تعلیم یافتہ بنو، متحد رہو اور اپنے حق کیلئے جدوجہد کرو۔ کنہیا کمار و اعجاز بیگ کا فتح میدان جلسہ سے خطاب


تعلیم یافتہ بنو، متحد رہو اور اپنے حق کیلئے جدوجہد کرو۔ کنہیا کمار و اعجاز بیگ کا فتح میدان جلسہ سے خطاب 

مالیگاؤں۔ ( پریس ریلیز ) تعلیم یافتہ بنو متحد رہو اور اپنے حق کیلئے جدوجھد کرو اس طرح کا پیغام ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے دیا تھا اور میں بھی وہی کہنے آیا ہوں۔ متحد ہوکر اپنا حق حاصل کرو دیش میں فرقہ پرستی اور نفرت بڑھ رہی ہے۔ بھاجپا سرکار کے لیڈروں کے بچے بیرون ملک میں مزے کررہے ہیں اور ہمارے غریب کے بچے روٹی کمانے کیلئے پریشان ہیں موجودہ سرکار کے راج میں مہنگائی نے ہر طرف اپنا سکہ جما لیا ہے۔ گیس ۔ دال پیٹرو ل اور دیگر ضروری اشیاء کے دام بڑھتے جارہے ہیں اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ سرکار اپنی مستی میں ہے۔ اسلئے مہاراشٹر اور مالیگاؤں کی جنتا کو 20 نومبر کو انڈیاالائنس اور کانگریس کے امیدوار کو ہی چن کردینا ہے ۔ اور سرکار بنانا ہے۔ تا کہ دیش اور مہارا شٹر کا وکاس ہوسکے۔ اور جنتا خوش حال ہوسکے۔ اس طرح کا اظہار خیال آل انڈیا کانگریس پارٹی کے اسٹار پرچارک و کمیونسٹ لیڈر کنہیا کمار نے کیا موصوف جمعہ کو فتح میدان میں کانگریس اور انڈیا الائنس کی جانب سے منعقد ہ انتخابی جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلبہ لیڈر اورنوجوان مقرر کنہیا کمار نے مالیگاؤں کی عوام سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ مولانا آزاد بھارت دیش کے پہلے وزیر تعلیم تھے جو کہتے تھے کہ انسان کو پڑھنے دیجئے ایک با ر وہ پڑھنا سیکھ گیا تو وہ صحیح اور غلط میں فرق کرنا بھی سیکھ لے گا ۔لیکن آج کی سیاست انسان کو انسان سے بانٹ رہی ہے۔ مندر اور مسجد جانے والے انسانوں کو ڈینگو کا مچھر کا ٹ لے تو ڈینگو ہی ہوگا مچھر انسان کو نہیں بانٹ رہا لیکن لیڈر انسان کو انسان سے بانٹ رہا ہے۔یہ حالت ہے دیش کی۔ دیش اور ریاست میں جن وعدوں کو لیکر سرکار بنی ہے اگر وہ وعدہ پورا نہیں کرتی تو ہمارا آئین اور جمہوریت اسے بدلنے کی اجازت دے رہا ہے اسلئے مہاراشٹر کی جنتا کو بھی سرکار کو بدلنا ہوگا۔کنہیا کمار نے مزید کہا کہ مہاراشٹر میں ایم ایل ایز کی خریدوفروخت گجرات میں بیٹھا بیوپاری کررہا ہے یہ جمہوریت کی توہین ہے ۔مہاراشٹر کی جنتا کو 20 نومبر کو صرف ایم ایل اے ہی نہیں منتخب کرنا ہے بلکہ غداروں کو بھی منہ توڑ جواب دینا ہے۔ دیویندر فرنویس پر تنقید کرتے ہوئے کنہیا کمار نے کہا کہ وہ الیکشن کو دھرم یو دھ کا نام دے رہے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ اگر سیاست دھرم بچانے کیلئے ہے تو سب کو آنا چاہیئے۔ صرف غریب کا بچہ کیوں لیڈر کا بچہ کیوں نہیں ۔ کیاان کے بچے دوسرے دیش میں مزے کریں گے ۔ آج دیش میں لکھائی پڑھائی دوائی سب مہنگی ہوگئی ہے ہر ایک گھنٹہ میں دو کسان خودکشی کررہے ہیں ۔ کھیتی میں سب سے زیادہ روزگار ہے اس کے بعد پاورلولوم بنکر شعبہ میں روزگار ملتا ہےاسے مضبوط کرنا ہوگا لیکن سرکار اس طرف دھیان نہیں دے رہی اور فیکٹریاں بند ہوتی جارہی ہے۔ اسکولوں اور کالجوں کو بند کیا جارہا ہے۔ اور مودی جی دیش کے وکاس کی بات کرتے ہیں۔ اسکول ہاسپٹل اور سڑکیں اچھی کیوں نہیں ہوناچاہیے۔ کیوں کہ اگر یہ اچھے بن گئے تو غریب کا بچہ بھی پڑھے گا اور سرکاری اسپتال میں اچھا علاج ہوگا اور۔اچھی سڑک پر چل سکے گا۔ سرکار یہ ہونے نہیں دے رہی اور صرف عوام کو بانٹا جارہا ہے۔ کنہیا کمار نے کٹیں گے تو بٹیں گے نعرہ پر کہا کہ ریل تیل ایئر پورٹ سب مودی جی کے دوستوں میں بنٹ رہا ہے اور مودی جی کی جنتا کی جیب کٹ رہی ہے۔ اسلئے عوام 20 نومبر کا کانگریس امیدوار کو ووٹ دیکر کامیاب کریں۔ فتح میدان کے تاریخی جلسہ سے انڈیا الائنس اور کانگریس کے امیدوار اعجاز بیگ نے کہا کہ ہم تعمیر وترقی کی بات کرتے ہیں ۔ غنڈ ہ گرد ی برادری واد اور نشہ کی سیاست نہیں کرتے۔ عوام کو ہم نے ماضی میں بھی کام کرکے دیا ہے اور آگے بھی کرکے دیں گے ہم اس شہر میں ایم بی بی ایس کالج۔ ڈینٹل کالج اور تعلیمی معیار بلند کرنے کیلئے سرکار سے کام کروائیں گے ۔ آج شہر کی لڑکیاں بیرون شہر تعلیم حاصل کرنے جاتی ہیں ہم شہر میں ہی کالجز بنائیں گے۔ جس وقت 52 ٹیچروں کا معاملہ ہوا تھا ان کی ڈیوٹی اور نوکری رد ہوئی تھی اس میں 40 لڑکیاں ٹیچر تھیں جن کا رشتہ لگ گیا تھا ان کو میں نے کوشش کرکے دوبارہ نوکری پر رجوع کروایا تھا لیکن شیخ آصف نے ان کا کام رکوایا تھا ان کو میرے کام سے جلن ہوئی تھی یہ کسی کو آگے نہیں آنے دیتے بجلی کمپنی کو بھی شیخ آصف نے لایا اور مفتی اسماعیل نے بھی اس میں ساتھ دیا اور آج عوام پریشان ہے۔ اگر عوام نے مجھے چن کردیا تو سب سے پہلے بجلی کمپنی کو شہر سے بھگانے کا کام کرو ں گا۔ میں نے اس وقت مفتی صاحب کو کہا تھا کہ اس کمپنی کو مت آنے دو لیکن وہ بھی ما نے نہیں تھے ۔ اور آج عوام دونوں لیڈران سے پریشان ہو چکی ہے۔ اسلئے گدھے سے بھی کم قیمت دو سو اور پانچ سو میں ووٹ کا سودا نہ کریں اور 20 نومبر کو ایک نمبر کا بٹن دباکر کانگریس کے پنجہ نشان پر ووٹ دیں۔ کیونکہ مہاراشٹر میں انڈیا الائنس کی سرکار بنے گی اور آج کانگریس لیڈر کھڑگے صاحب نے کہا ہے کہ وہ مہاراشٹر کی جنتا کو تین سو یونٹ بجلی مفت فراہم کریں گے۔ ساتھ ہی خواتین کو ماہانہ تین ہزار روپئے ۔ اور گیس سلینڈر پانچ سو روپیہ میں اور بسوں میں خواتین کو سفر مفت ملے گا۔ اسلئے عوام موقع کی اہمیت کو دیکھ کر فیصلہ کریں۔ جمیل کرانتی نے کہا کہ جس طرح کے حالات ظاہر ہورہے ہیں اس سے یہ اندازہ ہے کہ مہاراشٹر میں انڈیا الائنس کی سرکار بن رہی ہے اسلئے عوام اعجاز بیگ کو ضرور ووٹ دیں ۔ سلیم رضوی نے کہا کہ بی جے پی نے یکساں سول کوڈ لانے کا اعلان کیا ہے اور اس سے قبل وقف ایکٹ پر بھی وہ آگے بڑھ رہی ہے اور صرف نفرت کی سیاست کے ذریعے عوام کو گمراہ کررہی ہے۔ اسلئے عوام کسی بہکاوے میں نہ آتے ہوئے انڈیا الائنس کے امیدوار اعجاز بیگ کو ہی پنجہ نشان پر ووٹ دیں۔ عمران راشد نے کہا کہ شہر سے برادری واد ۔نشہ اور غنڈ ہ گرد ی کی سیاست سے نجات اور تعمیراتی ذہن والے اعجاز بیگ کی کامیابی بہت ضروری ہے۔ اور اس کیلئے عوام اپنے ووٹ کا استعمال کریں اور اعجاز بیگ کو پنجہ نشان پر ووٹ دیں۔ پروگرام عبد الغفار شیخ۔ عمران انجینئر۔ ابو بکر چودھری۔ زینو پٹھان ۔ صابر بھائی میاں۔ ڈاکٹر انیس ۔ عبد الحمید کالا گاندھی۔ حمید خان ۔ مقیم مینا نگری۔ شفیق اینٹی کرپشن والا۔کامریڈ شفیق ۔ حفیظ لینسیہ۔اور دیگر افراد موجود تھے ۔نظامت عمران راشد اور نظم آزاد انور نے پیش کی۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے