مہاراشٹر میں لو جہاد پر قانون کی تیاری ، تبدیلی مذہب کو روکنے کیلئے حکومت نے ڈائریکٹر جنرل آف پولس کی صدارت میں خصوصی کمیٹی تشکیل دی
ممبئی : 14 فروری (بیباک نیوز اپڈیٹ) ریاست میں لو جہاد کے خلاف قانون بنایا جائے گا۔ لو جہاد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر، دھوکہ دہی اور زبردستی کے ذریعے تبدیلی مذہب کو روکنے کے لیے قانون بنایا جائے گا۔ اس کے لیے ریاستی حکومت نے ڈائریکٹر جنرل آف پولس کی صدارت میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے۔اس کے علاوہ جب یہ قانون مہاراشٹر میں لاگو ہوگا تو مہاراشٹر ملک کی دسویں ریاست ہوگی جو اس قانون کو نافذ کررہی ہوگی۔
ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کی صدارت میں تشکیل دی گئی کمیٹی ریاست کی موجودہ صورتحال کا مطالعہ کرے گی اور ایک قانون کا مسودہ تیار کرے گی جس میں لو جہاد، دھوکہ دہی اور جبری تبدیلی مذہب کے خلاف اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔ اب تک ملک کی نو ریاستوں یعنی اتر پردیش، ہریانہ، ہماچل پردیش، گجرات، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ، اڈیشہ اور چھتیس گڑھ نے لو جہاد مخالف قوانین متعارف کرائے ہیں۔اس لائن پر بی جے پی لیڈر اور وزیر نتیش رانے نے ریاست کی مختلف ہندو تنظیموں کے ساتھ مہاراشٹر میں بھی لو جہاد ایکٹ کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔
دیویندر فڑنویس، جب وہ نائب وزیر اعلیٰ تھے، تب انہوں نے ریاست میں تبدیلی کی شکایت کے بعد قانون ساز اسمبلی میں مذہب تبدیلی کے خلاف قانون پاس کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس کے مطابق ریاستی حکومت نے ڈائریکٹر جنرل آف پولس کی صدارت میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی محکمہ خواتین و اطفال کی بہبود کے سکریٹری، محکمہ اقلیتی ترقی کے سکریٹری، محکمہ قانون و انصاف کے سکریٹری، محکمہ سماجی انصاف اور خصوصی معاونت کے سکریٹری، محکمہ داخلہ کے سکریٹری اور محکمہ داخلہ (قانونی) کے سکریٹری پر مشتمل ہوگی۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com