مالیگاؤں کارپوریشن کی جنرل بورڈ میٹنگ میں شدید ہنگامہ آرائی،کئی اہم تجاویز بحث و مباحثے کے بعد منظور،انڈر گراؤنڈ ڈرینیج اسکیم میں بدعنوانی کا الزام، پانی پٹی نامنظور
مسلمانوں کے خلاف نعرے بازی پر مستقیم ڈگنٹی آگ بگولہ،میٹنگ ہال میں دیا کرارہ جواب، زہر افشانی ہرگز برداشت نہیں
'سکل ہندو سماج' کے مورچے میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے بازی، مسلم کارپوریٹرز اور شہریوں کا صبرو تحمل کا مظاہرہ، اشتعال انگیزی کی سخت مذمت
مالیگاؤں : 2 جولائی (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں کارپوریشن انتظامیہ کی جانب سے ہر سال پانی پٹی میں 5 فیصد اضافے کی تجویز کو جنرل بورڈ میٹنگ میں اراکین نے متفقہ طور پر نامنظور کر دیا ہے۔ کارپوریشن کی یہ اہم جنرل بورڈ میٹنگ میئر نسرین حاجی خالد شیخ کی صدارت میں منعقد ہوئی، جس میں آغاز ہی سے مستقل اراکین اور اپوزیشن کے درمیان مختلف عوامی مسائل اور تجاویز پر شدید بحث و مباحثہ اور ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی۔ میٹنگ کے دوران انڈر گراؤنڈ ڈرینیج اسکیم میں کروڑوں روپے کی بدعنوانی اور گھپلے کا معاملہ بھی گرمایا رہا، جہاں اراکین نے انتظامیہ پر پشت پناہی کا سنگین الزام عائد کیا۔طویل جرح اور بحث کے بعد ہی جنرل بورڈ میں کئی دیگر اہم تجاویز کو منظوری دی جا سکی۔تفصیلات کے مطابق، میٹنگ کے آغاز میں بی جے پی اور کارپوریشن انتظامیہ کی جانب سے پیش کی گئی پانی پٹی میں سالانہ 5 فیصد اضافے کی تجویز پر کارپوریٹرز نے سخت احتجاج درج کرایا۔اراکین کا موقف تھا کہ شہریوں پر پہلے ہی ٹیکسوں کا بوجھ ہے، ایسے میں یہ اضافہ غریب اور متوسط طبقے پر ظلم کے مترادف ہوگا، جس کے بعد اس تجویز کو متفقہ طور پر نامنظور کر دیا گیا۔
دوسری جانب 'امرت اسکیم' کے تحت انڈر گراؤنڈ ڈرینیج کے کاموں میں کروڑوں روپے کی بدعنوانی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے اراکین نے جے وی کنسٹرکشن (JV) کمپنی کے کاموں کو انتہائی ناقص اور نامکمل قرار دیا۔ ڈاکٹر خالد پرویز اور کارپوریٹر جاوید عبدالستار نے پوائنٹ آف آرڈر لاتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان کے وارڈز میں پیج ورک کے نام پر کروڑوں روپے کاغذات پر ہضم کر لیے گئے ہیں جبکہ حقیقت میں کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کارپوریشن انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ کے افسران ٹھیکیداروں کے ساتھ مل کر اس بدعنوانی کی پشت پناہی کر رہے ہیں، جس پر ڈپٹی میئر اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین اعجاز بیگ نے رولنگ دیتے ہوئے تحقیقات کی یقین دہانی کرائی۔
اسی دوران، کارپوریشن کی میٹنگ کے وقت باہر 'سکل ہندو سماج' کی جانب سے ایک بڑے مورچے اور احتجاج کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس احتجاج کے دوران مقررین نے مسلمانوں کے خلاف شدید زہر افشانی کی اور 'لینڈ جہاد'، 'لو جہاد' اور 'لانڈیا' جیسے اشتعال انگیز اور نفرت انگیز الفاظ کا استعمال کیا۔ ہاتھوں میں تختیاں لیے مظاہرین کارپوریشن کے گیٹ پر جمع رہے اور تقریباً تین گھنٹے تک احتجاج اور تقریریں جاری رکھیں۔ مشتعل مقررین اور مظاہرین نے کارپوریشن کی نئی عمارت کا گیٹ زبردستی کھولنے اور اندر داخل ہونے کی کوشش بھی کی، تاہم پولیس کے معقول اور سخت بندوبست کی وجہ سے وہ اپنے عزائم میں ناکام رہے۔کارپوریشن ہاؤس کے اندر مسلم کارپوریٹرز نے باہر ہونے والی اس نفرت انگیز نعرے بازی اور غیر قانونی کلچر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو گالی دینا اور شہر کا امن خراب کرنا اب ایک فیشن بن چکا ہے جسے ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت اور انتظامیہ ایسے فتنہ انگیز عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے۔
بورڈ میٹنگ کے دوران کچھ عناصر نے مسلمانوں کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی، جس سے ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا۔ مستقیم ڈگنٹی نے فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ مسلمان 11 بجے سے شام 3 بجے تک صبر سے بیٹھے رہے، مگر ان کے مسائل کو نظر انداز کیا گیا،مستقیم ڈگنٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا، "حکومت نے بی جے پی کی منظوری سے یہ سب کچھ کیا ہے۔ فریبی کیسے منسوخ کی گئی؟ ریزرویشن غلط طریقے سے کیسے دیا گیا؟ اگر غلطی ہے تو اس کی نگرانی کی جائے، مگر مسلمانوں کے ساتھ یہ سلوک برداشت نہیں کیا جائے گا۔" انہوں نے کمشنر سے براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا کہ انتظامیہ کہاں ہے؟ مزدوروں، خواتین اور بچوں سمیت لوگ گھنٹوں انتظار کر رہے تھے، مگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔اجلاس کے دوران شور شرابا، چیخ و پکار اور شدید بحث جاری رہی۔ شرکاء نے کمشنر اور دیگر افسران سے فوری جواب کا مطالبہ کیا۔ مستقیم ڈگنٹی نے مزید کہا کہ "عوام کے مسائل پر آواز اٹھانا ہمارا حق ہے۔ ہم کسی بھی طاقت کے سامنے جھکنے والے نہیں ہیں۔" ان کے اس بیان پر حاضرین میں جوش و خروش پایا گیا۔یہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے اب تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا، تاہم متاثرہ حلقوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔مستقیم ڈگنٹی کی قیادت میں یہ احتجاجی آواز اب مزید منظم ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن رہیں مگر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں۔ عوام الناس سے اپیل ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان برقرار رکھیں۔دوسری جانب، کارپوریشن میں آنے والے عام مسلم شہریوں اور کارپوریٹرز نے مظاہرین کی اشتعال انگیز باتوں پر مشتعل ہونے کے بجائے انتہائی صبرو تحمل، سنجیدگی اور تدبر کا مظاہرہ کیا، جس کی کارپوریشن کے اندر اور باہر سنجیدہ حلقوں کی جانب سے زبردست ستائش کی جا رہی ہے۔ تمام اراکین نے یک زبان ہو کر شہر کے امن و امان کو برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com