مالیگاؤں بم دھماکہ فیصلہ : گاندھی کے دیش میں یہ کیا ہورہا ہے؟ہندو تنظیموں کے جشن پر آصف شیخ کی تنقید، کہیں سرکاری سرپرستی تو حاصل نہیں ؟۔



مالیگاؤں بم دھماکہ فیصلہ : گاندھی کے دیش میں یہ کیا ہورہا ہے؟ہندو تنظیموں کے جشن پر آصف شیخ کی تنقید، کہیں سرکاری سرپرستی تو حاصل نہیں ؟


مہاراشٹر سرکار نے ٹرین بم دھماکہ کے فیصلے کو چلینج کیا اب این آئی اے عدالت کے فیصلے کو بھی فوری طور ہائی کورٹ میں چیلنج کریں 





کیا ملک میں در پردہ دو رخی قانون چل رہا ہے؟ بہت جلد سرکار کی نیت سے واضح ہوجائے گی 


مالیگاؤں : یکم جولائی (بیباک نیوز اپڈیٹ) بھکو چوک مالیگاؤں بم دھماکہ فیصلہ میں ہندتوا نظریہ کے حامل تمام ساتوں ملزمین کے بری ہوجانے کے بعد مالیگاؤں شہر میں ہندتوا تنظیموں نے جس طرح جلوس نکال کر جشن منایا وہ انتہائی افسوسناک بات ہے ۔اس سے پہلے مالیگاؤں سمیت ملک بھر میں جہاں کہیں مسلم سماج سے متعلق افراد عدالت سے باعزت بری ہوئے انہوں نے کبھی جلوس نکال کر جشن نہیں منایا ۔ابھی حال ہی میں ٹرین بم دھماکے میں مسلم سماج سے تعلق رکھنے والے افراد باعزت بری ہوئے لیکن کہیں کوئی جشن نہیں منایا گیا پھر کیوں ایسا ہوا کہ مالیگاؤں میں ہندتوا تنظیموں نے جلوس نکال کر جشن منایا ؟کیا انہیں سرکار کی سرپرستی حاصل ہے؟ اس طرح کے تاثرات کا اظہار و تنقید سابق ایم ایل اے آصف شیخ نے کی، آصف شیخ نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ہم مذہب سے دہشتگردی کو جوڑ کر نہیں دیکھتے ہیں لیکن کچھ لوگ اس ملک میں ہر چیز کو مذہب سے جوڑ کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ضرب پہنچانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔انہوں نے اس حرکت کی مذمت بھی کی اور کہا کہ سرکار کو اس جانب دھیان دینا چاہیے ۔اس لئے کہ یہ گاندھی کا دیش ہے ۔یہ ملک سیکولر ازم کا گہوارہ ہے ۔اگر گاندھی جی کے دیش میں اتنی فرقہ پرستی اور نفرت بڑھ رہی ہے اسکا ذمہ دار کون؟ اس طرح کا سوال بھی انہوں نے سرکار سے کیا ۔



اسی طرح آصف شیخ نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ممبئی ٹرین بم دھماکے میں باعزت بری ہونے والے مسلم افراد کیخلاف مہاراشٹر حکومت سپریم کورٹ پہنچی اور ہائی کورٹ کے فیصلے پر اسٹے لیا۔اسی طرح مہاراشٹر سرکار این آئی اے کی خصوصی عدالت کے فیصلے کو بامبے ہائی کورٹ میں چلینج کرے ۔اس طرح کا مطالبہ مالیگاؤں کی عوام کی جانب سے آصف شیخ نے سرکار سے کیا ۔آصف شیخ نے کہا کہ مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں جو فیصلہ آیا ہے اس میں سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر سمیت تمام ملزمین کو بری کردیا گیا ہے اب جانچ ایجنسی این آئی اے اور سرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس فیصلے کو ممبئی ہائی کورٹ میں چلینج کرے ۔آصف شیخ نے کہا کہ سرکار کے اگلے قدم سے پورے ملک کو پتہ چل جائے گا کہ اس ملک میں ایک قانون چلتا ہے یا دو رخی قانون ؟۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے