ایم ایل اے آفس میں خدمات انجام دینے والے مفتی آصف انجم بھی گرفتار
جنم داخلہ معاملہ میں عدالت میں پیشی، 3 دنوں کی پولس تحویل، مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی کے وکلاء کی عدالت میں پیروی
ہم سیاسی و سماجی تفریق سے اوپر اٹھ کر عوام کیلئے قانونی لڑائی کرتے رہیں گے : مستقیم ڈگنیٹی
مالیگاؤں : 22 جولائی (بیباک نیوز اپڈیٹ) جنم داخلہ معاملہ میں ابھی بھی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے ۔قلعہ پولس اسٹیشن میں درج مقدمہ میں ملزم نمبر پندرہ کے طور پر مفتی آصف انجم نہال احمد کو گرفتار کرتے ہوئے آج عدالت میں پیش کیا گیا ۔معزز جج کے روبرو کورٹ میں پولس نے کہا کہ آصف انجم نہال احمد پر سنگین الزامات ہیں ۔انہوں نے کئی جنم داخلے بنوانے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔اسکی جانچ کرنا ہے اس لئے عدالت انہیں سات دنوں کی پولس تحویل میں رکھے جانے کا حکم دے ۔اس پر مائناریٹی ڈیفنس کمیٹی کے ایڈوکیٹ توصیف شیخ نے پیروی کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان پر بوگس دستاویزات اور دستخط کے الزام ہیلتھ آفیسر کی شکایت پر لگائے گئے ہیں تو نائب تحصیلدار دھارنکر کی فارینسک جانچ کی جائے ،ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ سے دستخط ٹیلی کی جائے کیونکہ دھارنکر بھی پولس تحویل میں ہیں ۔آصف انجم نہال احمد پر جھوٹے الزامات لگے ہوئے ہیں اس لئے انہیں پولس تحویل دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔پولس اور دفاعی وکلاء کی دلیل سننے کے بعد عدالت نے مفتی آصف انجم نہال احمد کو تین دنوں کی پولس تحویل میں رکھے جانے کا حکم دیا ہے ۔اس طرح کی تفصیلات مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی کے ایڈوکیٹ توصیف نے دی ۔انہوں نے بتایا کہ ہمیں امید ہے کہ آصف انجم بھی قلعہ پولس اسٹیشن میں درج مقدمہ سے جلد رہا ہونگے ۔اس ضمن میں آج جب پولس نے آصف انجم کو گرفتار کر عدالت میں پیش کیا تب مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی کے کوآرڈینیٹر مستقیم ڈگنیٹی اور انکے ساتھی آمین فاروق، نعیم قریشی وغیرہ موجود تھے، یہاں مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ ہم بلا تفریق سیاست عوام کی مدد کرینگے اور ہم کررہے ہیں ۔مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ مفتی آصف انجم نہال احمد مفتی اسمٰعیل کی آفس میں کام کرتا ہے اور اسے پولس نے جنم داخلہ معاملہ میں گرفتار کیا ہے تو بھی ہم نے سیاست سے اوپر اٹھ کر انکی مدد کا فیصلہ کیا اور آج مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی انکے دفاع میں کورٹ میں موجود تھیں ۔مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ ہیلتھ آفیسر کی شکایت پر مقدمہ درج کرنا انتہا کا ظلم ہے اور سب جھوٹے مقدمات میں شہر کی عوام کو زبردستی پھنسایا جارہا ہے لیکن ہم قانونی لڑائی لڑ کر انصاف حاصل کریں گے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com