مسلمانوں کے ووٹ کاٹنے کی کس نے لی ہے سپاری؟ آصف شیخ کا بعض اسکول انتظامیہ اور بی ایل او پر شدید غصہ

 مسلمانوں کے ووٹ کاٹنے کی کس نے لی ہے سپاری؟ آصف شیخ کا بعض اسکول انتظامیہ اور بی ایل او پر شدید غصہ



سرکاری ہدایات کی خلاف ورزی اور سست رفتاری پر تشویش کا اظہار، اعلیٰ حکام سے شکایت کا انتباہ



حج ٹریننگ سینٹر میں ایس آئی آر رہنمائی پروگرام سے آصف شیخ کی مخاطبت 




آصف شیخ کی اسکول انتظامیہ اور بی ایل اوز سے شکایت



​مالیگاؤں :11 جولائی (بیباک نیوز اپڈیٹ) سابق رکن اسمبلی اور اسلام پارٹی کے رہنما آصف شیخ نے ووٹر لسٹ کی تصدیق SIR سروے کے موجودہ عمل کے دوران مسلم ووٹروں کے نام بڑے پیمانے پر حذف کیے جانے کے خطرے پر شدید تشویش اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اسکول نمبر ایک حج کمیٹی سینٹر میں ایک اہم میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بعض مقامی اسکول انتظامیہ اور بوتھ لیول افسران (بی ایل او) کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان پر سنگین الزامات عائد کیے۔



​​آصف شیخ نے اپنے خطاب میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ "مسلمانوں کے ووٹ کاٹنے کی کس نے سپاری لی ہے؟" انہوں نے الزام لگایا کہ بعض اسکول انتظامیہ اور بی ایل او ووٹر فارم بھرنے کے عمل میں عوام کے ساتھ بالکل تعاون نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ یہ عناصر مبینہ طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اشارے پر مسلم اکثریتی علاقوں سے ووٹروں کے نام غائب کرنے کی سازش کا حصہ بن رہے ہیں۔​انہوں نے مزید کہا کہ ​"ہمیں بی جے پی کی سیاسی مخالفت سے کوئی ڈر نہیں ہے، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ شہر کے بی ایل اوز اور اسکول انتظامیہ خود اس سازش میں مصروف نظر آ رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا جا سکے۔"


​سابق ایم ایل اے نے انکشاف کیا کہ شہر کے چند اسکولوں میں اساتذہ کو مبینہ طور پر یہ ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ ووٹر فارم بھرنے کے لیے آنے والے والدین کو رعایت یا چھٹی نہ دیں۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری احکامات اور گائیڈلائنز کے باوجود اب تک صرف 25 سے 30 فیصد فارم ہی عوام تک پہنچ سکے ہیں، جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔

​آصف شیخ نے 29 جولائی کی ڈیڈ لائن کا حوالہ دیتے ہوئے تمام کارپوریٹرز، پارٹی ورکرز اور عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر میدان میں اتریں اور عوام کی مدد کر کے فارم بھرنے کا کام جنگی بنیادوں پر مکمل کروائیں۔


​اس سنگین صورتحال کے پیش نظر آصف شیخ نے میونسپل کمشنر، پرنٹ میڈیا کے نمائندوں اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران سے باقاعدہ شکایات درج کروائی ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ کو دوٹوک الفاظ میں وارننگ دی کہ اگر کسی بھی مسلم ووٹر کا نام لسٹ سے حذف ہوا، تو اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ بی ایل او اور اسکول انتظامیہ پر عائد ہوگی اور ان کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

​آصف شیخ نے عام شہریوں سے بھی پرزور اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو ہلکا نہ لیں اور ووٹر فارم انتہائی توجہ اور درست معلومات کے ساتھ بھریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ووٹر لسٹ میں گڑبڑ ہوئی، تو مستقبل میں ​راشن کارڈ، ​آدھار کارڈ ​اور دیگر اہم سرکاری دستاویزات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔​ووٹر لسٹوں کے سروے کے دوران سامنے آنے والے اس تنازع نے شہر کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔مختلف سماجی و سیاسی تنظیموں کی جانب سے بھی اب انتظامیہ سے فوری مداخلت اور شفاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی شہری کا آئینی حق ضائع نہ ہو۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے