ہم امن پسند لوگ ہیں، غنڈہ گردی نہیں کرتے، نشہ کا دھندہ کرنے والوں کو پولس بے نقاب کرے، ماں بیٹی سے فون پر گندی باتیں کرنے والے اچھائی برائی کی بات نہ کریں
اسکولیں اور مذہبی مقامات سیاسی پرچار کیلئے ہیں یا اچھی تعلیم کیلئے؟مینجمنٹ اور ٹرسٹیان خلاصہ کریں
مذہب کی بنیاد چناؤ لڑنے کیخلاف الیکشن پٹیشن دائر کرنے آصف شیخ کا اعلان، ماسٹر اسٹروک 2 کیلئے گیارہ رکنی کمیٹی تشکیل
مالیگاؤں : 29 نومبر (بیباک نیوز اپڈیٹ)اسمبلی چناؤ میں مجھکو ایک لاکھ نو ہزار چار سو اکیانوے ووٹ کا ملنے کا سہرا مالیگاؤں شہر کی عوام اور ورکروں کودیتا ہوں ۔ہم الیکشن ہارے ہیں لیکن ہمت نہیں ہارے، اس طرح کے جملوں کا اظہار آصف شیخ رشید نے کیا ،موصوف ہزار کھولی رابطہ آفس پر منعقدہ جائزہ میٹنگ سے خطاب کررہے تھے، یہ میٹنگ سابق اسٹینڈنگ چیرمین شیخ نثار موسیٰ کی صدارت میں منعقد کی گئی تھی، اس موقع پر آصف شیخ رشید نے الیکشن میں شکست کے اسباب کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف اپوزیشن کا سیاسی پہاڑ کھڑا تھا، اکبر الدین اویسی، اسد الدین اویسی اور حیدرآباد کے ایم ایل اے و ٹیم تھی ۔جمیعتہ علما میدان میں تھی، مسجدوں سے پرچار کیا گیا ووٹر سلپ تقسیم کی گئی، امام صاحبان کے علاوہ عالمہ نے بھی خواتین کی دعائیہ مجلس میں ووٹ مانگا ۔تعلیمی اداروں سے ووٹ مانگی گئی ۔بنکروں نے مزدوروں کو ووٹ دینے پر مجبور کیا ۔غرض کہ ہمارے اپنے خلاف پوری تیاری سے انتہائی طاقتور طریقہ سے اسمبلی چناؤ لڑا گیا لیکن اس کے باوجود مالیگاؤں شہر کی عوام نے مجھکو تنہا الیکشن لڑنے پر ڈھیر ساری ووٹوں سے نوازا میں انکا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔خواتین کا، ایک ایک ورکروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔آصف شیخ نے ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے بعد سے مفتی اسمٰعیل کی سیاسی تقریر کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے جامع مسجد سے شیخ رشید خاندان کو ٹارگٹ کیا گیا۔شیخ رشید آصف شیخ اور حاجی خالد پر تنقید کی گئی، مسجد سے درس قرآن کی مجلس میں سیاسی باتیں کی گئی،کیا ہم مسلمان نہیں ہیں کیا ہمارا مسجد سے کوئی لگاؤ نہیں ہے؟ علما کرام کب آواز بلند کرینگے، ہم کس سے فریاد کرینگے ۔؟ کب ہمیں انصاف ملیگا؟ اس طرح کے سوالات بھی آصف شیخ نے اٹھائے، موصوف نے کہا کہ جامع مسجد کے ٹرسٹیان کہہ دیں کہ آصف شیخ کے ورکروں اور انکے خاندان والے مسجد نہ آئیں۔انہیں کچھ تو جواب دینا پڑے گا، آصف شیخ نے کہا کہ جامع مسجد کے بعد فتح میدان سے جمیعتہ علماء کے اسٹیج سے مفتی اسمٰعیل کیلئے ووٹ مانگی گئی، جمعیۃ علماء کے ایک لاکھ ممبروں کو ہدایت دی گئی کہ آصف شیخ کو ہرا دیا جائے، آصف شیخ نے کہا کہ جمعیتہ علماء بھی اعلان کردے کہ جمعیت علما صرف ہماری پراپرٹی ہے ۔ہمیں شیخ آصف کے خاندان والوں سے اور ورکروں سے چندہ نہیں چاہیے ۔آصف شیخ نے کہا کہ آمین فاروق نے کہا تھا کہ گزشتہ الیکشن میں جمیعتہ علما کا پچاس لاکھ چندہ مفتی اسماعیل نے استعمال کیا تھا ۔کیوں عوام کے چندے کا سیاسی استعمال ہورہا ہے؟ کون سوال کریگا؟ آصف شیخ نے کہا کہ پورے ہندوستان میں جمیعتہ علما نے کہیں بھی کسی امیدوار کو حمایت نہیں دی لیکن مالیگاؤں جمیعتہ علما نے حمایت دی ۔ اور کھل کر اسمبلی چناؤ مفتی اسماعیل کیلئے لڑا، مفتی اسمٰعیل نے سیاست میں مذہب کا استعمال یہی نہیں روکا بلکہ آگے بڑھ کر انکی بہن محترمہ رافعہ آپا نے پمپلٹ تقسیم کیا جس کا عنوان دیا تھا کہ ووٹ دینا ثواب ہے اور اپنے گناہوں سے بچنے کا طریقہ ہے، رافعہ آپا نے خواتین کی دعائیہ مجلس میں بھی مفتی اسمٰعیل کیلئے ووٹ مانگا، مفتی اسماعیل کی بیٹی نے بھی دعائیہ مجلس میں ووٹ مانگا ۔ہمارے پاس ویڈیو آڈیوز اور انکے پمپلٹ موجود ہیں، آصف شیخ نے کہا کہ اویسی نے بھی مجھکو یزید کہا،کیا اویسی کو پتہ نہیں کہ میں بھی مسلمان ہوں ۔انہوں نے شہر کے علماء کرام سے سوال کیا کہ یہ لڑائی سیاسی ہے یا مذہبی ہے؟ یہ بتایا جائے، آصف شیخ نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ مولانا سجاد نعمانی کے بیان پر بھی بی جے پی نے واویلا مچا کر ہندو ووٹوں کو متحد کیا، سجاد نعمانی نے بھی مفتی اسماعیل کی حمایت کی، مفتی اسمٰعیل نے اپنے جلسوں اور واٹس ایپ گروپ میں انکے فوٹو کا استعمال کیا۔مکمل طور پر اس الیکشن کو مذہبی موڑ دیکر لڑا گیا ۔اس پورے الیکشن کو مذہب کی بنیاد پر لڑا گیا جبکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ مذہب کی بنیاد پر چناؤ نہیں لڑا جاسکتا ہے اور اگر کوئی مذہب کی بنیاد پر چناؤ لڑتا ہے تو اس کی ممبری رد کردی جاتی ہیں اور اسی معاملے کو بنیاد بنا کر ہم الیکشن کمیشن، مفتی اسمٰعیل کو پارٹی بنا کر ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے جارہے ہیں ۔
سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے آصف شیخ نے کہا کہ بڑی مالیگاؤں ہائی اسکول کے مینجمنٹ سے بھی سوال کہ اسکول پڑھائی کیلئے ہے یا سیاسی پرچار کرنے کیلئے جواب دیا جائے ۔یہاں کے ٹیچرس نے بچوں کے واٹس ایپ گروپ میں بھی لکھا کہ مفتی اسماعیل کو ووٹ دینا ۔اور بچوں سے یہ بھی کہا کہ مفتی اسماعیل کو ووٹ دیں اور وہ جیت گئے تو اسکول مت آنا اور آصف شیخ کو جو ووٹ دیگا انہیں اسکول آنا رہیگا،شہر کی کچھ اسکولوں میں آصف شیخ کیخلاف زہر گھولا گیا۔انہوں نے کہا کہ اگر جواب نہیں دیا گیا اور کارروائی نہیں کی گئی تو ہم قانونی کارروائی کرینگے،آصف شیخ نے کہا کہ بہت افسوس کی بات ہے کہ اس شہر میں ایسی گھٹیا سیاست کی جارہی ہیں، اس پر روک لگانا اسکول انتظامیہ اور علماء کرام کی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم پانچ سال چوبیس گھنٹوں تک عوام کے سماجی کام کاج کرتے رہتے ہیں بس ایک امید پر کہ الیکشن میں ہمیں ووٹ ملے ۔لیکن جو کبھی کوئی سماجی سیاسی کام کاج نہیں کرتا مالیگاؤں کی عوام نے اسے کامیاب کردیا ۔کس بنیاد پر عوام نے انہیں ووٹ دیا؟۔ہم عوامی کام کاج کرتے رہتے ہیں اور ووٹ مفتی اسماعیل کو دی جاتی ہیں کیوں؟ آصف شیخ نے کہا کہ شہر کے 75 فیصد بنکر بھائیوں سے بھی میری شکایت ہے کہ وہ خود نہیں چاہتے کہ پاور لوم صنعت ترقی کرے،میں نے اور سماجوادی پارٹی نے بجلی سبسڈی دلوائی ۔ابو عاصم اور رئیس شیخ بھی کیا سوچیں گے کہ مالیگاؤں کے بنکروں نے ووٹ نہیں دیا ۔