جن کی پارٹی کا نام اسلام ہے وہ ہمیں کہہ رہے ہیں مذہب کا استعمال کرکے الیکشن جیتا ہے: مفتی اسمٰعیل قاسمی

جن کی پارٹی کا نام اسلام ہے وہ ہمیں کہہ رہے ہیں مذہب کا استعمال کرکے الیکشن جیتا ہے: مفتی اسمٰعیل قاسمی 


 مالیگاؤں(پریس ریلیز) مجلس اتحاد المسلمین کے مقامی رکن اسمبلی مفتی اسمٰعیل قاسمی نے رابطہ آفس دارالخیر سے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 20 نومبر کو اسمبلی الیکشن ہوا 23 نومبر کاؤنٹنگ ہوئی اللہ تعالیٰ کا بے پناہ شکر و احسان ہے نامساعد حالات کے باوجود لوگوں کی دعاؤں کی برکت سے اللہ پاک نے مجھے کامیابی سے ہمکنار کیا اس سلسلے میں ان حضرات کیلئے جنھوں نے ہر طرح کا تعاون میرے لیے محنت کی جدوجہد کی مجھے کامیابی مل جانے کے بعد میری ذمہ داری بنتی ہے کہ اب مَیں شہر کا نمائندہ ہو جنھوں نے مجھے ووٹ دیا اور جنھوں نے مجھے ووٹ نہیں دیا ہے سب کی ذمہ داری پوری کرنا میری ذمہ داری ہے اس ضمن میں کل بروز اتوار 1 دسمبر کو شام 7 بجے سے رات دس بجے تک ایک جلسہ اظہار تشکر مشاورت چوک پر رکھا گیا ہے اہلیانِ شہر سے گزارش ہے کہ وہ اس جلسہ گاہ میں ضرور بہ ضرور شرکت کریں مہمان خصوصی کی حیثیت سے مہارااور ہم نے باقاعدہ لیگل قانونی طور پر جیت حاصل کی ہے اور سارے پروسیجر عملی اقدامات کو مکمّل کیا ہے اور ان شاءاللہ ہائی کورٹ میں جاۓ گے تو ماضی کی طرح پھر منہ کی کھاۓ گے. آمد ہوگی اور وہ حضرات خطاب بھی کریں گے نمائندے کا سوال تھا کل شیخ آصف نے میٹنگ میں کہا آپ نے الیکشن جیتنے کیلئے مذہب کا استعمال کیا ہے اور اس معاملے کو لے کر وہ ہائی کورٹ جاۓ گے اس پر آمدار مفتی اسمٰعیل قاسمی جواب دیتے ہوئے کہا کہ سال 2009 میں مَیں نے الیکشن لڑ کر کامیابی حاصل کی تھی اس موقع پر شیخ رشید مرحوم کورٹ گئے تھے اور یہی مدعا انھوں نے سامنا رکھا تھا کہ مَیں نے الیکشن میں دعا مانگی، دعا مانگنا ایک مذہبی عمل ہے اس لیے انکا الیکشن رد کیا جائے پھر 2019 میں الیکشن لڑا پھر شیخ آصف کو شکست سے دوچار کیا یہی مماثلت شیخ آصف کی پیٹیشن پر بھی تھا اور آج بھی جب 2024 کے نتیجہ میں انکو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو وہ ہائی کورٹ جانے کی بات کر رہے ہیں اور انکو اس بات کا اختیار ہے اور مَیں نے کوئی مذہب کی بنیاد پر الیکشن نہیں لڑا ہوں میری پارٹی کا نام آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین aimim ہے اور میری پارٹی کا نام اسلام نہیں ہے مذہب کے نام پر جن لوگوں نے الیکشن لڑا ہے انکو یہ بات سوچنی چاہیے کہ انھوں نے مذہب اسلام کے نام پر الیکشن لڑا آج ہم کو الزام دے رہے ہیں ہم نے کوئی مذہب کا سہارا لیا نہیں ہے اب یہ زبردستی کچھ اس طرح کی بات لاۓ گے تو ہائی کورٹ کے اندر انکی کوئی پیٹیشن ٹکنے والی نہیں ہے یہ صرف اپنے ورکروں کو تسلی دینے کے لیے تھوڑا سا انکو دلاسہ ہوجائے اسکے لیے یہ سب حرکت کر رہے ہیں اس طرح سے چھچھند کرنے سے کچھ نہیں ہوگا اور ہم نے باقاعدہ لیگل قانونی طور پر جیت حاصل کی ہے اور سارے پروسیجر عملی اقدامات کو مکمّل کیا ہے اور ان شاءاللہ ہائی کورٹ میں جاۓ گے تو ماضی کی طرح پھر منہ کی کھاۓ گے.


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے