ایجوکیشن محکمہ ایکشن موڈ میں! ٹیچرس کے کاغذات کی جانچ و تصدیق کی جائے گی
گھوٹالوں کی گونج کے درمیان یکے بعد دیگرے کئی سرکاری فرمان سے شعبہ تعلیم میں ہلچل
30 اگست تک ہیڈ ماسٹر کو اساتذہ کے تمام دستاویزات اپ لوڈ کرنے کا حکم
ممبئی/ پونہ : 10 اگست (بیباک نیوز اپڈیٹ)گزشہ کئی مہینوں سے ایجوکیشن محکمہ ایکشن موڈ میں نظر ارہا ہے ۔ناگپور ٹیچر بھرتی گھوٹالے میں کئی گرفتاریاں بھی ہوئیں، اعلیٰ حکام سے لیکر معمولی کلرک اور اساتذہ کو بھی گرفتار کیا گیا ۔وہیں بیشتر اسکولوں کے ذمہ داران کو بھی گرفتار کیا گیا ہے ۔اسی طرح یہ گھوٹالہ ناگپور تک ہی محدود نہیں رہا ۔اس معاملے کی جانچ جب ایس آئی ٹی کو دی گئی تو ناگپور ایس آئی ٹی سنسنی خیز انکشافات کئے اور پوری ریاست میں اس طرح کے گھوٹالہ کے تار کو اجاگر کیا ۔اسی سلسلے کو روک کر شعبہ تعلیم میں شفافیت اور ایمانداری برتنے کیلئے سرکار نے جانچ پڑتال کو تیز کردیا ہے، سرکاری سطح پر ایجوکیش محکمہ کے کئی فرمان آنے سے پور ریاست میں ہلچل مچ گئی ۔ابھی بوگس شالارتھ آئی ڈی کی جانچ جاری ہے ،اسی درمیان ایس آئی ٹی جانچ کی تشکیل کرنا اور جانچ شروع کردی گئی ہے اور اب ریاست کے تمام اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ کے کاغذات کی جانچ و تصدیق کرنے کا فرمان بھی سرکار نے جاری کیا ہے ۔ان کاغذات میں اساتذہ کو 16 دستاویزات جمع کرنا ہوگا ۔تفصیل کے مطابق اساتذہ کی تمام منظوری کی جانچ و تصدیق کی جائے گی اور اس کے لیے ان کے تمام دستاویزات آن لائن اپ لوڈ کرنے کی ذمہ داری پرنسپل اور ہیڈ ماسٹرز کو سونپی گئی ہے۔ 30 اگست تک اسکی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ ارادہ یہ ہے کہ ان تمام دستاویزات کی تصدیق کے بعد ذاتی منظوری(اپروول) اور شالارتھ آئی ڈی میں ہونے والی دھوکہ دہی سامنے آجائے گی۔محکمہ تعلیم نے شالارتھ سسٹم سے تنخواہ لینے والے تمام اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کے کاغذات شلارتھ سسٹم پر اپ لوڈ کرنے کا حکم دیا ہے۔ تمام دستاویزات کو ڈیجیٹل کیا جائے گا۔ 7 جولائی 2025 سے پہلے جاری کردہ تمام Shalarth IDs، یعنی ذاتی منظوری کے احکامات، Shalarth ID کے احکامات، پرائیویٹ مینجمنٹ کے تقرری کے احکامات اور 18 نومبر 2016 سے 7 جولائی 2025 تک ملازمین کے داخلے کی رپورٹس متعلقہ اسکولوں اور کالجوں کے پرنسپلوں اور ہیڈ ماسٹر کے ذریعہ اپ لوڈ کی جانی چاہئیں۔
اس دوران 7 نومبر 2012 سے 18 نومبر 2016 تک کے پرائیویٹ مینجمنٹ آرڈرز، ملازمین کے داخلے کی رپورٹس اور اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کی ذاتی منظوری جیسی دستاویزات جمع کرانی ہوں گی۔ جن اساتذہ کے کاغذات میں تضاد یا جعلسازی پائی جائے گی ان کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے گی۔ ایسے ملازمین کو معطل یا برطرف بھی کیا جا سکتا ہے۔
7 نومبر 2012 سے 7 جولائی 2025 تک تمام دستاویزات جیسے داخلہ رپورٹس، ذاتی منظوری، تقرری کے احکامات، اور اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کی اسکول آئی ڈی کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ اس وقت اگر کوئی بوگس دستاویزات کے ذریعے تنخواہ وصول کرتا ہوا پایا گیا تو اس کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔ تمام دستاویزات کی تصدیق ستمبر سے شروع ہوگی۔
غیر قانونی اسکول آئی ڈیز تلاش کرنے کے لئے ٹیم
ریاست میں نااہل اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کے نام اسکول فیس سسٹم میں ہیں، اور وہ غیر قانونی طور پر تنخواہیں وصول کررہے ہیں۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن نے ان کی تلاش کے لیے پونے کے ڈویژنل کمشنر چندرکانت پلکنڈوار، انسپکٹر جنرل آف پولیس (قانون و نظم) منوج شرما اور تعلیم کے جوائنٹ سیکرٹری ڈائرکٹر ہارون عطار پر مشتمل ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم مقرر کی ہے۔ کمیٹی 2012 کے بعد سے اپروول اور شالارتھ آئی ڈی کی تصدیق کرے گی، اور انہیں تین ماہ کے اندر حکومت کو تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔ دریں اثناء ایجوکیشن افسران کے خلاف کارروائی کو لیکر ایجوکیشن افسران جمعہ سے ہڑتال پر ہیں ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com