سماجوادی پارٹی نے اسٹڈی گروپ بنوایا، اسمبلی میں آواز اٹھائی، میں نے اجیت پوار کیساتھ میٹنگ لگوا کر جی آر جاری کروایا، آج بنکروں کو سبسڈی مل رہی ہیں لیکن ووٹ مفتی اسماعیل کو دی گئی، افسوس کی بات ہے، انہوں نے ریاستی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بن رہی ہیں ۔اب مہاراشٹر کے مسلمانوں کی نمائندگی کون کریگا؟ بمپر اکثریت سے بھارتیہ جنتا پارٹی، شندے گروپ اور اجیت پوار گروپ کو اقتدار مل گیا ہے، اپوزیشن لیڈر نہیں ہوگا، اب کون مالیگاؤں سمیت مہاراشٹر کے مسلمانوں کی نمائندگی کریگا، ہمارے اپنے شہر کے کام کاج کس طرح ہونگے، یہ فکر مندی کی بات ہے ۔آصف شیخ نے مقامی سیاست پر جائزہ پیش کرتے ہوئے مزید کہا کہ مفتی اسماعیل کو دس سال ملے انہوں نے کچھ کام نہیں کیا ۔اور اب پولس کو دھمکی دے رہے ہیں، جمعرات تک وارننگ دی تھی لیکن جمعہ بھی ختم ہوگیا انہوں نے کچھ نہیں کیا، آصف شیخ نے کہا کہ مفتی اسماعیل پولس کو دھمکی دے لیکن شیخ آصف کے ورکروں کوک دھمکی مت دینا ۔ہم امن پسند لوگ ہیں ،ہم غنڈہ گردی نہیں کرتے، ہم نے سب راستے چھوڑ دیئے ہیں، جھوٹی شکایت پولس میں درج کرواتے ہو اور ہمیں بدنام کرتے ہو ۔آصف شیخ نے کہا کہ پولس جعفر نگر جھگڑا معاملہ میں جھوٹے کیس کی انکوائری کرے ۔ندیم فٹر فائرنگ معاملہ کی بھی انکوائری کرے مجھکو یہ بھی فیک لگتا ہے اور شہر میں نشہ آور اشیاء کے کاروبار کرنے والے کو بے نقاب کرے، پولس کے کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگ رہا ہے، آصف شیخ نے کہا کہ ہمیں بدنام کرتے ہو، میں آج پھر چلینج کرتا ہوں کہ آؤ اچھائی برائی پر سامنا کرلو ،کون کتنا پارسا ہے سمجھ میں آجائے گا، نشہ آور اشیاء کا کاروبار کون کرتا ہے یہ بھی سمجھ میں آجائے گا، کون ماں بہنوں سے فون پر گندی باتیں کرتا ہے اور کون فون پر گالیاں دیتا ہے؟ سب سامنے رکھ دونگا ۔آصف شیخ نے کہا کہ میرے پاس ایسی ایسی آڈیوز کلپ ہیں کہ اگر اسے وائر کردوں تو ہمارے شہر کی بدنامی ہوگی، علماء کی بدنامی ہوگی، یہ ہم سے اچھائی برائی کی بات کرتے ہیں ۔انہیں کوئی حق نہیں ہے اچھائی برائی پر بات کرنے کا، آصف شیخ نے کہا کہ ان سب معاملات پر علما کرام کو جواب دینے کی ضرورت ہے ورنہ ہمارے شہر کا نقصان ہوگا، میں نہیں چاہتا کہ شہر بدنام ہوجائے، لیکن یہ لوگ ایسی گندی حرکت کررہے ہیں کہ اگر وہ عوام کے سامنے آجائے تو یقیناً انکی بدنامی ہوگی اور اس سے شہر کی بدنامی ہوگی ۔اس لئے انہیں سوچنے کی ضرورت ہے ۔
حافظ انیس اظہر نے کہا کہ دوست و سیاسی دشمن بھی مانتے ہیں کہ آصف شیخ اسمبلی الیکشن کے اصلی ہیرو ہیں ۔آصف شیخ ایم ایل اے تو نہیں بن سکے لیکن وہ ایک قدآور لیڈر بن گئے ہیں، حاجی خالد شیخ رشید تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہار جیت اللہ کی مرضی سے ہے، آصف شیخ نے برادری واد ختم کردیا ۔تمام علاقوں سے ووٹ ملی ہے، ہم اب انہیں ہی موقع دیں جو ہمیں ووٹ دیئے ہیں ۔اس میٹنگ میں ہزاروں کی تعداد میں عوام موجود تھی ۔اس موقع پر ابوذ کانڈی والا ،سلیم منا،فاروق کالیا،سلیم انور،حافظ انیس اظہر، حاجی خالد شیخ رشید ،عرفان علی ،شفیق سلیم میڈیکل والا، احسان شیخ وغیرہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، نظامت کے فرائض جنید عالم نے انجام دیا ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com