کرکٹر عمران پٹیل کی گروارے اسٹیڈیم اورنگ آباد میں دوران میچ موت ، کرکٹ کی دنیا میں صدمہ



کرکٹر عمران پٹیل کی گروارے اسٹیڈیم اورنگ آباد میں دوران میچ موت ، کرکٹ کی دنیا میں صدمہ


اورنگ آباد : 28 نومبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) ٹیلنٹیڈ آل راؤنڈر عمران پٹیل (40) بدھ کی شام گروارے کرکٹ اسٹیڈیم میں ایک میچ کے دوران میدان میں غش کھا گر گئے۔ انہیں فوری طور پر نجی اسپتال لے جایا گیا۔جہاں ڈاکٹروں نے عمران کی موت کی تصدیق کردی ۔تاہم، ان کی موت نے اورنگ آباد کرکٹ کی دنیا میں ہلچل مچا دی۔تفصیلات کے مطابق لکی بلڈرز اینڈ ڈویلپرز اور ینگ الیون کے درمیان میچ گروارے کرکٹ سٹیڈیم میں شام کے سیشن میں شروع ہوا۔ اس میچ میں ینگ الیون ٹیم کی جانب سے ایڈمنسٹریٹر جی سری کانت بھی کھیل رہے تھے۔ لکی ٹیم کے کپتان عمران پٹیل نے بھی میچ کے چھٹے اوور میں دو چوکے لگائے۔لیکن اوور ختم ہونے کے بعد عمران پٹیل نے امپائرز اور کھلاڑیوں سے کہا کہ ان کے گلے اور ہاتھ میں درد ہے، میں باہر جا کر دوائی کی گولی لاؤں گا۔اسو سی ایشن کے ایڈمنسٹریٹر جی سری کانت نے عمران پٹیل کو یہ بھی مشورہ دیا کہ صحت اہم ہے، اپنی صحت کا خیال رکھیں اور فوراً اسپتال جائیں۔ ینگ الیون کے کپتان سندیپ ناگرے نے بھی عمران پٹیل کو ایسا ہی مشورہ دیا۔ عمران پٹیل میدان سے باہر جاتے ہوئے اچانک باؤنڈری کے قریب گر گئے۔اس کے بعد تمام کھلاڑی ان کے پاس پہنچ گئے۔شام ہوتے ہی گاڑیوں کا رش رہتا ہے۔ اس لیے ایڈمنسٹریٹر جی سری کانت نے فوری طور پر عمران پٹیل کو اپنی کار میں ایک نجی اسپتال بھیج دیا۔تاہم ڈاکٹروں کی بہت کوشش کے باوجود وہ اس کی جان نہ بچا سکے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ عمران پٹیل نے گزشتہ سال اے پی ایل میں بھی اپنی پہچان بنائی تھی۔گرین گولڈ سانیا یونائیٹڈ کے خلاف ان کی 52 رنز کی ناقابل شکست اننگز شائقین کرکٹ کو آج بھی یاد ہے۔اس اننگز کی وجہ سے شکتی اسٹرائیکرز کی ٹیم سیمی فائنل میں پہنچ گئی۔ میونسپل ایڈمنسٹریٹر جی نے کہا کہ شیخ حبیب کے بعد عمران پٹیل کا میدان سے جانا افسوسناک واقعہ ہے۔ عمران پٹیل کو آزاد کالج پیسیفک ہسپتال کے قریب قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔عمران پٹیل کے پسماندگان میں والدہ، اہلیہ، 3 بیٹیاں اور بہن بھائی ہیں۔. اس موقع پر مالیگاؤں کرکٹ اسو سی ایشن کی جانب سے کارپوریٹر انصاری آمین فاروق کی سرپرستی میں قویسن قادری، اظہر انصاری، خالد الزماں اور شمویل نے اورنگ آباد پہنچ کر عمران پٹیل کی تجہیز و تکفین میں شرکت کی اور انہیں تسلی دیتے ہوئے تعزیتی کلمات پیش کئے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے