مالیگاؤں میں نبی احمد کے خلاف تعلیمی استعمال کیلئے مختص زمین کے تنازع پر سکل ہندو سماج کا زبردست احتجاج
کارپوریشن کا نام اردو زبان میں تحریر ہونے پر بھی ہندو سماج کی شدید مخالفت و نعرے بازی
مالیگاؤں : 2 جولائی(بیباک نیوز اپڈیٹ)مالیگاؤں کارپوریشن گیٹ پر آج سکل ہندو سماج نے نبی احمد کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ یہ مظاہرہ ایک بڑے زمین کے تنازع سے متعلق تھا جس میں سروے نمبر 53، 54، 55 اور 81 کی اراضی شامل ہے۔ مظاہرین نے کارپوریشن سے مطالبہ کیا کہ اس اراضی کی ریزرویشن برقرار رکھی جائے اور نبی احمد کی مبینہ غیر قانونی ملکیت کی اعلیٰ سطح انکوائری کروائی جائے۔
مظاہرین نے کارپوریشن گیٹ پر شدید ہنگامہ کیا اور پولیس نے بھاری نفری کے ساتھ سیکیورٹی کے انتظامات کیے۔ احتجاج کے دوران مقامی ہندو سماج کے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اراضی حکومت کی طرف سے عوام کے بچوں کے مستقبل، اسکولوں اور کالجوں کے لیے مختص تھی، لیکن نبی احمد نے اسے غیر قانونی طور پر حاصل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کارپوریشن گیٹ پر اردو نام ہٹایا جائے اور آئینی اقدار کا احترام کیا جائے۔
ایک رہنما نے خطاب میں کہا، "ہم ہندو ہیں اور اس ملک کا دستور بابا صاحب امبیڈکر کا ہے، شریعہ کا نہیں۔ چھترپتی شیواجی مہاراج اور سمبھاجی مہاراج نے ہندو سو راج کے لیے قربانیاں دیں، ہم اس اراضی کو اپنے بچوں کے لیے واپس لے کر رہیں گے۔" انہوں نے نبی احمد پر الزام لگایا کہ انہوں نے اراضی کی بڑی مقدار ناجائز طور پر حاصل کی ہے۔
مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کو بھی اس معاملے میں ریزرویشن اور انکوائری کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرین نے کہا کہ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی مالی حالت خراب ہونے کے باوجود اراضی کی خریداری کا عمل نہ روکا جائے۔یہ احتجاج مہا سبھا سے پہلے کیا گیا، جس میں ہندو سماج نے اپنے حقوق کی حفاظت اور آئینی اقدار کے تحفظ پر زور دیا۔ پولیس نے کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ مالیگاؤں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اراضی کے تنازعات پر نئی بحث چھیڑ گیا ہے۔ انتظامیہ نے اس معاملے کی مزید تحقیقات کا یقین دلایا ہے۔

0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com