میئر چناؤ میں ایم آئی ایم کس کیساتھ؟ شیو سینا یا سیکولر فرنٹ؟ مفتی اسمٰعیل کا بیان ، ہمارے پاس دو متبادل ، مشورے کے بعد فیصلہ



میئر چناؤ میں ایم آئی ایم کس کیساتھ؟ شیو سینا یا سیکولر فرنٹ؟ 



مفتی اسمٰعیل کا بیان ، ہمارے پاس دو متبادل ، مشورے کے بعد فیصلہ  



مالیگاؤں: 17 جنوری(پریس ریلیز/بیباک نیوز اپڈیٹ) مجلس اتحاد المسلمین کے مقامی رکن اسمبلی مفتی اسمٰعیل قاسمی نے کارپوریشن چناؤ کے نتائج کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 16 جنوری جمعہ کو چناؤ کے نتائج کا اعلان کردیا گیا۔مجلس اتحاد المسلمین نے 60 سیٹوں پر امیدواروں میدان میں اتارے تھے، الحمداللہ 21 سیٹوں پر ہم نے کامیابی درج کی ہے ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور مالیگاؤں کے ووٹروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں ہمیں امید تھی 30 سے زائد سیٹوں پر کامیابی ملے گی۔اسلام پارٹی اور سماجوادی کے اتحاد سیکولر فرنٹ کی جانب سے آئی اپیل کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ ہمارے حزب مخالف سیاسی جماعت کی جانب سے ہمیں آفر آنے کے بعد ہم سوچیں گے کہ کس کے ساتھ جائیں۔ہمارا مقصد تعمیر و ترقی ہے، ہم سیکولر فرنٹ کیساتھ جائیں یا نہیں؟ ویسے ہمارے پاس دوسرا متبادل بھی ہے۔رکن اسمبلی مفتی اسمٰعیل کے کے اس بیان پر یہ تو سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ آصف شیخ رشید و مستقیم ڈگنیٹی کے سیکولر فرنٹ کے ساتھ جانا بہتر سمجھتے ہیں یا دوسرے متبادل یعنی شیو سینا کے ساتھ جانا بہتر سمجھتے ہیں؟ ویسے انہوں نے کہا کہ عوام نے ہمیں اتنی اکثریت نہیں دی کہ ہم میئر بنا سکیں لیکن ہم سوچیں گے کہ ہم کس کیساتھ جائیں؟ اگر مفتی اسمٰعیل شیو سینا کا ساتھ جاتے ہیں تو مالیگاؤں شہر میں شیو سینا اور مجلس کے اتحاد سے مالیگاؤں سمیت ریاست میں دونوں پارٹیوں کیلئے مستقبل میں سیاسی نقصان ہونے کا اندیشہ ہے اور اگر مجلس شیو سینا کو ترجیح دینے کی بجائے شہریان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے عوامی مینڈیٹ یعنی سیکولر فرنٹ کیساتھ رہتے ہیں تو مالیگاؤں میں مجلس کی تصویر اچھی بنے گی جس سے انہیں مستقبل میں فائدہ ہوگا ۔

ویسے مفتی اسمٰعیل نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جگہوں پر انتہائی معمولی فرق سے شکست سے دوچار ہونا پڑا، وارڈ نمبر 7 ہزار کھولی نیا اسلام پورہ میں 30 ووٹ، 57 ووٹ سے شکست ہوئی وارڈ نمبر 18 میں 139 ووٹ سے شکست ملی ہم مالیگاؤں میں دوسرے نمبر پر رہے مَیں اسکو اللہ کی حکمت و مصلحت سمجھتا ہوں اور ہم اللہ کے اس فیصلے سے راضی ہے اور ہم سے کہیں خامیاں غلطی سرزد ہوئی ہے اس پر غور کیا جائے گا آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا اس بار بیشتر امیدوار نئے تھے ناتجربہ کار اور مالی اعتبار سے بہت کمزور تھے اس وجہ سے جو نتیجہ آیا ہے وہ خلاف توقع ہے یہ ایک فطری بات ہے کہ جہاں مقابلہ ہوتا ہے ایک کو کامیابی ملتی ہے دوسرے کو شکست۔میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ اس ہار سے سبق لے کرکے فتح حاصل کریں گے ان شاء اللہ، مَیں نے مجلس کا MLA ہوتے ہوئے محنت کی ہے وفاداری کی ہے جگ ظاہر ہے لیکن آنے والے دنوں میں کس پوزیشن میں رہنا ہے کس کے ساتھ اقتدار سازی پیکٹ یا اپوزیشن کا رول ادا کرنا ہے یہ قومی صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی ریاستی صدر امتیاز جلیل حیدرآباد کے آبزرور جعفر حسین معراج کے مشورے کے بعد بات بنتی ہوگی تو اس پر غور کریں گے ۔اسلام پارٹی و سماجوادی پارٹی کی جانب سے کھلے عام اپیل کی گئی ہے کہ کانگریس اور مجلس میئر چناؤ میں انکا ساتھ دے ۔تو کیا سیکولر فرنٹ کے ساتھ مجلس اتحاد المسلمین جانے تیار ہے؟ اس سوال پر انہوں نے کہا کہ انکی طرف سے باقاعدہ بلاوا نہیں آیا ہے لیکن اگر وہ کہہ رہے ہیں تو پھر سوچیں گے، آج مَیں اکیلے فیصلہ نہیں کرسکتے، ہمارے کارپوریٹرس اور پارلیمنٹری بورڈ کیساتھ مشورہ کیا جائے گا اور مجلس کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوگا.

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے