تبدیلی کی لہر پیدا نہیں ہو سکی،عوام برادری واد کی زنجیر میں بٹ گئے، عوامی خدمات جاری رہیگی لیکن۔۔۔۔۔



تبدیلی کی لہر پیدا نہیں ہو سکی،عوام برادری واد کی زنجیر میں بٹ گئے، عوامی خدمات جاری رہیگی لیکن۔۔۔۔۔

نومنتخب رُکنِ اسمبلی مفتی اسماعیل سے شہر کے مفاد میں کام کاج کی توقع کے ساتھ مبارکباد،مستقیم ڈگنیٹی کی پریس کانفرنس 





مالیگاؤں :25 نومبر (پریس ریلیز) گزشتہ 23 نومبر کو اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔جس میں مقامی سطح پر سماج وادی پارٹی کی شانِ ہند کو توقع کے برخلاف ووٹیں ملیں۔نتائج کے بعد کل شب سماج وادی پارٹی یوا نیتا مستقیم ڈگنیٹی نے آگرہ روڈ رابطہ آفس پر پریس کانفرنس سے کہا کہ الیکشن میں عوام کو برادری واد کی زنجیر میں کسا گیا اور سماج وادی عوام کو برادری واد کی زنجیر سے نکالنے کی اخیر تک کوشش کرتی رہی لیکن چونکہ الیکشن برادری واد کے ایجنڈے پر جا چُکا تھا اِس لیے عوام نے کسی کو ہرانے اور کسی کو جیتانے کیلئے دو حِصوں میں بٹ کر اپنی ووٹ کو استعمال کیا۔جبکہ سماج وادی تبدیلی،بدلاؤ اور ماضی کے کام کاج کی بنیاد پر امیدواری کر رہی تھی۔موصوف نے کہا کہ ہم تبدیلی پر عوام کو راغب کر رہے تھے۔ روزگار،صنعت،تعمیر، ترقی اور تعلیم  کے مسائل پر میدان میں تھے۔ لیکن الیکشن تبدیلی پر گیا ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کسی کو ہرانے اور کسی کو جیتانے کیلئے دو حِصوں میں تقسیم ہو گئی۔جمہوری نظام میں اِس قسم کے الیکشن کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ شہریان جانتے ہیں کہ گزشتہ  25 سال سے شہر تعمیر و ترقی کیلئے ترس رہا ہے۔ 25 سالہ ملی جوڑ نے اِس شہر میں کچھ نہیں کیا۔ایسے تمام عناوین اور ہمارے عزائم و منصوبے پر ہم نے الیکشن لڑا۔نتائج ہمارے حق میں نہیں ہیں۔ ہم مایوس نہیں ہیں۔ سماج وادی پارٹی اپنی عوامی خدمات ماضی کی طرح جاری رکھے گی ۔انہوں نے کہا کہ شہریان سے پوشیدہ نہیں ہیکہ سب سے زیادہ عوامی خدمات و کام کاج سماج وادی ہی کرتی ہے۔مستقبل میں بھی جاری رہے گی لیکن طریقۂ کار تبدیل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سماج وادی کے عوامی کام کاج کے طریقۂ کار کیلئے جائزہ کمیٹی بنائی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن میں کمزور کس مقام پر ہوئے اِس پر بھی جائزہ کمیٹی عوام کے درمیان ہوگی۔موصوف نے کہا کہ اِس الیکشن میں ہم سیاسی حریف پہنچاننے میں بھی ناکام رہے کہ ہمارا اصل مقابلہ کِس سے ہے؟آصف شیخ سے یا مفتی اسماعیل سے؟ اِس کا اقرار کیا جاتا ہے۔اگر سیاسی حریف پہنچانے جاتے تو نتائج میں تبدیلی ہوتی۔ مستقیم ڈگنیٹی نے اِس موقع پر انکشاف کیا کہ سماج وادی پارٹی میں ہی کچھ لوگ پارٹی مخالف سرگرمی میں ملوث تھے جس کی اطلاعات ہمیں برابر موصول ہو رہی تھی لیکن الیکشن ہونے کے سبب ہم ایسے افراد پر کاروائی کرنے سے قاصر تھے۔انہوں نے اِس پریس کانفرنس سے اپیل کی کہ پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد ابھی اور آج ہی پارٹی چھوڑ کر جا سکتے ہیں اِس سے پہلے کے سماج وادی پارٹی اپنی پالیسی اور طریقۂ کار مطابق اُن افراد کو پارٹی سے باہر کر دے۔اِس موقع پر انہوں نے بتایا کہ سماج وادی پارٹی کی مہاراشٹر میں دو سیٹیں کامیاب ہوئی ہیں اسی کے ساتھ گزشتہ الیکشن کی بہ نسبت پارٹی کے ووٹنگ فیصد میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی کی امیدواروں حمایت اور امتیاز جلیل کی ریلی نے فرقہ پرستوں کو متحد کرنے کا کام کیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ریاست میں فرقہ پرست سرکار بننے جا رہی ہے۔ جمہوری نظام میں مذہبی شدت پسندی کی جگہ نہیں ہے۔دستور کے مطابق ہمیں اِس ملک میں رہنا ہے۔مستقیم ڈگنیٹی نے اخیر میں کہا کہ سماج وادی پارٹی اپنی پالیسی اور اصولوں سے دور ہو کر عوام کی چاہت کے مطابق کام کاج کرے گی۔جلد ہی جائزہ کمیٹی تشکیل دے کر غلطیوں کی نشاندہی کے ساتھ عوامی میدان میں مزید طاقت کے ساتھ ہوگی۔پارٹی کیلئے نقصان دہ افراد سے گزارش ہیکہ اِس پہلے کہ ہم انہیں باہر کریں خود سے روانہ ہو جائیں۔انہوں نے نومنتخب رکن اسمبلی مفتی اسماعیل کو مبارکباد دی اور کہا کہ شہر کے مفاد میں تعمیری و ترقیاتی کام کریں۔فرقہ پرستوں کی سازشوں سے شہر کو محفوظ رکھنے کیلئے اسمبلی میں نمائندگی کریں۔پریس کانفرنس میں سماج وادی پارٹی کے ذمہ داران سمیت سیکنڑوں ورکرز موجود تھے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے