بڑی خبر: مغربی بنگال میں 91 لاکھ ووٹرس کے نام لسٹ سے حذف،سب سے زیادہ مرشد آباد میں نام کٹ ہوئے



بڑی خبر: مغربی بنگال میں 91 لاکھ ووٹرس کے نام لسٹ سے حذف،سب سے زیادہ مرشد آباد میں نام کٹ ہوئے 


 نندی گرام میں 95 فیصد سے زائد مسلمان ووٹرس کے نام حذف!،جان بوجھ کر نام حذف  کرنے ممتا کا الزام 

 

 کولکاتہ : 7, اپریل (بیباک نیوز اپڈیٹ)ریاست بھر میں صورتحال مزید تشویشناک دکھائی دیتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 91 لاکھ ووٹرز کو مجموعی طور پر فہرستوں سے حذف کیا گیا، 60.06 لاکھ ووٹرز کی جانچ پڑتال کے بعد 27.16 لاکھ کو نااہل قرار دیا گیا۔ اس سے قبل 58.25 لاکھ ووٹرز کو مردہ، غیر حاضر، منتقل یا ڈپلیکیٹ قرار دے کر حذف کیا جا چکا تھا، مسلم اکثریتی ضلع مرشدآباد میں سب سے زیادہ عوامی تشویش سامنے آئی، جہاں 11 لاکھ سے زائد زیرِ جانچ ووٹرز میں سے 4.55 لاکھ کو نااہل قرار دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کی اس درخواست کو فوری طور پر منظور کرنے سے انکار کر دیا جس میں اپیلٹ ٹریبونلز کو ہدایت دینے کی استدعا کی گئی تھی کہ کچھ حذف شدہ ووٹرز کو عبوری طور پر ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار انتخابی عمل میں استعمال ہونے والے معیار، طریقہ کار اور شفافیت پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں، اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن کی جانب سے واضح وضاحت ناگزیر ہو چکی ہے۔ کولکاتا کے علاقے پارک سرکس میں ایک شہری نے بتایا کہ اس کے بیٹے کی پہلی بار ووٹر کارڈ کے لیے درخواست بغیر کسی وجہ کے مسترد کر دی گئی، ایسے واقعات نے عوامی اعتماد کو مزید مجروح کیا ہے۔

ریاست میں 294 اسمبلی نشستوں میں سے 152 پر 23 اپریل کو پہلے مرحلے میں ووٹنگ ہوگی، جبکہ باقی 142 نشستوں پر 29 اپریل کو پولنگ ہوگی۔ دوسرے مرحلے کی ووٹر لسٹیں 9 اپریل کو منجمد ہوں گی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق نظرثانی کا عمل “شفاف اور مرحلہ وار” طریقے سے انجام دیا گیا ہے، تاہم جاری تنازع نے انتخابی ساکھ پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ 

 مغربی بنگال کے حساس حلقہ نندی گرام میں ووٹر لسٹ سے ناموں کے اخراج نے شدید سیاسی اور سماجی تشویش کو جنم دے دیا ہے، جہاں اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 95.5 فیصد حذف کیے گئے ووٹرز مسلمان ہیں، حالانکہ علاقے کی آبادی میں ان کا تناسب محض 25 فیصد کے قریب ہے۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، کولکاتا میں قائم پبلک پالیسی ریسرچ ادارے سبر انسٹیٹیوٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ڈیٹا پر کیے گئے تجزیے میں انکشاف ہوا ہے کہ سات ضمنی ووٹر لسٹوں میں مسلمانوں کی غیر معمولی تعداد کو خارج کیا گیا، جبکہ غیر مسلم ووٹرز، جو آبادی کا تقریباً 75 فیصد ہیں، ان میں سے صرف 4.5 فیصد کو ہٹایا گیا۔رپورٹ کے مطابق چھ فہرستوں میں مسلمانوں کے اخراج کی شرح 60.9 فیصد سے لے کر 98.7 فیصد تک رہی، جو ایک واضح مذہبی جھکاؤ کو ظاہر کرتی ہے۔ صرف ایک فہرست (4a) ایسی تھی جس میں تمام حذف شدہ ووٹرز غیر مسلم خواتین تھیں۔

اگر حذف کا عمل آبادی کے تناسب کے مطابق ہوتا تو مسلمانوں کا حصہ تقریباً 25 فیصد ہونا چاہیے تھا، مگر حقیقت میں یہ شرح 95 فیصد سے تجاوز کر گئی، جس نے انتخابی عمل کی شفافیت پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

واضح رہے کہ نندی گرام میں ووٹنگ 23 اپریل کو ہوگی، جبکہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 6 اپریل تھی، جس کے بعد ووٹر لسٹیں منجمد ہو چکی ہیں۔ حذف شدہ ووٹرز کے پاس اپیل کے لیے نہایت محدود وقت تھا، جس نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس معاملے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ لوگوں کے نام جان بوجھ کر حذف کیے گئے اور ووٹرز کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ووٹ کے ذریعہ اس کا “بدلہ” لیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے