امیدواری کرنا ہے تو 500 الفاظ پر مشتمل مضمون لکھیں! ورنہ...،الیکشن محکمہ کے عجیب فرمان سے سیاسی حلقوں میں کھلبلی



امیدواری کرنا ہے تو 500 الفاظ پر مشتمل مضمون لکھیں! ورنہ...،الیکشن محکمہ کے عجیب فرمان سے سیاسی حلقوں میں کھلبلی 


منتخب ہونے کے بعد  کیا کام کرینگے؟وارڈ کی ترقی کیسے اور کس طرح؟،خود کی رائٹنگ میں مضمون تحریر کرنا ضروری



لاتور : 26 دسمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) ممبئی، سمیت 29 بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہوگیا ہے۔ہر پارٹی کے مقامی خواہش مند امیدوار ٹکٹ کے لیے لابنگ کر رہے ہیں۔ کچھ جگہوں پر، لیڈروں کی امیدواری پر لٹکتی تلوار ہے کیونکہ انہیں ابھی تک امیدواری نہیں ملی ہے۔جہاں سیاسی پارٹیاں اپنے امیدواروں کے انٹرویو لے رہی ہیں وہیں اب میونسپل کارپوریشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کا امتحان لیا جائے گا۔ اس ضمن میں موصول اطلاع کے مطابق لاتور میونسپل کارپوریشن میں انتخابی عریضہ فارم بھرتے وقت امیدوار کو 500 الفاظ کا مضمون بھی لکھ کر دینا ہوگا۔ اس مضمون میں اگلے 5 سال تک شہر میں کیا کام کیا جائے گا؟ آپ کو اس کا حساب کتاب لکھنا ہوگا۔ کمیشن کے اس فیصلے سے امیدوار کا خوف بڑھ گیا ہے۔

 اس بار الیکشن کمیشن نے امیدواروں کے لیے انوکھا اصول نافذ کیا ہے۔ امیدواروں کو صرف حلف نامہ دینا کافی نہیں ہوگا بلکہ ہر امیدوار شہر کی ترقی کیسے کرے گا؟ منتخب ہونے کے بعد ترقی کے لیے کیا اقدامات کریں گے؟ اس کے لیے 100 سے 500 الفاظ پر مشتمل ایک مضمون اپنی ہینڈ رائٹنگ میں لکھنا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق لاتور شہر میونسپل کارپوریشن نے اس شرط کا نفاذ کیا ہے جس میں کاغذات نامزدگی کے آخری صفحے پر مضمون کے لیے جگہ مختص کی گئی ہے۔ اس طرح کی خبر مراٹھی میڈیا آن لائن نیوز پورٹل شام ٹی وی نے نشر کی ہے ۔دریں اثناء کمیشن کی اس شرائط سے سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ دیکھا جا رہا ہے کہ امیدوار اس وقت جلدی میں ہیں۔ انہیں تحریری یقین دہانی کرانی ہوگی کہ منتخب ہونے کے بعد وہ کسی قسم کی بددیانتی میں ملوث نہیں ہوں گے۔ اس کے علاوہ وہ وارڈ کی ترقی اور مسئلہ کے لیے کیا کریں گے؟ اس کے لیے انہیں تفصیل سے مضمون لکھنا پڑے گا۔


اس اصول نے خاص طور پر ان امیدواروں کے لیے ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے جن کی تعلیم کم ہے یا جو لکھ نہیں سکتے۔ بہت سے امیدوار میدان میں کمر باندھ کر تقریر کرتے ہیں، لیکن کمیشن میں جمع کرائے گئے اس کاغذات نامزدگی میں مضمون کی وجہ سے ان کی تقریر بھی روکی جا سکتی ہے۔ لہٰذا اگر الیکشن کمیشن کی طرف سے دیے گئے قواعد پر عمل کرنے والے امیدواروں یا منتخب امیدواروں نے عمل نہیں کیا تو کیا ان کے عہدے منسوخ ہو جائیں گے؟ اب یہ دیکھنا ضروری ہے۔ویسے لاتور کے علاوہ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن سمیت کسی دوسرے لوکل باڈیز میں اس طرح کے فرمان کو اب تک نافذ نہیں کیا گیا ہے، حالانکہ عوام چاہتی ہیں کہ اس طرح کی تحریری یادداشت نہایت ضروری ہے ورنہ منتخب ہونے کے بعد اکثر عوامی نمائندے اپنے وعدوں پر کھرا نہیں اترتے ۔آنے والے دنوں میں کیا کیا ہی ہوتا ہے دیکھا ایک ہوگا، 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے