آٹھ بنگلہ دیشی گرفتار ، اڈگاؤں میں ناسک پولس کی کارروائی ، پولس کمشنر کی نگرانی میں سنٹرل کرائم برانچ کی چھاپہ ماری
ناسک : 6 فروری (بیباک نیوز اپڈیٹ) خفیہ آپریشن میں ناسک شہر کے اڈگاؤں میں پولس افسران نے مزدوروں کا بھیس بدل کر ایک زیر تعمیر کامپلیکس میں کام کرنے والے بنگلہ دیشی دراندازوں کو گرفتار کیا ہے۔ اسسٹنٹ پولس انسپکٹر پروین مالی، سب انسپکٹر شیر خان پٹھان اور دیگر کی قیادت میں ٹیم نے 4 دنوں میں 8 بنگلہ دیشی شہریوں کی شناخت کی اور انہیں گرفتار کیا۔ پولس ٹیم نے چالاکی کے ساتھ دراندازوں کی شناخت کے لیے زبان کے فرق کا استعمال کیا۔ اس طرح کی تفصیلات پولس کمشنر سندیپ کارنک نے میڈیا کو دی۔ انہوں نے بتایا کہ اڈگاؤں میں اس جگہ تقریباً 600 مزدور کام کررہے ہیں جن میں کچھ بنگلہ دیشی شہری بھی شامل تھے۔اس تعلق سے ہمیں خفیہ اطلاع ملنے کے بعد سنٹرل کرائم برانچ کے مالی نے سینئر افسران کی رہنمائی میں سینئر انسپکٹر ڈاکٹر آنچل مدگل اور اسسٹنٹ انسپکٹر وشواس چوہانکے کی قیادت میں ایک ٹیم تشکیل دی۔ 10-12 افسران اور ملازمین پر مشتمل اس ٹیم نے 4 دن تک خفیہ آپریشن کیا، جگہ کی نگرانی کی اور مزدوروں کی تلاش کی۔ دراندازوں کی شناخت انکی بولی اور زبان میں فرق ہونے سے کی گئی ۔جس سے ٹیم نے انکے بنگلہ دیشی شہریوں کی موجودگی کی تصدیق کی۔ ان کی شناخت کی تصدیق کے بعد ٹیم نے جائے وقوعہ پر چھاپہ مار کر 8 افراد کو گرفتار کر لیا۔
مشتبہ بنگلہ دیشی شہری جو گرفتار کیے گئے ہیں ان میں سمن غازی (27)، عبداللہ منڈل (20)، شاہین منڈل (23)، لاسل شانتر (23)، اسد ملا (30)، عالم منڈل (32)، الامین شیخ (22) محسن ملا (22) شامل ہیں۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ سمن غازی 12 سال سے بھارت میں مقیم تھی اور اس کے پاس 2 دیگر افراد کے ساتھ آدھار کارڈ اور دیگر جعلی دستاویزات بھی تھے ۔ پولس نے ملزمان سے بنگلہ دیشی شناختی کارڈ بھی قبضے میں لے لیے ہیں۔ الزام ہے کہ غازی کے رابطوں کے ذریعے دیگر مشتبہ افراد بھارت میں داخل ہوئے اور ان میں سے تین نے جعلی دستاویزات بنائیں۔اس کے خلاف اڈگاؤں پولس اسٹیشن میں مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
سرحد پار کرنے میں دلالوں کی مدد
ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے مشتبہ افراد نے بنگلہ دیش میں ایک مڈل مین (دلال) کے ذریعے سرحد پار کی تھی۔کلکتہ کے دلال نے پھر انہیں دوسری جگہوں پر بھیج دیا۔ملزمان روزگار کی تلاش میں غیر قانونی طور پر بھارت میں داخل ہوئے اور ملک میں مقیم ہیں۔معلوم ہوا کہ ملزمان کے اہل خانہ ابھی تک بنگلہ دیش میں مقیم ہیں۔یہ کارکن ہندوستان میں پیسہ کماتے ہیں اور اسے کولکتہ میں بروکرز کو بھیجتے ہیں، جو پھر بنگلہ دیش میں اپنے خاندانوں کو رقم بھیجتے ہیں۔ ابتدائی تفتیش کے دوران اس غیر قانونی کراس بارڈر ٹرانزیکشن کا پتہ چلا۔
تعمیراتی مقامات پر تلاش
سٹی پولس تعمیراتی منصوبوں اور دیگر علاقوں میں بنگلہ دیشی دراندازوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے لیے خصوصی آپریشن شروع کر رہی ہے۔ پولس نے کہا کہ بلڈرز، ٹھیکیداروں اور تاجروں کو مزدوروں کی خدمات حاصل کرتے وقت احتیاط کرنا چاہیے اور انکی جانب سے جمع کرائے گئے کاغذات کی تصدیق کرنا چاہیے۔ یہ آپریشن غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت اور انہیں ملک بدر کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ اسی طرح کی مہم دوسرے شہروں جیسے دہلی میں بھی چلائی گئی ہے، جہاں پولس نے غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کی شناخت اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے دو ماہ کا خصوصی آپریشن شروع کیا۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com