نشاط گرلس ہائی اسکول انتظامیہ کی ہنگامی پریس کانفرنس ، سلام چاچا روڈ سے متصل اراضی پر ناجائز قبضہ کا الزام
مالیگاؤں :8 فروری (پریس ریلیز / بیباک نیوز اپڈیٹ) نشاط ایجوکیشنل سوشیل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے زیر انصرام آج گزشتہ تین دہائیوں سے نشاط گرلس پرائمری و ہائی اسکول جاری ہے جس میں تقریباً علاقے کی 3500 سے زائد طالبات تعلیم حاصل کرتی ہیں جس ٪80 مسلم معلمات تدریسی خدمات انجام دیتی ہیں. گزشتہ کئی مہینوں سے اسکول ہذا اور انتظامیہ اسکول کمپاؤنڈ سے جڑی ہوئی شمالی علاقے کی زمین(جو کہ سلام چاچا روڈ کی جانب سے نظر آتی ہے) اس معاملے کو لیکر چل رہا ہے. مذکورہ زمین ضلع ناسک، تعلقہ مالیگاؤں میں میونسپل حدود کے تحت آتی ہے، جو سروے نمبر 62 (نیا سروے نمبر 62/4) کے تحت درج ہے۔ اس کا کل رقبہ 2305.90 مربع میٹر (24811.48 اسکوائر فٹ) ہے، جہاں نشاط گرلس ہائی اسکول کی شاخ (نشاط گرلس سیکنڈری اسکول) واقع ہے۔جسکا (رجسٹریشن نمبر MAH/2445/NSK) ہے ۔
مذکورہ زمین نشاط ایجوکیشنل سوشیل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے ماتحت ہے، جسے سوسائٹی نے قانونی طریقے سے خریدا تھا۔خریداری کے دستاویزات نمبر 1209/1994 کے مطابق یہ زمین سوسائٹی کی ملکیت میں ہے. جس کی حدود کا اندراج اس طرح ہے، مشرق: پلاٹ نمبر 1 سے 4، مغرب: سروے نمبر 58/2، جنوب : سروے نمبر 63/2 ،شمال: 15 میٹر مکمل روڈ ہے ۔اس طرح کی تفصیلات آج ایک پریس کانفرنس میں نشاط ایجوکیشنل سوشل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کی انتظامیہ نے اسکول کیمپس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے دی ۔
اس موقع پر عارف محمد عباس چیئرمین، سیکرٹری حنیف گلزار، جمیل احمد مشتاق احمد، رئیس احمد مشتاق، اشفاق ایوبی سر ،سفیان احمد وغیرہ موجود تھے ۔انہوں نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ پرمود پرساد بھاوسار رہائشی بھاوسار گلی، مالیگاؤں اور دیگر شہری زمین مافیا اس زیرِ بحث زمین پر ناجائز قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں اسکول انتظامیہ مناسب قانونی کارروائی کر رہا ہے تاکہ ناجائز قبضہ روکا جا سکے اور متعلقہ افراد کے خلاف قانونی اقدامات کیے جا سکیں۔پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ مذکورہ زمین 27/10/1993 میں نشاط ایجوکیشنل سوشیل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی نے خریدی تھی جس کے قانونی دستاویز آج بھی موجودہ ہیں اس کے بعد یہ زمین نشاط ایجوکیشنل سوشل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے نام پر منتقل کی گئی، اور سوسائٹی نے یہ زمین معزز اسسٹنٹ کلکٹر ناسک، اور ممبئی سوشل ڈیولپمنٹ ایکٹ 1950 کی دفعہ 29 کے تحت قانونی طور پر حاصل کی۔ اس زمین پر 1993 سے نرسری سے لے کر ہائی اسکول (جونیئر کے جی سے دسویں جماعت) تک تعلیمی سلسلہ جاری ہے۔ موجودہ وقت میں اسکول میں 3500 سے زائد طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔ اس اسکول میں 80% تدریسی عملہ خواتین پر مشتمل ہے۔ اسکول کا بنیادی مقصد تعلیم کی فراہمی ہے، اور گزشتہ کئی دہائیوں سے مالیگاؤں کے تعلیمی میدان میں اس کا اہم کردار رہا ہے۔ اسکول انتظامیہ نے الزام لگایا کہ آج صورتحال یہ ہے کی جس شخص سے اسکول ریزروڈ زمین کی خریدی کی گئی تھی۔ اسکا وارث پرمود بھاوسار زمینی مافیا کے ساتھ کے مل کر 2012 میں (خریداری کے تقریباً 25 سالوں بعد ) پر غیر اخلاقی ضابطہ قانون کی روش اپنا کر اتارے پر اپنا نام درج کروالیا ہے اور تب سے یہ زمینی معاملہ جاری ہے واضح رہے کہ اسکول کمپاؤنڈ سے متسل روڈ پر غیر قانونی طور پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
بھاؤسار و شہر کے زمینی مافیا اس زمین پر دوبارہ قبضہ کرنے یا زمین کی نوعیت تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ معاملہ متعلقہ حکام کے سامنے بھی پیش کیا گیا ہے، مگر اب تک کوئی مناسب کارروائی نہیں کی گئی۔ موجودہ صورتحال میں، اسکول انتظامیہ اور طلبہ کو متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ اور کسی صورت حال غیر قانونی طور پر کوئی تعمیرات یا دیگر سرگرمیاں کی گئی تو یہ تعلیمی نظام کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، اور ہزاروں طلبہ کے مستقبل پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اس تحریری نوٹ کے ذریعے یہ وضاحت کی جاتی ہے اس معاملے کی قانونی چارہ جوئی میں جملہ عرض گزاروں نے سابق زمین مالک کے متعلق اور ضابطہ اخلاق کے تحت اعلیٰ اہلکاروں کو مطلع کیا ہے اور اس ضمن میں عوام الناس بھی باخبر ہوتے ہوئے کسی بھی خرید و فروخت پر توجہ نہ دیں ۔اس پورے معاملے کی درخواست اور عرضداشت درج ذیل ڈیپارٹمنٹس میں روانہ کی گئی ہے ۔
1. معزز پولیس سپرنٹنڈنٹ، ضلع ناسک دیہی، ناسک۔
2. معزز اسسٹنٹ پولیس سپرنٹنڈنٹ، مالیگاؤں شہر، ضلع ناسک۔
3. معزز ڈپٹی پولیس سپرنٹنڈنٹ، مالیگاؤں شہر، ضلع ناسک۔
4. ناسک بھومی ابھیلک ناسک مہاراشٹر تک درج کی گئی ہے.
5. پرمود بھاؤسار کے پاس زیر بحث زمین پر قبضہ حاصل کرنے کیلئے کسی بھی انتظامیہ، ڈیپارٹمنٹ اور کورٹ کی جانب سے کوئی دستاویز اور اورڈ نہیں ہے اور مذکورہ زمین آج بھی اسکول کے پاس تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال میں ہے۔ اسکول انتظامیہ والدین سرپرست اور علاقے کی بیدار اور غیور عوام سے گزارش کرتی ہیں کہ افواؤں پر توجہ نہ دیں اور تعلیمی بیداری میں اسکول کا تعاون کریں.
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com