معمولی ترمیم کے ساتھ فائنل وارڈ رچنا کا نوٹیفکیشن گزٹیڈ ، کہیں خوشی تو کہیں تو ناراضگی!
کہیں کارپوریشن کی وارڈ رچنا میں سیاسی جانبداری کا اثر تو نہیں؟ سیاسی لیڈران کی رائے کا انتظار
ممبئی : 14 اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) مہاراشٹر میونسپل کارپوریشن ایکٹ، 1949 کے مطابق RANI/ میونسپل کارپوریشن-2025/Pr.No.19/Ka-5/2025۔ اور (ممبئی 59 آف 1949) کے سیکشن 5(3) کے تحت عطا کردہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے، ریاستی حکومت، کارپوریشن کے افسران، ریاستی الیکشن کمیشن، مہاراشٹر کے آفیسران کی منظوری کے ساتھ، شہریان مالیگاؤں کے اعتراضات اور مشورے موصول ہوئے اور ان اعتراضات اور تجاویز پر غور کرنے کے بعد میونسپل کارپوریشن کے علاقے کو تقسیم(وارڈ رچنا) ظاہر کردی گئی ہے ہے اور ان کی حد جیسا کہ ڈرافٹ نوٹیفکیشن مورخہ 3 ستمبر 2025 کے شیڈول میں دکھایا گیا ہے۔ مالیگاؤں کارپوریشن سمیت ناسک ضلع کے گرام پنچایت کی حتمی وارڈ رچنا کو گزٹ بھی کردیا گیا ہے، اس طرح کا ایک حکمنامہ مالیگاؤں کارپوریشن کے کمشنر و ضلع کلکٹر ایوش پرساد کے نام سے جاری کیا گیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق شہریان اور سیاسی نمائندوں کے اعتراض و مشورے کے بعد معمولی ترمیم کیساتھ ہی وارڈ رچنا کو فائنل منظوری دی گئی ہے جسے آج ظاہر کردیا گیا ہے ۔ہمارے ذرائع کے مطابق یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا واقعی میں یہ وارڈ رچنا شفافیت سے بنائی گئی ہے یا اس سے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کیا گیا ہے؟ کہیں سیاسی دباؤ میں وارڈ رچنا تو نہیں کی گئی ہے؟ حالانکہ اس رچنا پر مالیگاؤں شہر کے سیاسی لیڈران کی رائے کا انتظار ہے، ابھی تک کسی نے اپنی رائے نہیں ظاہر کی ہے،بہر کیف اس سے کوئی خوش ہے تو کوئی ناراض بھی ہونگے، شہر میں انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹرا I.S.LA.M پارٹی؟ سماجوادی پارٹی ،کانگریس اور مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈران کی بھی کوئی رائے سامنے نہیں آئی ہے ممکن ہے کہ ایک دو روز میں اس پر خلاصہ ہو سکے گا ۔
وہیں اس وارڈ رچنا کے گزٹیڈ نوٹیفکیشن کے مطابق ریاستی حکومت اور الیکشن کمیشن کی منظوری سے مہاراشٹر میونسپل کارپوریشن ایکٹ کے سیکشن 5 کے تحت مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے معاملے میں منتخب ہونے والے اراکین کی تعداد اور وارڈوں کی تعداد کا تعین کیا گیا ہے ۔اس میں اراکین کی کل تعداد 84، چار رکنی وارڈز کی تعداد: 21 اور وارڈ کی کل تعداد 21 رکھی گئی ہے۔یہ نوٹیفکیشن اس گزیٹیڈ کی تاریخ سے ہونے والے انتخابات کے مقصد کے لیے نافذ العمل ہوگا۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com