ماضی کی طرح شہر کی صنعت کے مسائل حل کرنے کا اعلان،سستی تعلیم اور خواتین کے روزگار کی فراہمی کا تیقن
خیابان نشاط چوک میں سماج وادی کا تاریخ ساز جلسہ،تبدیلی کی لہر واضح، شان ہند و مستقیم ڈگنیٹی کا خطاب
مالیگاؤں :(پریس ریلیز) کل بروز اتوار سماج وادی و انڈیا الائنس کی نامزد امیدوار شانِ ہند کے آخری جلسہ عام کا انعقاد روایت کے برخلاف خیابان نشاط چوک پر تھا۔اس جلسہ عام میں شانِ ہند نے عوام کے جمِ غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلند اقبال نے ہاسپٹل کے بیڈ سے مفتی صاحب کیلئے اپیل لکھی تھی۔لیکن میرے بھائی بلند کے انتقال کے بعد مفتی موصوف کے کچھ مخصوص ورکر بلند کے خلاف واٹس ایپ پر لکھتے رہے۔انہوں نے کہا کہ سماج وادی ایسا الیکشن لڑ رہی ہے جس پر مخالفین گھبراہٹ سے سائیکل نشان پر ووٹ کی اپیل کر رہے ہیں۔انہوں نے تاحدِ نگاہ انسانی سروں کے سیلاب سے خطاب میں کہا کہ ہم شہر کے ہر علاقے میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔تعلیم،تعمیر،ترقی،روزگار،صنعت،تحفظ اور بالخصوص خواتین کے گھر بیٹھے روزگار کا انتظام ہمارا منصوبہ ہے۔سماج وادی و انڈیا الائنس کی نامزد امیدوار شان ہند نہال احمد نے کہا کہ"اصلاحِ سیاست کے نام پر سیاست میں آنے والوں نے شہر کا نقصان کیا ہے۔شیخ رشید خاندان کی غنڈہ گردی اور نشہ فروشی روکنے میں ناکام رہے۔موصوفہ نے کہا کہ جو ہم پر الزام لگا رہے ہیں انہیں علم ہونا چاہئے کہ نہالی خون کی قیمت کوئی ادا نہیں کر سکتا۔عوام سے انہوں نے کہا کہ دل پر ہاتھ رکھ کر کہو!کیا نہال صاحب نے اِس شہر کو پہچان،تعلیم اور ترقی نہیں فراہم کی۔کیا نہال صاحب کی بیٹی شانِ ہند کی قیمت کوئی ادا کرسکتا ہے کیا؟؟عوام کے سنجیدہ چہرے نفی میں جواب دے رہے تھے۔موصوفہ نے کہا کہ خواتین کا روزگار اور ان کا تحفظ ہمارا مشن ہے۔کیونکہ نشہ فروشوں اور نشہ کی لت کے شکار افراد سے شہر کی خواتین کو خطرہ لاحق ہے۔انہوں نے کہا کہ ساتھ نشہ کی برائی میں پریشان افراد کو ری ہیب سینٹر کے زریعے لت سے دور کر کے ہم روزگار فراہم کرینگے۔شانِ ہند نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں نشے کا کاروبار مفتی اسماعیل کی ایم ایل اے شہ میں عروج پر آیا ہے۔پرائمری اسکولوں کو جوے کا اڈہ بنا دیا گیا ہے۔انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پرائمری اسکولوں کو شادی ہال بنا کر روپیہ کمایا جا رہا ہے۔موصوفہ نے کہا کہ پرائمری اسکولوں کی تجدید کر کے وہاں سستی تعلیم کا انتظام کروں گی تا کہ غریب طلبہ پرائیویٹ طرز پر معیاری تعلیم حاصل کر سکیں۔مستقیم ڈگنیٹی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ساتھیو!پورا شہر سوچ رہا ہے نہالیوں کا آخری جلسہ خیابان نشاط چوک پر کیوں؟یاد رکھو ہم تبدیلی کیلئے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ہم 25 سالہ ملی جوڑ کے خاتمے کیلئے الیکشن لۂ رہے ہیں۔موصوف نے طویل تقریر میں کہا کہ مولانا کا الیکشن ہاتھ سے کل چکا ہے۔کل حضرت نے اپنے ساتھیوں سے فکر ظاہر کی ہیکہ الیکشن ہار چکے ہیں۔نیتا جی نے کہا کہ آج آخری جلسے کی مناسبت سے ممبئی سے کال آیا کہ کسی بڑے نیتا کو بھیجا جائے۔ہم نے کہا کہ ہمارے جلسے میں انسانی ہجوم ویسے بھی رہتا ہے ہمارا شہر تبدیلی کیلئے ہمارے ساتھ ہے۔آپ جسے چاہیں بھیج دیں۔انہوں نے کہا کہ قلعہ،رسول پورہ،خیابان نشاط چوک اور اسلام آباد محلوں میں اسپورٹس کھلاڑیوں اور تیراکی کے شوقین نوجوانوں کی کثرت ہے۔لیکن بتائیے اِس 25 سالہ ملی جوڑ نے اسپورٹس کے نام پر شہر کو کیا دیا۔موصوف نے تفصیلی خطاب میں کہا کہ مخالفین جِس علاقے کو گڑھ مانتے ہیں وہاں کام نہیں کیا تو پورے شہر میں کیا کام کریں گے۔موصوف نے یونس عیسی خانوادے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی ٹانکی والوں کے گھر میں میٹنگ ہوئی تھی اور کہا گیا تھا کہ سماج وادی والوں کے خلاف پورے الیکشن میں کچھ نہیں بولنا ہے۔لیکن آج حالات جب ہمارے موافق ہیں تو ہمیں ووٹ کٹوا کہہ کر شہریان کو گمراہ کر رہے ہیں۔انہوں نے ماضی میں گٹھ بندھن کے حوالے سے کہا کہ 2017 میں بلند بھائی کی ایماء پر ہم نے گٹھ بندھن کیا،لیکن مولانا الیکشن جیتنے یا ہارنے بعد کسی کے نہیں ہوتے۔ہم نے شہر کی تعمیر و ترقی کی خاطر گٹھ بندھن کیا تھا لیکن آج مولانا خود اقتدار میں ہونے بعد مضحکہ خیز بات کرتے ہیں کہ شہر کھنڈر ہو چکا ہے۔دورانِ تقریر مستقیم ڈگنیٹی نے بلند اقبال اور گزشتہ اسمبلی الیکشن کی کچھ روداد عوام کے سامنے بتاتے ہوئے کہا کہ بلند اقبال علیل تھے۔ہم لوگ بلند بھائی کو لیکر ناسک کے ہاسپٹل میں تھے۔مفتی صاحب نے مجھے کال کیا اور کہا کہ الیکشن کیلئے ایک اپیل لکھ دو۔بلند بھائی کو میں نے بتایا کہ مفتی صاحب کا ایسا کال آیا ہے۔بلند بھائی نے ہاسپٹل کے بیڈ سے مفتی صاحب کیلئے اپیل لکھی ہے۔ہم نے بلند اقبال کا وعدہ وفا کیا ہے لیکن مفتی صاحب نے نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ قلعہ علاقے کے کچھ مخصوص نہالیوں کو دھمکی دی جا رہی ہے۔غنڈہ گردی کی جار رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شیخ رشید خانوادہ کی غنڈہ گردی ہم ہی روک سکتے ہیں کیونکہ پورا شہر جانتا ہیکہ ہمارا دبدبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ شہر کی کئی ساری سائزنگوں کا کام بغیر اقتدار میں رہتے ہوئے میں نے کیا ہے۔موصوف نے کہا کہ یہ شہر بنکروں کا ہے اور ہم سیاست میں ہیں تو ہمیں سمجھتا ہے کہ بنکروں پر اگر کوئی مصیبت آئی تو ہمیں کرنا ہے۔موصوف نے کہا کہ دونوں فرقہ پرست پارٹیوں نے شہر میں اپنا امیدوار اِس لیے نہیں دیا کہ آصف شیخ اجیت پوار کے ساتھ ہیں اور مفتی اسماعیل ایکناتھ شندے کے ساتھ۔مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ دونوں فرقہ پرست کے ساتھ ہیں۔ آجی ماجی آمدار دادا بھسے کے مرغے بنے ہوئے ہیں اور دادا بھسے نے شہر کی ملی شناخت ختم کی ہے۔شہر کو لوٹا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم دادا بھسے سے کبھی ڈرے نہیں ہیں اور نا ڈریں گے۔نیتا جی مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ آپ سوچیے! آجی ماجی نے عملی طور پر کوئی کام نہیں کیا۔آج شہر بھر میں تبدیلی کی ہوا ہے۔موصوف نے یونیس عیسی خانوادہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی ٹانکی والوں کا زمین کا غیرقانونی کاروبار ہے۔یہ لوگ پولیس سے ڈرتے ہیں۔انہی لوگوں کی مدد سے شیخ رشید اور طاہرہ شیخ رشید مئیر بنی اور شہر میں کوئی کام نہیں ہوا۔بدلے میں ڈاکٹر خالد کو اسٹینڈنگ کمیٹی کا چیئرمین بنادیا گیا۔انہوں نے کہا کہ خیابان نشاط چوک پر جلسہ لینے کا مقصد یہ بھی یہ تھا کہ 2009 میں جب مفتی اسماعیل الیکشن لڑ رہے تھے تو مولانا نے خیابان نشاط چوک کے جلسے سے نہال صاحب کی ضعیفی اور بیماری پر تنقید کی تھی۔انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ نہال صاحب آخر وقت تک شہر کیلئے فکر مند رہے ہیں۔مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ ہم عالم نہیں ہیں لیکن جب مفتی صاحب علیل ہوئے تو انسانیت کی خاطر ہم نے عیادت کی۔موصوف نے کہا کہ ہمارے پاس شہر کی تعمیر و ترقی کا منصوبہ ہے۔بلیو پرنٹ بنی ہوئی ہے۔شان کی گیارنٹی جاری کر کے ہم نے شہر کے مسائل کے ساتھ اسے کیسے حل کرینگے وہ بھی بتایا ہے۔عوام سے اپیل ہیکہ آنے اسمبلی میں الیکشن میں شانِ ہند کو کامیاب کریں۔انہوں نے خیابان نشاط چوک پر آخری جلسہ کرنے کی وجہ بتائی کہ قلعہ فتح کرنے آئے ہیں اور 20 تاریخ کو شہر فتح کرینگے۔سابق کارپوریٹر آمین فاروق نے عوام کی عدالت میں آجی ماجی کے خلاف سنسی خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کا بڑا جھوٹا اسد اویسی نے حیدرآباد میں ہم سے کہا ہیکہ وہ امیت شاہ کا کلاس میٹ ہے۔اسد اویسی مالک میئر کو مالیگاؤں دورے کیلئے منع کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم نے مالیگاؤں میں کیسا امیدوار دیا ہے؟؟کس منہ سے مالیگاؤں کا دورہ کروں؟مالک میئر نے گولی لگنے کے حادثہ کی دہائی دیتے ہوئے اویسی کو دورے کیلئے رضا مند کیا۔انہوں نے گرجدار لہجے میں کہا کہ اسلام آباد محلے کے کارپوریٹرس کو لکڑی کا لڈو کھلا کر کارپوریشن الیکشن کے ٹکٹ کا لالچ دیا جا رہا ہے۔آمین فاروق نے کہا کہ اِس محلے کے کارپوریٹرس کو بجٹ میں حِصہ تک نہیں دیا گیا اور اگر کچھ حِصہ دیا بھی گیا تو ٹکے واری کمیشن پر دیا ہے۔انہوں نے موجودہ رکن اسمبلی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بیماری کا بہانہ کرتے ہیں،ممبئی سے ٹہرے پھاٹے تک کار میں آتے ہیں اور وہاں سے ایمبولینس میں آکر شہر بھر سے ہمدردی بٹورتے ہیں۔اس جلسہ سے صوفی نورالعین صابری نے کہا کہ شہر کی بیباک لیڈرشپ کیلئے شانِ ہند شہریان کیلئے مناسب متبادل ہیں۔پورے شہر کے سنجیدہ اور تعلیم یافتہ طبقات بشمول عام عوام کے شانِ ہند کا ساتھ ہیں۔انہوں نے صوفیائے کرام کی جانب سے اپیل عوام سے اپیل کی کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں شانِ ہند کو کامیاب کریں۔رضوان بیٹری والا نے اپنے انداز میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے بہتر مستقبل کیلئے شانِ ہند امیدواری کر رہی ہیں۔مالیگاؤں کے روشن مستقبل کیلئے شانِ ہند کو کامیاب کریں۔انہوں نے کہا کہ 12 نومبر معاملے میں شہر کی سڑکوں سے لیکر ہائی کورٹ تک شانِ ہند نے نمائندگی کی ہے۔سازش کے تحت پھنسائے گئے محروسین کی کیلئے آخر تک محنت کرتی رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہر کی بہن بیٹیوں اور پورے شہر کے تحفظ کیلئے شانِ ہند کو کامیاب کریں۔قبل اس ابتداء میں معین اختر نے بیباکانہ لہجے میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی تاریخ میں دو لیڈر ایسے آئے ہیں جنہوں نے عوام کے بھروسے کا سودا کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کیا۔مفتی اسماعیل نے اپنے سے بڑا عالمِ دین قبول نہیں کیا تو شیخ رشید نے کسی کی لیڈرشپ قبول نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ بیماری کے نام پر ووٹ طلب کرنے والوں کو سبق سکِھانا ضروری ہے۔جلسے کی نظامت ابوللیث انصاری نے کی۔اس جلسہ عام میں مہاراشٹر مسلم شاہ چھپر بند سنگھرش سمیتی نے سماج وادی پارٹی و انڈیا اتحاد کی نامزد امیدوار شانِ ہند کو اپنی حمایت دینے کا اعلان کیا۔