قلعہ جھوپڑ پٹی معاملہ : ممبئی ہائی کورٹ میں آج سماعت نہیں ہو سکی لیکن قلعہ بستی کی جانب سے جواب داخل
تحصیلدار کی نوٹس اور عدالت میں داخل جواب کو چیلنج،قلعہ کے اندر اسکول جاری رہ سکتی ہے تو باہر جھوپڑے کیوں نہیں رہ سکتے؟
مالیگاؤں 23 ستمبر ( پریس ریلیز ) مالیگاؤں کے تاریخی قلعے سے لگ کر جھوپڑا ساکنان کو ریاستی حکومت کے 25 جنوری 2025ء کے احکامات کی روشنی میں اکھاڑنے کے تناظر میں ممبئی ہائی کورٹ میں دائر کی گئی عرضداشت پر آج سماعت ہونا تھی۔ اس ضمن میں مائناریٹی ڈیفنس کمیٹی کے کوآرڈینیٹر مستقیم ڈگنیٹی نے ممبئی سے بتایا کہ آج کی تاریخ سماعت پر ہم لوگ مبئی میں حاضر ہیں۔ گزشتہ تاریخ سماعت پر مقامی تحصیلدار نے عدالت میں جواب داخل کیا تھا۔ جس پر جھوپڑا ساکنان کے وکیل ایڈوکیٹ ایم پی وشی نے مذکورہ جواب کا جواب داخل کرنے کے لئے دو ہفتوں کا وقت طلب کیا تھا اور آج مبئی ہائی کورٹ میں سماعت کا بورڈ پر نمبر نہ لگ پانے کے باوجود عدالت میں جواب داخل کر دیا گیا ہے ۔ اس جواب میں مقامی تحصیلدار و شال نا گراج سونو نے کے پندرہ دن قبل داخل کئے گئے جواب کے ساتھ ساتھ جھوپڑا ساکنان میں تقسیم کی گئی نوٹس کو بھی چیلنج کیا گیا ہے کہ جب تاریخی قلعہ کے اندر اسکول جاری رہ سکتی، جم خانہ اور دیگر عمارت رہ سکتی ہے تو پھر قلعہ خندق سے لگ کر جھوپڑا کیوں نہیں رہ سکتا؟ محصول محکمہ کا یہ موقف کہ بلدیہ جات کے دور اقتدار میں اسکول کرائے پر دی گئی ہے اور اسے ضلع کلکٹر کی منظوری حاصل ہے تو جھوپڑا ساکنان کو بھی جگہ دی جائے. اُس کی خریدی لینے کے لئے جھوپڑا ساکنان تیار ہیں. لیکن یہ بات قانونی طور پر درست نہیں کہ قلعہ میں اسکول جاری رہے اور خندق سے لگ کر جھوپڑے اکھاڑ دیئے جائیں ۔ یہ اور اس طرح کا ٹھوس موقف عدالت میں اختیار کرتے ہوئے جواب داجل کیا گیا ہے. مستقیم ڈگنیٹی نے بتایا کہ مائناریٹی ڈیفنس کمیٹی کے کنوینر شیخ آصف کی رہنمائی میں قانونی تحفظ کیلئے اقدامات جاری ہیں۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com