ٹی ای ٹی پیپر لیک معاملہ کی SIT کے ذریعے تفتیش جاری، خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی: وزیرِ تعلیم دادا بھسے ​

 ​ٹی ای ٹی پیپر لیک معاملہ کی SIT کے ذریعے تفتیش جاری، خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی: وزیرِ تعلیم دادا بھسے 



​امتحانی نظام کو شفاف بنانے کیلئے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم، تحریری یقین دہانی کے بعد سمیک ودیارتھی تنظیم کا احتجاج ختم



ٹی ای ٹی پیپر لیک معاملہ میں ایس آئی ٹی کی جانچ جاری


​مالیگاؤں: 13 جولائی (بیباک نیوز اپڈیٹ) مہاراشٹر کے وزیرِ اسکول تعلیم دادا بھوسے نے ٹیچر الیجبلٹی ٹیسٹ (TET) پیپر لیک اسکینڈل کو حکومت کی جانب سے انتہائی سنگین نوعیت کا قرار دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اس پورے معاملے کی جڑ تک پہنچنے کے لیے ایک اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) تشکیل دے دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایس آئی ٹی اس گھناؤنے کھیل کی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے اور طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والے ملوث افراد کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔وزیرِ موصوف نے یہ بات طلبہ تنظیم 'سمیک ودیارتھی اندولن' کے نمائندوں سے ملاقات اور میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی۔​وزیرِ تعلیم نے مزید بتایا کہ چیف منسٹر دیویندر پھڑنویس کی خصوصی ہدایات پر ریاست کے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ یہ خصوصی کمیٹی مستقبل میں منعقد ہونے والے تمام سرکاری و تعلیمی امتحانات کو مکمل طور پر شفاف، منصفانہ اور محفوظ انداز میں انجام دینے کے لیے ایک جامع رپورٹ اور نیا امتحانی فارمیٹ تیار کرے گی، تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی اسکینڈل کا راستہ ہمیشہ کے لیے روکا جا سکے۔



​دوسری جانب 'سمیک ودیارتھی اندولن' کے نمائندوں نے وزیرِ تعلیم سے کامیاب ملاقات کے بعد بتایا کہ تنظیم کی جانب سے پیش کیے گئے ۱۲ مطالبات پر حکومت نے مثبت رخ اپناتے ہوئے تحریری جواب دے دیا ہے۔ طلبہ رہنماؤں کے مطابق ان کے مطالبات میں سے تقریباً آدھے مسائل فوری طور پر حل کر دیے گئے ہیں، جبکہ باقی ماندہ پیچیدہ مطالبات کو آئندہ اسمبلی کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ وزیرِ تعلیم کی اس مثبت اور ٹھوس یقین دہانی کے بعد طلبہ نے اپنا جاری احتجاج ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔

​ریاستی سیاست اور تعلیمی حلقوں میں اس بات کو بے حد سراہا جا رہا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب کوئی وزیرِ تعلیم خود روایتی دوریوں کو ختم کر کے طلبہ کے مسائل سننے ان کے درمیان پہنچا۔ طلبہ تنظیم نے دادا بھوسے کے اس رویے کو انتہائی مثبت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ اپنے عہدے پر رہتے ہوئے دیہی علاقوں میں تعلیم تک رسائی سمیت طلبہ کے دیگر تمام بنیادی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔ حکومت نے بھی اپنے عزم کو دہرایا ہے کہ امتحانی عمل کو ہر ممکن حد تک فول پروف اور شفاف بنایا جائے گا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے