بالآخر حکومت نے ٹیچر بھرتی گھوٹالے کی شکایت پر ایس آئی ٹی کی تشکیل کردی
ناگپور، ممبئی ،ناسک، جلگاؤں، بیڑ اور لاتور سمیت مہاراشٹر کے کئی اضلاع میں ہوئی بدعنوانی کی جانچ کا حکمنامہ جاری
خصوصی تحقیقاتی ٹیم میں آئی اے ایس اور آئی پی ایس آفیسران کی شمولیت، تین ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم
ممبئی : 7 اگست (بیباک نیوز اپڈیٹ) مہاراشٹر میں گزشتہ سال بھر سے ٹیچر بھرتی گھوٹالے کی گونج سنائی دے رہی ہے ۔ناگپور سے لیکر کوکن، ممبئی ،مراٹھواڑہ اور خاندیش تک ٹیچر بھرتی و نان ٹیچنگ بھرتی گھوٹالے میں کئی گرفتاریاں اور کئی آفیسران و ملازمین معطل کر دیئے گئے ہیں ۔اس ضمن میں مہاراشٹر اسمبلی کے مانسون اجلاس میں ایم ایل اے مفتی اسمٰعیل ،ایم ایل اے سنگرام جگتاپ و ایم ایل سی دراڑے سمیت کئی ایم ایل ایز نے آواز بلند کرتے ہوئے اس گھوٹالہ پر انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔اسی طرح حکومت کو مختلف عوامی نمائندوں، تنظیموں اور عوام کی جانب سے شکایت ملی کہ ریاست کے مختلف اضلاع اور شہروں میں ٹیچنگ و نان ٹیچنگ بھرتی میں بڑے پیمانے پر گھوٹالہ ہوا ہے ۔اس معاملے میں سیکڑوں نااہل تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین کے ناموں کو شالارتھ سسٹم میں شامل کرنے اور انہیں تنخواہ دینے کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں۔ اس تعلق سے وزیر تعلیم دادا بھسے نے اسمبلی ہاؤس میں سرکار کی جانب سے سخت جانچ کرنے کیلئے ایس آئی ٹی کی تشکیل کا اعلان بھی کیا تھا ۔اسی طرح حکومت کو ناگپور، ناسک، جلگاؤں، بیڑ ، لاتور، ممبئی وغیرہ کے اضلاع میں اس طرح کی بے ضابطگیوں کے بارے میں شکایات موصول ہوئی ہیں، اس کے مطابق، ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (S.I.T.) کی تقرری کا معاملہ حکومت کے زیر غور تھا۔اس ضمن میں حکومت مہاراشٹر نے آج سات اگست کو ایک مکتوب جاری کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی ایجوکیشن محکمہ کے شالارتھ سسٹم میں نااہل تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین کے ناموں کو غیر قانونی طور پر شامل کرنے اور تنخواہوں کی ادائیگی کے سلسلے میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (S.I.T.) تشکیل دی جارہی ہے۔اس ٹیم میں چندرکانت پلکنڈوار، ڈویژنل کمشنر، پونے (I.A.S) آفیسر کو سربراہ مقرر کیا گیا ہے جبکہ منوج شرما، انسپکٹر جنرل آف پولیس، لاء اینڈ آرڈر، مہاراشٹرا اسٹیٹ (آئی پی ایس) افسیر کو بطور ممبر اور ہارون عطار، جوائنٹ ڈائریکٹر (ایڈمنسٹریشن، بجٹ اور پلاننگ)، دفتر ایجوکیشن کمشنریٹ، مہاراشٹرا اسٹیٹ، پونے کو ممبر سکریٹری نامزد کیا گیا ہے ۔
خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو ریاست میں تمام ڈویژنل ڈپٹی ڈائرکٹر آف ایجوکیشن کے دفاتر کے تحت گرانٹ یافتہ اور جزوی طور پر گرانٹ یافتہ پرائمری، سیکنڈری،ہائر سیکنڈری اسکولوں میں اساتذہ/غیر تدریسی عملے کے کی پوسٹ پر ذاتی منظوری(اپروول)، اسکول کی منظوری/سروس کے تسلسل/نان گرانٹ سے گرانٹ پوسٹ پر منتقلی کا معائنہ کرنا اور اس سلسلے میں حکومت کو رپورٹ پیش کرنا۔اسی طرح اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو دیئے جانے والے مختلف اپروول کے حوالے سے مروجہ نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرنا، جیسے انفرادی شناخت/اسکول کی شناخت وغیرہ اور اس کے مطابق کی جانے والی ترامیم تجویز کریں۔اس کے علاوہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو 2012 سے آج تک مذکورہ ورک یونٹ میں مذکور کیسز کی چھان بین/تفتیش کرنا۔حکمنامہ کے مطابق خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے دن سے تین ماہ کے اندر حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کرنا ضروری ہوگا۔مذکورہ تحقیقاتی مدت کے دوران، خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے کی گئی مانگ کے مطابق افرادی قوت اور تکنیکی مدد کمشنر (تعلیم) کے دفتر، پونے کی طرف سے فراہم کی جانی چاہیے۔اس طرح کی شرائط و ضوابط بھی حکمنامہ میں درج کی گئی ہے ۔ اس طرح کا حکمنامہ پرنسپل سکریٹری، حکومت مہاراشٹر رنجیت سنگھ دیول کی ڈیجیٹل دستخط اور مہاراشٹر کے گورنر کی منظوری کے بعد جاری کیا گیا ہے۔اس مکتوب کی ایک ایک کاپی متعلقہ حکام کو بھی دی گئی ہے تاکہ وہ اس ضمن میں اپنی جانچ پڑتال کو جاری کر سکے اور تین مہینوں میں سرکار کو رپورٹ پیش کر سکے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com