مالیگاؤں میں طلباء کا احتجاج، سونم وانگچوک کی حمایت میں گاندھی پتلہ پر مظاہرہ
مالیگاؤں: 17 جولائی (بیباک نیوز اپڈیٹ) سینئر سماجی کارکن اور تعلیمی شخصیت سونم وانگچوک کی بھوک ہڑتال کی حمایت میں مالیگاؤں میں طلبہ اور باشعور عوام نے زبردست احتجاج کیا۔ ایڈیشنل کلکٹر آفس کے باہر جمع ہونے والے مظاہرین نے سونم وانگچوک کی طلبہ کے مستقبل اور تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے جاری بھوک ہڑتال کی حمایت کا اظہار کیا۔سونم وانگچوک دہلی کے جنتر منتر پر 20 دن سے زائد عرصے سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پیپر لیکس (امتحانی پرچوں کے لیک ہونے) کے خلاف سخت قوانین بنائے جائیں، طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کو سزا دی جائے اور تعلیمی نظام کو مضبوط بنایا جائے۔ مظاہرین نے کہا کہ حکومت طلبہ کے مستقبل کو نظر انداز کر رہی ہے جبکہ ہر سال لاکھوں طلبہ کے خوابوں کو پیسوں کے بدلے بیچا جا رہا ہے۔
احتجاج کے دوران مقررین نے کہا کہ "تعلیم شیر کے دودھ کی طرح، جو اسے پیتا ہے وہ کبھی بھوکا نہیں رہتا" — ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے اس قول کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے حکومت پر تنقید کی کہ وہ حقیقی ہیروز کی بجائے فلمی ہیروز کو پروموٹ کرتی ہے۔ سونم وانگچوک، جو لداخ میں مصنوعی گلیشیرز بنانے، ماحولیاتی تعلیم اور فوج کی فلاح و بہبود کے کاموں کے لیے مشہور ہیں، اب طلبہ کے حقوق کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
مالیگاؤں کے طلباء مظاہرین نے حکومت کو خبردار کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے سونم وانگچوک سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھیں اور بھوک ہڑتال ختم کریں کیونکہ یہ لڑائی طویل ہے اور قوم کو ان کی ضرورت ہے۔یہ احتجاج پورے ملک میں بڑھتے ہوئے پیپر لیک اسکینڈلز اور تعلیمی بحران کے خلاف عوامی غصے کی عکاسی کرتا ہے۔ انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔


0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com