مالیگاؤں میں 'ہائی وولٹیج' ڈرامہ، میئر عہدہ کی بجائے ڈپٹی میئر چناؤ میں ایم آئی ایم کی دلچسپی کیوں؟ شیو سینا کی میئر گیم میں غیر متوقع 'انٹری'
سیکولر فرنٹ یا شیو سینا؟ کیا 18 سیٹوں پر شیو سینا اپنا میئر بنانے میں کامیاب ہوجائے گی؟ کارپوریشن پر کس کا پرچم لہرائے گا؟
مالیگاؤں : 4 فروری (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی سیاست میں پچھلے تین چار دنوں میں بہت سی ڈرامائی پیش رفت ہوئی ہے۔ اس پس منظر میں منگل کو ایک بار پھر 'ہائی وولٹیج' ڈرامہ دیکھنے کو ملا۔ بی جے پی اور کانگریس کے غیر متوقع اتحاد کی ناکامی کے بعد شیو سینا شندے گروپ نے اچانک زور پکڑ لیا ہے اور لگتا ہے کہ میئر کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے اس نے چال چلنا شروع کر دیا ہے۔ دوسری طرف ایم آئی ایم نے میئر کے عہدے کے لیے امیدوار کھڑا نہ کر کے سب کی حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اگرچہ ایم آئی ایم اور شیو سینا شندے گروپ کے لیڈر آفیشل طور پر کچھ نہیں بول رہے ہیں، لیکن اب یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں کہ یہ دونوں پارٹیاں میونسپل کارپوریشن میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے ایک ساتھ آ سکتی ہیں۔
منگل کو میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدوں کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ تھی۔ آخری دن شیوسینا شندے گروپ کی لتا گھوڑکے نے میئر کے عہدے کے لیے درخواستیں داخل کیں، جب کہ نریندر سونونے اور نیلیش کاکڑے نے ڈپٹی میئر کے عہدے کے لیے درخواستیں داخل کیں۔ پیر کو اسلام پارٹی کی نسرین بانو شیخ خالد نے میئر اور سماج وادی پارٹی کی شان ہند نے ڈپٹی میئر کے عہدے کے لیے درخواستیں داخل کیں۔ منگل کو سماج وادی پارٹی کے مستقیم ڈگنیٹی نے بھی ڈپٹی میئر کے عہدے کے لیے درخواستیں داخل کیں۔
ڈپٹی میئر عہدے کے لیے اے آئی ایم آئی ایم کی کوشش کیوں ؟
سیاسی حلقوں میں تجسس تھا کہ 21 سیٹیں حاصل کرنے والی ایم آئی ایم پارٹی کی جانب سے میئر کے عہدے کے لیے کس کو میدان میں اتارا جائے گا؟۔ تاہم جب سے ایم آئی ایم پارٹی نے میئر کے عہدے کے لیے درخواست داخل نہیں کی ہے، سیاسی حلقوں میں ملے جلے چرچے ہیں۔ اگرچہ پارٹی میئر کے عہدہ کی دوڑ سے دستبردار ہوگئی ہے لیکن پارٹی نے ڈپٹی میئر کے عہدے کے لیے اپنی نامزدگی داخل کر دی ہے۔ ایم ایل اے مولانا مفتی اسماعیل کے فرزند حافظ عبداللہ نے ڈپٹی میئر کے عہدے کے لیے یہ پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے۔ عوام کی توجہ اس طرف ہے کہ اے آئی ایم آئی ایم پارٹی ڈپٹی میئر کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے کیا اقدام کرے گی۔وہیں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ دوسرے نمبر پر 21 سیٹیں حاصل کرنے والی مجلس اتحاد المسلمین نے آخر کیوں میئر عہدہ کیلئے فارم داخل نہیں کیا؟ یہ بھی سوال کیا جارہا ہے کہ کیا مجلس اتحاد المسلمین اپنے ایجنڈا کو درکنار کرتے ہوئے شیو سینا کو میئر گیم میں سپورٹ کریگی؟ کیونکہ 18 سیٹوں کیساتھ تیسرے نمبر پر آنے والی شیو سینا نے میئر عہدہ کیلئے فارم داخل کیا ہے، جبکہ اس عہدہ کیلئے مجلس کو فارم داخل کرنا چاہے تھا لیکن ایسا کیوں ہوا؟ کیا شیو سینا اور مجلس میئر و ڈپٹی میئر عہدہ کیلئے ایک ساتھ چناؤ میں حصہ لینگے؟ ویسے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مجلس کے ریاستی صدر امتیاز جلیل اور مقامی ایم ایل اے نے واضح کردیا تھا کہ ہم فرقہ پرستوں کیساتھ اقتدار میں نہیں جانا چاہتے بلکہ ایم آئی ایم اسلام پارٹی کے سیکولر فرنٹ کو میئر چناؤ میں حمایت کریگی ۔لیکن اب باقاعدہ طور پر مجلس کا امیدوار میدان میں آنے سے سیاسی گلیاروں میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے ۔دیکھنا ہے کہ 7 فروری کو کیا ہوتا ہے کون فرقہ پرستوں کیساتھ اقتدار سازی کرتا ہے اور کون نہیں؟ ۔کیا 18 سیٹوں پر شیو سینا اپنا میئر بنانے میں کامیاب ہوجائے گی؟۔
1 تبصرے
میئر عہدہ کے لیے جب لیڈیز سیٹ ہے اور مجلس سے کوئی لیڈیز سیٹ جیت کر آئی ہی نہیں ہے تو مجلس کے میئر کی سیٹ کی دعویداری کیسے کریں گے
جواب دیںحذف کریںbebaakweekly.blogspot.com