ناسک : ہزاروں اساتذہ کی سروس پر لٹکی تلوار،برطرفی اور تنخواہ وصول کرنے کیلئے بڑی کارروائی کی تیاری
ناسک: 7 اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) شالارتھ آئی ڈی گھوٹالہ معاملہ میں ناسک ڈویژن کے تقریباً 3 ہزار اساتذہ کی ملازمتوں اور ان کی بھرتیوں سے متعلق دستاویزات کی جانچ کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مبینہ طور پر غیر قانونی یا مشتبہ طریقے سے بھرتی پائے جانے والے اساتذہ کی سروس ختم کرنے اور انہیں اب تک ادا کی گئی تنخواہوں کی رقم واپس وصول کرنے کی کارروائی شروع کیلئے بڑی کارروائی کی تیاری جاری ہوچکی ہے۔ذرائع کے مطابق شالارتھ آئی ڈی سے متعلق معاملہ میں دو الگ الگ مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں تقریباً 2,700 اساتذہ کے نام شامل ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ معاملے کی حساسیت کے پیش نظر متعلقہ تحقیقاتی ایجنسیاں اور محکمہ تعلیم بھرتیوں کے ریکارڈ، تقرری احکامات، تعلیمی اسناد اور دیگر متعلقہ دستاویزات کی جانچ کر رہے ہیں۔
تحقیقات کے دائرے میں سال 2010 سے ہونے والی اساتذہ کی بھرتیوں کو شامل کیے جانے کی اطلاع ہے۔ پولس اور محکمہ تعلیم کی جانب سے بھرتیوں سے متعلق دستاویزات کی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے،جبکہ ناسک ڈویژن کے مختلف اضلاع سے متعلقہ فائلیں اور ریکارڈ طلب کرکے ان کی چھان بین کا سلسلہ جاری ہے۔ذرائع کے مطابق ناسک ڈویژن کے ناسک، دھولیہ، جلگاؤں، نندوربار اور احمد نگر اضلاع سے اساتذہ کی بھرتیوں سے متعلق فائلیں جمع کی جا رہی ہیں۔ ان ریکارڈ میں تقرری کے عمل سے لے کر شالارتھ آئی ڈی اور تنخواہوں کی منظوری تک مختلف مراحل کی جانچ کی جا رہی ہے۔کاغذات کی جانچ مکمل ہونے کے بعد ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن کی جانب سے ان اساتذہ کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔اگر کسی استاد کی تقرری یا شالارتھ آئی ڈی کے معاملے میں بے ضابطگی ثابت ہوتی ہے تو سروس ختم کرنے کے ساتھ اب تک حاصل کی گئی تنخواہوں کی وصولی کا معاملہ بھی سامنے آ سکتا ہے۔اس گھوٹالہ میں صرف اساتذہ ہی نہیں بلکہ متعلقہ تعلیمی اداروں کے منتظمین اور ہیڈ ماسٹرس کے کردار کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق بے ضابطگیوں میں ملوث پائے جانے والے ذمہ دار افراد کے خلاف الگ سے فوجداری کارروائی کا امکان ہے۔شالارتھ آئی ڈی گھوٹالہ کی تحقیقات میں ناسک ڈویژن کے ہزاروں اساتذہ اور متعدد تعلیمی اداروں کا ریکارڈ زیرِ جانچ آنے سے تعلیمی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ تاہم حتمی کارروائی تحقیقاتی رپورٹ اور متعلقہ حکام کے فیصلے کے بعد ہی واضح ہوگی۔ فی الحال محکمہ تعلیم اور تحقیقاتی اداروں کی جانب سے ریکارڈ کی جانچ اور حقائق کی چھان بین کا عمل جاری ہے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com