مذہب کے نام پر سیاست؟، ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف آصف شیخ کی قانونی جنگ تیز، 15 ستمبر کو تین رکنی بنچ کے سامنے سماعت

 

مذہب کے نام پر سیاست؟، ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف آصف شیخ کی قانونی جنگ تیز، 15 ستمبر کو تین رکنی بنچ کے سامنے سماعت

مذہب کے نام پر سیاست؟، ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف آصف شیخ کی قانونی جنگ تیز، 15 ستمبر کو تین رکنی بنچ کے سامنے سماعت

 



آصف شیخ کی جانب سے سینئر کونسل ایڈوکیٹ چپلگاؤکر،ایڈوکیٹ ونئے نوارے،ایڈوکیٹ پلوڈکر اور ایڈوکیٹ اسنیہا سنجے کی ٹیم پیروری کیلئے تیار 




آصف شیخ کا بیان، مفتی اسمٰعیل کی رکنیت کالعدم قرار دینے ہائی کورٹ نے اہم شواہد اور نکات پر غور نہیں کیا 







مالیگاؤں: 26 اگست (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں کے سابق رکن اسمبلی آصف شیخ نے ممبئی ہائیکورٹ کے 8 جون 2026 کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آف انڈیا میں سول اپیل دائر کی ہے۔ اس معاملے کی سماعت 24 اگست کو سپریم کورٹ میں ہوئی، جس کے بعد آئندہ سماعت 15 ستمبر 2026 کو تین رکنی ججز بنچ کے سامنے مقرر کی گئی ہے۔سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت یہ معاملہ شیخ آصف شیخ رشید اور مفتی محمد اسماعیل عبدالخالق و دیگر کے درمیان ہے۔ سول اپیل نمبر 39217/2026 کے تحت یہ معاملہ 24 اگست کو سپریم کورٹ کے کورٹ نمبر 2 میں جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل دو رکنی بنچ کے سامنے پیش ہوا۔یہ اپیل بمبئی ہائیکورٹ کے 8 جون 2026 کو جاری کردہ فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے ہائیکورٹ کے حکم پر حکمِ امتناعی جاری کرنے کے علاوہ مجلس کے رکن اسمبلی کی رکنیت سے متعلق دیگر قانونی ریلیف فراہم کرنے کی بھی استدعا کی ہے۔اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے آصف شیخ نے کہا کہ ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران ان کی جانب سے متعدد اہم شواہد پیش کیے گئے تھے، جن میں ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگز، پمفلٹس، اخباری تراشے اور تقاریر کے متن شامل تھے۔ ان کے مطابق ہائیکورٹ کے فیصلے میں بعض بنیادی نکات کا احاطہ کیا گیا، تاہم ان کی جانب سے پیش کیے گئے کچھ اہم شواہد اور نکات پر مناسب غور نہیں کیا گیا۔



آصف شیخ نے کہا کہ ہندوستانی جمہوریت میں ہر شہری کو انصاف کے حصول کے لیے اعلیٰ ترین عدالت سے رجوع کرنے کا قانونی اور جمہوری حق حاصل ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی ہو یا مجلس، دونوں جماعتیں سیاست میں مذہب کے استعمال کے معاملے میں یکساں مؤقف رکھتی ہیں۔ ان کے بقول سیاست میں مذہب کے استعمال کا خاتمہ ہونا چاہیے، اور اسی اصول و انصاف کے حصول کے لیے وہ سپریم کورٹ میں اپنی قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے۔اس اہم معاملے کی پیروی کے لیے آصف شیخ کی جانب سے سینئر اور ماہر وکلاء پر مشتمل قانونی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ درخواست گزار کی طرف سے ایڈووکیٹ چپلگاؤکر سدھارتھ سارنگ، ایڈووکیٹ ونئے نوارے، سینئر کونسل ایڈووکیٹ دیو دتہ پلوڈکر اور ایڈووکیٹ سنیہا سنجے بوٹوے نے عدالت میں پیروی کی۔دوسری جانب فریقِ ثانی مفتی محمد اسماعیل و دیگر کی طرف سے ایڈووکیٹ اشون ارون ہرولکر، ایڈووکیٹ سُیاش نتن کھوسے، ایڈووکیٹ عبدالقدیر شبیر احمد اوٹی اور ایڈووکیٹ گھاٹولے شاکل راجیش عدالت میں موجود رہے اور وکالت نامہ پیش کیا۔24 اگست کی سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے پیش کی گئی استدعا اور درخواست پر غور کے بعد سپریم کورٹ نے معاملے کی آئندہ سماعت 15 ستمبر 2026 کو مقرر کی ہے۔ آئندہ سماعت میں فریقین کے مؤقف اور درخواست سے متعلق مزید قانونی کارروائی متوقع ہے۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے