آزادی کے جیالوں کی داستانوں کو یاد کرتے ہیں سنتے ہیں ان داستانوں سے عشق و محبت رکھتے ہیں اسطرح کا اظہار سرزمین دیوبند سے تشریف لائے جید عالم دین مولانا سید ازہر مدنی نے کیا جمعیت علماء مدنی روڈ کے زیر اہتمام یاد محبانِ وطن جلسہ میں جو بارش کی وجہ سے خیابان نشاط چوک کی بجائے مسجد انگنو سیٹھ موتی پورہ میں منعقد ہوا جسکی صدارت صدر جمعیت علماء مفتی اسمٰعیل قاسمی نے کی، جلسہ یاد محبانِ وطن کا آغاز تلاوت قرآن اور شاعر آزاد انور کی جنگ آزادی کے مجاہدین کی قربانیوں پر نظم و غزل کے اشعار سے ہوئی بعد از اس جلسہ کی اغراض و مقاصد ابتدائی مقررین میں مولانا حامد انوری، مفتی نعیم اختر، مفتی سالک مسعود، مولانا محمد عمران اسجد نے پیش کیے مقرر خصوصی مولانا سید ازہر مدنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یاد محبانِ وطن پروگرام کرنا آنے والی نسلوں کے دل و دماغ میں اپنے علماء و اکابرین آباو اجداد کی ان قربانیوں کا تذکرہ کرکے انکے دلوں دماغ میں بیٹھانا، جن قربانیاں پر تاریخ کے دشمن ختم کرکے ملک کی جنگ آزادی کی تاریخ کو کانگریس سے جوڑ دینے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اگر آپ اسی طرح سے یاد محبانِ وطن پروگرام منعقد کرتے رہے یہ دنیا مٹ جائے گی مٹانے والے مٹ جائے گے لیکن جو قربانیاں اخلاص و مذہب کے نام پر ملک کو باقی رکھنے کیلئے دی گئی ہے وہ تاریخ اور اسکے جیالے نہیں مٹ پاۓ گے اس ملک کی مٹی کا ذرہ ذرہ دنیا کے کسی بھی بڑی لیب میں ٹیسٹنگ کیلئے ڈالی جائے تو اس مٹی میں ہمارے بزرگوں علماء کرام مجاہدین آزادی کا خون Blood نکلے گا اور جو تاریخ ہمارے دلوں دماغ میں ہماری سانسوں میں چل رہی ہے اس تاریخ کو کیسے مٹا سکوگے یہ تمہاری اوقات کے باہر ہیں اپنے اسلاف و بزرگوں کی تاریخ انکے کارنامے سننا یاد رکھنا اسکو لوگوں تک پہنچانا یہ زندہ قوم کی علامت ہیں اور جو قوم اپنے بزرگوں کو بھلا کرکے آگے بڑھتی ہے وہ قوم زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہ پاتی ہے جہاد آزادی کی سلسلے میں مسلمانوں کی داستان سال دو سال بیس سال نہیں بلکہ دیڑھ سو سال کی ایک لمبی داستان ہے مولانا سید ازہر مدنی مختصراً سمیٹ کر بیان کرتے ہوئے کہا کہ یاد کرو اس واقعہ کو سن 1799 میں جب ٹیپو سلطان شہید کو سرنگا پٹنم میں شہید کردیا گیا تھا جو انگریز کے سب سے بڑے دشمن تھے انکے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے تھے ایسٹ انڈیا کمپنی نے کہا کہ آج سے ہندوستان ہمارا ہے یہ آواز حضرت شاہ محدّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے کانوں میں پہنچی، اور دنیا کی تاریخ میں لکھا ہے ہندوستان واحد ملک ہے اس ملک کی جنگ آزادی کیلئے علماء کرام نے قربانیاں دی ہیں انگریز اس ملک میں تجارت کے بہانے آیا اور دھوکہ سے اس ملک کو اپنا غلام بنایا اور مغلیہ سلطنت کے آخری بادشاہ کو دہلی میں بالکل قید کردیا اور کہا ملک بادشاہ سلامت کا خلق خدا کی اور حکومت ایسٹ انڈیا کمپنی کی ہوگی اور اسی وقت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے اعلان کیا آج سے یہ ملک دارالحرب ہے اور ہر اس ملک کا شہری و مسلمان کو اس ملک کی آزادی کیلئے جہاد کرنا فرض عین ہوگیا ہے اور اپنے شاگردوں شاہ اسمٰعیل شہید، سید احمد شہید، مولانا عبدالحیی کو پورے ملک کا دورہ کروایا یہ سلسلہ جاری رہا لوگوں نے جہاد آزادی کیلئے اپنے نوجوانوں کو پیش کردیا اور تحریک ریشمی رومال مولانا محمود الحسن مولانا گنگوہی مولانا قاسم نانوتوی و رفقاء نے چلائی اگر یہ تحریک کامیاب ہوجاتی تو ملک اسی وقت آزاد ہوجاتا، البتہ جب ملک کے اکابرین علماء کرام نے یہ محسوس کیا یہ جنگ آزادی کی لڑائی تن تنہا نہیں لڑی جاسکتی، سن 1919 میں جمعیت علماء کا قیام کیا گیا اور برادران وطن کو ساتھ لیکر قائدانہ کردار ادا کیا گاندھی جی کو افریقہ سے لایا گیا پورے ملک کا دورہ کروایا یہ سب خرچا مولانا شوکت علی مولانا محمد علی نے ممبئی میں اپنا ایک کوٹھی بیچ کرکیا جنگ آزادی کی لڑائی لڑتے رہے ترک موالات تحریک مولانا حسین احمد مدنی نے چلائی، اور سن 1947 کو ملک آزاد ہوا، آزادی کے بعد ملک میں جو صورتحال بنی وہ عجیب و غریب تھی ملک تقسیم ہوگیا مسلمانوں کی ساری طاقت کو بکھر گئی ایک طرف اکثریت والے کھڑے ہوگئے اور کہا مسلمانوں نے اپنے اسلام کے نام پر پاکستان لے لیا ہے اب یہ ملک ہندو اسٹیٹ بننا چاہیے مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی وغیرہ نے جواہر لال نہرو کا ہاتھ پکڑلیا کہا ہم نے آزادی وقت کے قریب وعدہ لیا تھا اس ملک کا قانون سیکولر بنے گا اور وعدہ پورا کیجیے ہم نہیں جانتے پاکستان کس نے لیا ہے مجرم وہ ہیں جو پاکستان لیا ہے اسکے بننے پر دستخط کیے ہیں ہم کل بھی تقسیم کے مخالف تھے آج بھی ہے لہذا آزادی کے بعد ملک تقسیم کے باوجود ملک ہندوستان سیکولر بنا اور آج ہم آزادی کی سانس لے رہے ہیں اللہ اکبر کی صدائیں بلند کررہے ہیں یہ علماء و اکابرین آباو اجداد کا دیا ہوا ایک تحفہ ہے پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہیں جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہیں بعداز صدارتی خطاب میں مفتی اسمٰعیل قاسمی نے کہا کہ آج کے موجودہ حالات میں یاد محبانِ وطن پروگرام وقت کی ضرورت ہے ملک کی جنگ آزادی میں جتنا مسلمانوں نے خون بہایا ہے برادران وطن نے اتنا پسینہ بھی نہیں بہایا ہے جب 30 سال قبل اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے دلی کے لال قلعے سے 15 اگست کے موقع پر ایک بھی مسلم مجاہدین آزادی کا نام نہیں لیا اسی دن فدائے ملت مولانا اسعد مدنی نواراللہ مرقدہ نے کہا ہر سال یوم آزادی اور یوم جمہوریہ منایا جاۓ گا اور مسلمانوں نے جو قربانیاں پیش کی ہیں اس کا تذکرہ آنے والی نسلوں تک پہنچایا جائے گا آج ہماری تاریخ کو مسخ کرنے نصابی تعلیم سے ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مسلمانوں کی وفاداری کو شک کے دائرے میں لایا جا رہا ہے دوسرے نمبر کا شہری ثابت کرنے کی ارباب اقتدار والے سازش کررہے ہیں اس صورتحال میں جمعیت علماء کا یاد محبانِ وطن پروگرام وقت کی اہمیت و تقاضے کیساتھ زندہ قوموں کیلئے عین مترادف ہے جمعیت علماء کا ہندوستان میں مسلمانوں پر بہت بڑا احسان ہے کسی جماعت کا سو سال سے زائد عرصے تک باقی رہنا اسکی نافعیت کی علامت ہے الحمداللہ آج پورے ملک میں جمعیت علماء مظلوموں کی دادرسی اور ملک کے اقلیتوں کے حقوق اور اسکے تحفظ کیلئے جدوجہد کرتی ہیں جلسہ میں مولانا ظہیر ملی، حاجی مکی سیٹھ، عبدالمالک بکرا، قاری انیس فہمی، عبدالرحمن پیارے، مولانا شفیق فلاحی، اسمٰعیل پہلوان، مفتی نعیم اختر، قاری عبدالجلیل، عمر فاروق، مفتی امتیاز فلاحی، فقیر محمد، عزیزالرحمن نوفل وغیرہ ہزاروں افراد جلسہ میں شریک تھے.

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے