مرکزی وزارت داخلہ کا بنگلہ دیشی روہنگیائی دراندازوں کے خلاف نوٹس، چیف سیکرٹری، ڈائریکٹر جنرل پولس کو کارروائی کی ہدایات
ممبئی: 23 جنوری (بیباک نیوز اپڈیٹ) مرکزی وزارت داخلہ نے بنگلہ دیش اور میانمار سے بڑی تعداد میں مہاراشٹر آنے والے غیر قانونی تارکین وطن (بنگلہ دیشیوں) کے خلاف فوری اور مناسب قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے۔یہ ہدایات مرکزی وزارت داخلہ نے مہاراشٹر ریاست کے چیف سکریٹری، ڈائریکٹر جنرل آف پولس اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں کو دی ہیں۔شیو سینا کے ڈپٹی لیڈر اور سابق ایم پی راہول شیوالے نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے بنگلہ دیشی دراندازوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔اس مطالبے کا نوٹس لیتے ہوئے مرکزی وزارت داخلہ نے کارروائی کی ہدایت دی ہے۔درایں اثنا، جب کہ اداکار سیف علی خان پر بنگلہ دیشی دراندازوں کے حملے کا واقعہ تازہ ہے، مرکزی وزارت داخلہ کے اس حکم سے دراندازوں کے خلاف کارروائی میں تیزی آنے کا امکان ہے۔ شیو سینا کے ڈپٹی لیڈر اور سابق ایم پی راہول شیوالے نے 28 نومبر 2024 کو وزیر داخلہ امیت شاہ کو لکھے گئے ایک بیان میں ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز (TISS) کے ذریعہ دراندازوں پر کئے گئے سروے کا حوالہ دیا۔ شیوالے نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ TISS کی طرف سے کرائے گئے سروے کے مطابق ممبئی میں بنگلہ دیش اور میانمار سے دراندازی کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔جس کی وجہ سے کئی جگہوں پر امن و امان کی خرابی اور سنگین سماجی اور معاشی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔کچھ سیاست دان ان دراندازوں کو 'ووٹ بینک' کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں ان غیر قانونی آمد کی وجہ سے مقامی لوگوں کا روزگار بھی متاثر ہوتا نظر آرہا ہے۔
غیر قانونی سماجی تنظیمیں دراندازوں کو رسد فراہم کرتی ہیں، راہول شیوالے کا الزام
اپنے خط میں شیوالے نے ان کی وجہ سے پیدا ہونے والے سنگین مسائل کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ 1961 کی مردم شماری کے مطابق ممبئی میں ہندو آبادی 88% تھی۔ 2011 کی مردم شماری میں ہندو آبادی کم ہو کر 66 فیصد رہ گئی۔ اپنے خط میں راہول شیوالے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 2051 تک یہی فیصد 54 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ شیوالے نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ کچھ غیر رجسٹرڈ غیر قانونی سماجی تنظیمیں ان دراندازوں کو رسد فراہم کر رہی ہیں۔ شیوالے نے ایسی غیر قانونی سماجی تنظیموں کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔درایں اثنا مرکزی وزارت داخلہ کے اس حکم سے دراندازوں کے خلاف کارروائی میں تیزی آنے کا امکان ہے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com