اخیر میں سماج وادی پارٹی سرپرست اطہر حسین اشرفی نے جلسہ عام میں موجود مجمع سے پرزور خطاب میں کہا کہ میں وہی اطہر اشرفی ہوں جو آپ کے علاقے میں مفتی اسماعیل کا بازو بن کر کھڑا رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس محلے میں ہمیشہ ظلم و استبداد کے خلاف آواز اٹھتی رہی ہے۔موصوف نے کہا کہ 13 سال قبل مفتی اسماعیل کے ساتھ دوسرا خیمہ چھوڑ کر آیا تھا۔مفتی اسماعیل کو میں نے حلقیہ بیان لکھ کر دیا تھا جب تک آپ کے ساتھ رہونگا وفادار رہونگا۔میں نے دوسری سیاسی جماعتوں سے مفتی اسماعیل کیلئے دشمنی کی۔انہوں نے کہا کہ مفتی اسماعیل کو ایک مدرسے کا کام کیا دیا اور وہ کارپوریٹر ساجد عبدالرشید کو اُس مدرسے کے صدر سے کہا کہ اطہر اشرفی اور مدرسے والوں کو تھپتھپاتے رہو۔اِس بات پر میں نے مفتی اسماعیل کو چھوڑ دیا۔دورانِ تقریر اطہر حسین اشرفی کے آنسو چھلک گئے اور انہوں نے کہا کہ 120 سالہ قدیم مدرسے کے کام کے تعلق پر جب ایسا جواب ملا تو اُس مدرسے سے میرا روحانی رشتے کا اختتام ہوا ہے۔موصوف نے کہا کہ 2019 میں پورے شہر نے غنڈہ گردی اور نشہ فروشی کرنے والوں کے خلاف ہم نے ماحول بنا کر انہیں کامیاب کیا اور انہوں نے شہر کو کھنڈر میں تبدیل کر کے ایک خاندان کی غنڈہ گردی اور نسہ فروختگی تک روک نہیں پائے۔اطہر چچا نے تقریر میں کہا کہ مفتی صاحب کو غیرت نہیں آتی جس مولانا قاضی شہر مولانا حسنین رحمانی کو ملت مدرسہ کے بچوں کو لیکر سڑک پر احتجاج کرنا پڑا تا کہ ایک سڑک تعمیر ہو جائے۔اطہر حسین اشرفی نے کہا کہ مفتی اسماعیل کے پڑوسی تک نے اُن کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ایک وقت ایسا بھی تھا کہ صابر ستار کمپاؤنڈ میں 20 بیس پائلی کھانا پکتا تھا اور کچھ لوگ بچا کر رکھتے تھے تا کہ ورکر ساتھ نا چھوڑیں۔موصوف نے کہا کہ مفتی صاحب کے سب سے قریبی رفیق مفتی شکیل مرحوم کے انتقال کے بعد مفتی اسماعیل نے اُن کے اہلِ خانہ کی خبر گیری تک نہیں کی۔ایسا احسان فراموش اور مفاد پرست شخص اِس شہر کا نمائندہ نہیں ہو سکتا۔اطہر حسین اشرفی نے شیخ رشید خانوادہ کی غنڈہ گردی اور نشہ فروشی سے صرف اور صرف نہالی خون شانِ ہند ہی لڑ سکتی ہے۔شیر کی بیٹی شیرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ 2029 کا الیکشن آ جائیگا اور نعمانی پل تعمیر نہیں ہو پائے گا۔انہوں نے اخیر میں کہا کہ مجھ پر جھوٹے الزام لگائے جا رہے ہیں۔اگر مخالفین میں ہمت ہے تو مجھ پر لگائے گئے الزامات حلفیہ طور پر دیں۔ابتداء میں مدثر حسین گڈو،عبدالسلام عطر والا اور منصور انصاری وغیرہ نے خطاب کیا۔اخیر کہ نظامت رئیس ستارہ نے کی۔آخری جلسے کا منظر کچھ یوں تھا کہ اسٹیج سے لیکر شیعہ مسجد تک،سفیان پان والی گلی میں آخر تک،شفیق پان والی گلی میں دور تک عوام کا جمِ غفیر موجود تھا۔اسی طرح خواتین ایوبی ڈیلکس کے عقب میں اور لولو ہوٹل والی گلی میں بڑی تعداد میں موجود تھے۔اِس جلسہ عام میں اندیا الائنس کی اتحادی جماعتیں عام آدمی پارٹی،کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا،ویلفیئر پارٹی آف انڈیا،آل انڈیا سنی جمعیت الاسلام،حفاظت گروپ،مسلم شاہ چھپر بند سنگھرش،مولانا آزاد اسلامک سینٹر،راشٹریہ مسلم مورچہ،تنظیم اتحاد الصوفیاء،قدیری اکیڈمی کے ذمہ داران کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران موجود تھے۔ظہیر ناندیڑی نے جلسہ کہ صدارت کی۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com