مفتی اسمٰعیل اگر فرقہ پرستوں کیخلاف ہیں تو دیانہ، رمضان پورہ، مالدہ اور سمکسیر کے مسلمانوں سے کہہ دیں کہ دادا بھسے کو ووٹ نہ دیں
اچھائی برائی کی بات کرنے والوں نے دارو بیچنے والوں کو کارپوریشن میں عہدہ دیا ، مفتی اسمٰعیل کو ایک بھی مسلم ڈاکٹر ٹیچر، امام حافظ نہیں دکھائی دیا
شان رسالت مآب صل اللہ علیہ وسلم کے گستاخوں کیخلاف اسمبلی میں بولنے کی بجائے بارہ نومبر میں شہر کے مسلمانوں کو پھنسانے والے مفتی اسمٰعیل ہی ہیں: آصف شیخ
سہیل ڈالریا، عبد العزیز للو سمیت درجنوں افراد آصف شیخ کا ساتھ دینے پارٹی میں شامل
مالیگاؤں: 8 نومبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) پانچ سال تک فرقہ پرست پارٹی کو سپورٹ کرنے اور ہندتوا کے نام پر بننے والی شندے سرکار سے رشوت لیکر فرقہ پرستوں کا ساتھ دینے والے مفتی اسمٰعیل نے صرف اپنا ذاتی مفاد حاصل کیا ہے ۔2007 سے لیکر اب تک مفتی اسمٰعیل نے ہمیشہ اپنے مفاد کو عزیز رکھا ہے ۔انہوں نے ایک دارو بیچنے والے کی بیوی کو کارپوریشن میں کوآپ کا ممبر بنایا، دوسرے دارو بیچنے والے کو اسٹینڈنگ چیرمین اور پھر بعد میں میئر بنایا، اور ابھی ایڈوکیٹ بورسے کو کوآپ کارپوریٹر بنایا، کیوں؟ کیا مفتی اسمٰعیل کو ایک بھی مسلمان ڈاکٹر، ٹیچر، امام حافظ نہیں دکھائی دیئے۔اس طرح کا الزام لگاتے ہوئے آصف شیخ نے مالیگاؤں کی عوام سے سوالات کیا کہ آپ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھیں کہ کون برائی کو پھیلا رہا ہے، لاکھوں روپے رشوت لیکر کارپوریشن کا عہدہ دارو بیچنے والوں کو دیا کیا یہ برائی نہیں ہے؟ آصف شیخ نے کہا کہ 2009 میں بھی ایک شخص کو میئر بنایا جس پر سمکسیر کے نوجوان کو بیٹ سے مار کر قتل کرنے کا الزام عائد ہے ۔کیوں انہیں عہدہ دیا گیا ۔کیا یہ لوگ اچھے تھے؟ یہ اچھائی ہے یا برائی؟ آصف شیخ نے کہا کہ مفتی اسمٰعیل کو روپے سے محبت ہے انہوں نے کارپوریشن سے لیکر ایم سی چناؤ،راجیہ سبھا چناؤ ،اسپیکر چناؤ اور حکومت کو سپورٹ دینے اور سپورٹ نہ دینے تک کروڑوں روپے بھارتیہ جنتا پارٹی اور شندے گروپ سے لیا ہے۔ہندتوا کے نام پر مہاوکاس اگھاڑی کو توڑ کر شندے حکومت بنائی گئی اور وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کیساتھ مفتی اسمٰعیل نے محبت کا رشتہ جوڑا، دادا بھسے کیساتھ دوستی نبھائی اور پھر پارسائی کررہے ہیں ۔آصف شیخ نے مفتی اسمٰعیل کو چیلینج کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ فرقہ پرستوں کیخلاف ہیں تو اعلان کردیں کہ دیانہ مالدہ، رمضان پورہ اور سمکسیر کے مسلمان دادا بھسے کو ووٹ نہ دیں۔
آصف شیخ نے مزید کہا کہ کولہا پور میں مسجد و درگاہ پر حملہ ہوا، قرآن شریف کی بے حرمتی کی گئی، حضور صل اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی گئی ۔مسجد میں گھس کر مارنے کا بیان دینے والے اور قلعہ جھونپڑ پٹی کو اکھاڑ پھینکنے کا متنازعہ بیان دینے والے نتیش رانے کیخلاف بھی مفتی اسمٰعیل قاسمی نے اسمبلی میں کوئی آواز نہیں اٹھائی ۔گڑھ یاترا پر فرقہ پرستوں نے جو ہنگامہ کرنے کی کوشش کی تب بھی ایم ایل اے خاموش رہے ۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے نمائندے نہیں بلکہ فرقہ پرستوں کے آلہ کار ہیں ۔ان معاملات پر مفتی اسمٰعیل خاموش رہے اور مالیگاؤں کے مسلمانوں کو بارہ نومبر معاملہ میں پھنسانے کیلئے بیان دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ پتھر لائے گئے تھے اور کُسمبا روڈ کے نوجوانوں پر الزام لگایا مفتی اسمٰعیل نے ۔آصف شیخ نے کہا کہ یہ برائی ہے مفتی اسمٰعیل شہر کے نوجوانوں کو پھنسانا چاہتے ہیں ۔انہوں نے فلسطینی پرچم لہرانے والے نوجوان سے رشتہ توڑ کر کہہ دیا کہ اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے ۔آصف شیخ نے کہا کہ یہ شہر امن پسند ہے مسجد و میناروں کا شہر ہے یہاں کے علما کرام نے قربانیاں دی ہیں ۔پاور کی صنعت سے شہر کا روزگار چل رہا ہے ۔پورا شہر مسلمانوں کی آبادی والا شہر ہے اور اس شہر کو مفتی اسمٰعیل بدنام کررہے ہیں ۔انہوں نے صرف مالیگاؤں کا نقصان کیا ہے اور اپنا فائدہ حاصل کیا ۔خواتین کی ووٹوں ۔دعاؤں اور نوجوانوں کے جذبات کو فرقہ پرست پارٹیوں کو فروخت کیا ہے ۔لہٰذا ان سب مسائل کو حل کرنے کیلئے، مالیگاؤں کی ملی شناخت کو بچانے کیلئے تعمیر و ترقی کیلئے رکشا نشانی پر ووٹ دیکر بھاری اکثریت سے مجھکو کامیاب کریں ۔اور شہر سے ناکارہ و نکمی سیاست کا خاتمہ کریں ۔
مقبول سمینٹ والا کی صدارت میں منعقدہ اس جلسہ عام میں رضوان ممبر، محمود شاہ، فاروق کالیا،شکیل احمد انقلابی، مسلم لیگ اور آل انڈیا پاور لوم تنظیم کی حمایت، راشٹریہ جنتا دل کے فاروق فردوسی، اشتیاق 42، عمیر سر وغیرہ نے تقریر کی جبکہ الطاف ضیاء نے نظم پیش کی۔عزیز للو، سہیل ڈالریا، بلے حاجی، سعید کمانڈو انصاری اجمل حاجی بالے سیٹھ کمپاؤنڈ، ناصر گلشیر پہلوان، حاجی عقیل حلوائی برداری کے صدر، سعد انصاری قلعہ، شفیق سیٹھ انجم،ناز ٹیلر سمیت درجنوں افراد کا پارٹی کے امیدوار آصف شیخ نے استقبال کیا ۔عید گاہ پر فلسطین کا جھنڈا لہرانے والے نوجوان شفیق احمد کا بھی استقبال کیا گیا ۔اس جلسہ عام میں شکاری چوک تا سلام چاچا روڈ کے آگے تک اور اطراف کی گلیوں میں عوام کو ٹھاٹھیں مارتا ہوا سروس کا سیلاب موجود تھا ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com