اساتذہ کو گرمیوں کی تعطیلات میں بھی کام کرنا ہوگا،اساتذہ میں عدم اطمینان، مردم شماری کا عمل ڈیجیٹل، اساتذہ کو معلومات اکٹھی کرنے گھر گھر جانا ہوگا



اساتذہ کو گرمیوں کی تعطیلات میں بھی کام کرنا ہوگا،اساتذہ میں عدم اطمینان، مردم شماری کا عمل ڈیجیٹل، اساتذہ کو معلومات اکٹھی کرنے گھر گھر جانا ہوگا



ناسک : 7 مارچ (بیباک نیوز اپڈیٹ) مردم شماری کا کام کے باعث اساتذہ کی موسم گرما کی تعطیلات اس سال  متاثر ہوگی اور اس کی وجہ سے شدید برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اگرچہ اسکولوں میں 2 مئی سے 14 جون تک تعطیلات کا اعلان کیا گیا ہے تاہم اساتذہ کو 16 مئی سے 14 جون تک مردم شماری کے کام میں شرکت کرنا ہو گی۔لہذا ان کی چھٹی مردم شماری کے کام پر صرف کی جائے گی۔یہ ذمہ داری ضلع پریشد، میونسپلٹی، میونسپل کارپوریشن اور نجی امداد یافتہ اسکولوں کے اساتذہ کو سونپی گئی ہے۔ دریں اثنا، اساتذہ نے گزشتہ دو سالوں سے الیکشن ڈیوٹی میں حصہ لیا تھا اور اب وہ محسوس کر رہے ہیں کہ مردم شماری کی ذمہ داری ان کے اہم تدریسی کام کو دوبارہ متاثر کر رہی ہے۔

مردم شماری کے اس کام میں ضلع کے تقریباً چار سے پانچ ہزار اساتذہ شامل ہوں گے۔ اس کی وجہ سے سیاحت، رشتہ داروں سے ملاقات ، شادیوں جیسے ذاتی منصوبے جو کہ بہت پہلے سے طے کر چکے تھے، متاثر ہو گئے ہیں۔ سال میں صرف ایک بار ملنے والی گرمیوں کی طویل تعطیلات اس طرح کام پر گزارنے سے اساتذہ میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔مالیگاؤں کے سیکڑوں ٹیچرس کو کارپوریشن نے ڈیوٹی تفویض کی ہے یہ لسٹ واٹس ایپ پر گردش کررہی ہے ۔  

چونکہ اس سال مردم شماری کا عمل ڈیجیٹل طور پر کیا جائے گا، اس لیے اساتذہ کو معلومات اکٹھی کرنے کے لیے گھر گھر جانا پڑے گا۔ اساتذہ کی یونینیں اس کام میں خواتین اساتذہ، معذور یا بیمار اساتذہ کو چھوٹ دینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی ہے کہ بی ایل او اور سنگل ٹیچر اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ کو اضافی ذمہ داریاں نہ دی جائیں۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ چھٹیوں کے دوران مردم شماری پر کام کرنے والے اساتذہ کو خصوصی چھٹی دی جائے گی۔ تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس عمل سے نئے تعلیمی سیشن کے ابتدائی کام متاثر ہو سکتے ہیں۔ نیا تعلیمی سیشن 15 جون سے شروع ہوگا اور اس سے قبل اساتذہ کو مردم شماری کا کام مکمل کرنا ہوگا۔ مجموعی طور پر حکومت کے اس فیصلے سے اساتذہ پر کام کا اضافی بوجھ بڑھ گیا ہے اور اس سے ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے