مالیگاؤں میں ٹیچر کی اچانک موت پر ہنگامہ،ڈپٹی ڈائریکٹر اور ایجوکیشن آفیسران سمیت 5 افراد کیخلاف مقدمہ درج!



مالیگاؤں میں ٹیچر کی اچانک موت پر ہنگامہ،ڈپٹی ڈائریکٹر اور ایجوکیشن آفیسران سمیت 5 افراد کیخلاف مقدمہ درج!



انتظامی انکوائری کے نام پر مبینہ ذہنی ہراسانی اور دھمکیوں کا الزام، اسکول معائنے کے دوران طبیعت بگڑی، اسپتال پہنچنے سے قبل ہی موت



مالیگاؤں: 9 ستمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ)مالیگاؤں شہر کے میونسپل ہائی اسکول و جونیئر کالج کے پروفیسر سوپان کھنڈے راؤ بورسے کی اچانک موت کے معاملے نے نیا اور سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔ متوفی ٹیچر کے اہل خانہ کی شکایت پر مالیگاؤں شہر پولس نے ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن اور تعلیمی افسران سمیت 5 افراد کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولس نے معاملے کی باقاعدہ تفتیش شروع کردی ہے۔متوفی پروفیسر کے بھائی پروین کھنڈے راؤ بورسے کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ضلع پریشد ناسک کے ایجوکیشن آفیسر پرشانت دگاسکر، ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن سنجے راٹھوڑ، تاناجی گھونگڑے، نیلیش پاٹولے اور ایک نامعلوم شخص نے انتظامی انکوائری کے نام پر سوپان بورسے کو مبینہ طور پر مسلسل ذہنی دباؤ میں رکھا۔شکایت کے مطابق، سوپان بورسے کو بار بار طلب کیا جاتا تھا اور مبینہ طور پر ان سے پوچھ گچھ، ہراسانی اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری تھا۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ ان واقعات کے باعث وہ گزشتہ کچھ عرصے سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔ تاہم ان الزامات کی مکمل حقیقت پولس کی تفتیش کے بعد ہی واضح ہوگی۔


شکایت میں مزید بتایا گیا ہے کہ 8 ستمبر کو اسکول کے معائنے کے دوران سوپان بورسے کی اچانک طبیعت بگڑ گئی۔ انہیں فوری طور پر علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے شدید دل کا دورہ پڑنے کے باعث ان کی موت کی تصدیق کی۔واقعے کے بعد متوفی کی نعش کو طبی قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے مالیگاؤں جنرل اسپتال منتقل کیا گیا۔ ٹیچر کی اچانک موت کی خبر پھیلتے ہی تعلیمی حلقوں اور ساتھی اساتذہ میں غم و غصے کی کیفیت پیدا ہوگئی۔مالیگاؤں شہر پولس نے شکایت کی بنیاد پر بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعہ 105، 351(2) اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کے مطابق معاملے کے تمام پہلوؤں کی تفتیش کی جا رہی ہے اور شکایت میں عائد الزامات کی بھی جانچ کی جائے گی۔اس کیس کی مزید تفتیش پولس انسپکٹر سندیپ بھگوان پاٹل کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ اب پولیس کی تفتیش میں یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ متوفی ٹیچر پر مبینہ طور پر کس نوعیت کا دباؤ تھا، انکوائری کے دوران کیا واقعات پیش آئے اور ان کی اچانک موت سے شکایت میں نامزد افراد کے الزامات کا کوئی قانونی تعلق بنتا ہے یا نہیں۔ٹیچر سوپان بورسے کی موت نے محکمۂ تعلیم کی انتظامی کارروائیوں اور افسران کے مبینہ رویے پر بھی کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اب سب کی نظریں پولس کی تفتیش اور پوسٹ مارٹم رپورٹ پر مرکوز ہیں، جس کے بعد معاملے کی اصل حقیقت مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے