گرفتاریوں کا سلسلہ جاری، اب شنکر مہاجن اور محمد امین بھی گرفتار، ایڈوکیٹ الطاف احمد کو ملی عدالتی تحویل
جنم داخلہ معاملہ میں اسپیشل انویسٹیگیشن ٹیم کی کارروائی،ایف آئی آر میں بنگلہ دیشی و روہنگیائی کا کہیں تذکرہ نہیں
ایڈوکیٹ عبدالعظیم خان اور ایڈوکیٹ عارف شیخ کی قیادت میں مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی لیگل سیل کی پیروی
مالیگاؤں : 14 فروری (بیباک نیوز اپڈیٹ) جنم داخلہ معاملہ میں پہلے تو تین ملزمین جن میں دو خواتین شبانہ بانو، نجمہ بانو اور سید ساجد گرفتار ہوکر ناسک سینٹرل جیل میں قید ہیں ۔اس کے بعد شب برات سے عین قبل ایڈوکیٹ الطاف احمد اور صابر علی کو بھی گرفتار کیا گیا۔صابر کو علی 17 فروری تک پولس تحویل دی گئی ہے جبکہ ایڈوکیٹ الطاف کو مقامی کورٹ نے آج عدالتی تحویل کا حکم صادر کیا ہے ۔اس معاملے میں مزید دو ملزمان کو شب برات کی رات ایس آئی ٹی نے گرفتار کرتے ہوئے چھاؤنی پولس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا ۔آج انہیں مقامی عدالت میں پیش کیا گیا ۔ان دو ملزمین میں محمد امین اور شنکر مہاجن کا نام شامل ہے ۔اس ضمن میں مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی لیگل سیل کی قیادت میں ایڈوکیٹ عبد العظیم خان اور ایڈوکیٹ عارف شیخ نے جنم داخلہ معاملہ میں گرفتار ملزمین کی پیروی کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کی دلیل عدالت میں پیش کی ۔دونوں وکلاء نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محمد امین جو داخلے بناتا ہے اور شنکر مہاجن ایک عام شخص ہے جو پیپر نوٹس دینے میں مدد کرتا ہے ۔
دوسری جانب انہوں نے کہا کہ وکلاء پر بھی کیس بن رہا ہے جبکہ ان پر کیس نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ایڈوکیٹ عبدالعظیم خان نے کہا کہ کریٹ سومیا الزام لگا رہے ہیں کہ مالیگاؤں میں روہنگیائی اور بنگلہ دیشیوں کے جنم داخلے بنا کر دیئے جارہے ہیں جو کہ سراسر بے بنیاد الزامات ہیں ۔خان وکیل نے کہا کہ ایف آئی آر میں کہیں بھی یہ درج نہیں کیا گیا ہے کہ وہ شہری بنگلہ دیشی یا روہنگیائی ہیں بلکہ انکے کاغذات میں تھوڑی بہت غلطی ہے لیکن اس غلطی کی اتنی بڑی سزا نہیں دی جاسکتی ۔انہوں نے کہا کہ سب ہندوستانی شہری ہیں اور اس سلسلے میں ہم ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کی تیاری میں بھی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے بار کونسل کے ساتھ ایس آئی ٹی سے بھی بات چیت کی ہے ۔امید ہے کہ کریٹ سومیا کے الزامات غلط ثابت ہونگے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com