مہاراشٹر: یکم نومبر سے ہزاروں تدریسی و غیر تدریسی ملازمین کی تنخواہوں پر بحران کا خدشہ، شالارتھ سسٹم کی خامیاں دور کرنے اکتوبر آخر تک مہلت
منظور شدہ پوسٹ سے زائد پوسٹ پر کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں پر روک لگانے کا فیصلہ،شالارتھ اور سینیئرٹی ریکارڈ کی جانچ کے احکامات
ممبئی: 12 اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) مہاراشٹر میں اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق ایک اہم خبر سامنے آئی ہے۔ ریاستی محکمۂ تعلیم نے شالارتھ نظام میں موجود خامیوں اور ملازمین کے ریکارڈ میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں کو دور کرنے کے لیے سخت اقدامات کی ہدایت دی ہے۔محکمۂ تعلیم کی ہدایات کے مطابق، منظور شدہ عہدوں کی تعداد سے زیادہ عہدوں پر کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہیں یکم نومبر 2026 سے ادا نہیں کی جائیں گی۔ اس سلسلے میں شالارتھ نظام، منظور شدہ عہدوں اور اسکولوں میں حقیقتاً کام کرنے والے ملازمین کے ریکارڈ کے درمیان پائے جانے والے فرق کو اکتوبر کے اختتام تک دور کرنے کی مہلت دی گئی ہے۔
ستمبر اور اکتوبر میں خصوصی رعایت
موصولہ اطلاعات کے مطابق، تعلیمی سال 2024-25 اور 2025-26 کی منظور شدہ افرادی قوت کے مطابق عہدوں سے زائد ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے یکم اپریل 2026 سے خصوصی منظوری کی بنیاد پر سہولت دی گئی تھی۔ بعد ازاں ستمبر اور اکتوبر 2026 کی تنخواہوں کے لیے بھی اعلیٰ افسران کی منظوری سے اس رعایت کو جاری رکھا گیا۔ تاہم، اب نومبر سے قواعد پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا اور منظور شدہ عہدوں کی حد سے تجاوز کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
شالارتھ نظام میں خامیوں کی متعدد وجوہات
شالارتھ نظام میں خامیوں کی کئی وجوہات سامنے آئی ہیں۔ ان میں اضافی اساتذہ کی دوسری اسکولوں میں تقرری یا ایڈجسٹمنٹ کا مکمل نہ ہونا، ڈیجیٹلائزیشن کے دوران دستاویزات کا نامکمل رہنا، تاریخ پیدائش اور ملازمت میں شمولیت کی تاریخ کے غلط اندراجات، شالارتھ نظام اور اسکولوں کی منظور شدہ افرادی قوت کے ریکارڈ میں فرق، یوڈائس (UDISE) نمبر سے متعلق تضادات، اسکولوں کی بندش اور عدالتی مقدمات شامل ہیں۔ ان مسائل کے باعث تنخواہوں کی ادائیگی کے عمل میں رکاوٹیں پیدا ہورہی تھیں۔
افسران اور اسکول انتظامیہ کو ریکارڈ درست کرنے کی ہدایت
محکمۂ تعلیم نے ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹروں اور ضلع کے تعلیمی افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ اکتوبر کے اختتام تک شالارتھ نظام کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے ضروری کارروائی مکمل کریں۔ جن ملازمین کی تنخواہیں رکی ہوئی ہیں، ان کے سروس ریکارڈ کی جانچ، ضرورت کے مطابق شالارتھ نظام میں ملازمین کے اندراجات کی اصلاح اور اضافی اساتذہ کو دوسری اسکولوں میں ایڈجسٹ کرنے جیسے اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔ اسکول انتظامیہ اور متعلقہ افسران کو بھی اپنے ریکارڈ اور دستاویزات کی جانچ کرکے ضروری اصلاحات مکمل کرنا ہوں گی۔
یکم نومبر سے سخت جانچ، اساتذہ میں تشویش
محکمۂ تعلیم کی ہدایات کے مطابق، نومبر 2026 سے تنخواہوں کے بلوں کی جانچ مزید سخت کی جائے گی۔ اگر منظور شدہ عہدوں، ملازمین کے اندراجات یا دیگر خدماتی تفصیلات میں خامیاں دور کیے بغیر تنخواہوں کے بل پیش کیے گئے تو ان کی منظوری میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ریاست کے اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین میں تشویش پائی جارہی ہے۔محکمۂ تعلیم کے اس اقدام کا مقصد شالارتھ نظام میں موجود تضادات کو دور کرنا، ملازمین کا ریکارڈ درست بنانا اور تنخواہوں کی ادائیگی کے عمل کو قواعد کے مطابق لانا ہے۔ تاہم، متعلقہ ملازمین کی تنخواہوں کے معاملے میں عملی صورتحال اس بات پر منحصر ہوگی کہ اسکول انتظامیہ اور محکمۂ تعلیم کے افسران مقررہ مدت میں ضروری کارروائی کس حد تک مکمل کرتے ہیں۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com